بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
محمد بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبیدہ سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتیوں میں سے جنت میں سب سے پیچھے داخل ہونے والا اور دوزخیوں میں سے سب سے پیچھے آگ سے نکلنے والا وہ شخص ہوگا جو گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا نکلے گا اور اس کا ربّ اس سے کہے گا: جنت میں داخل ہو تو وہ کہے گا: اے میرے ربّ! جنت تو بھری ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ ا س سے یہ بات تین بار کہے گا اور ہر دفعہ وہ اس کا یہی جواب ہوگا جنت بھر چکی ہے تو وہ کہے گا: تمہارے لئے تو دس گنا دنیا جتنی جگہ ہے۔
بن حجر نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے خیثمہ سے، خیثمہ نے حضرت عدی بن حاتمؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا ربّ اس طرح بات کرے گا کہ اس کے اور اس کے ربّ کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ وہ اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو سوائے اس عمل کے جو اس نے پہلے بھیجا تھا اور کچھ نہ دیکھے گا اور اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو سوائے اس عمل کے جو اس نے پہلے بھیجا تھا اور کچھ نہ دیکھے گا اور وہ سامنے دیکھے گا تو وہ سوائے آگ کے کچھ نہ دیکھے گا جو اس کے منہ کے سامنے ہوگی۔ اس لئے آگ سے بچو گو کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہی۔ اعمش نے کہا: اور عمرو بن مرہ نے خیثمہ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے اسی طرح بیان کیا اور انہوں نے اس میں اتنا ہی بڑھایا گو ایک اچھی بات ہی کہہ کر۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبیدہ سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: یہودیوں کا ایک عالم آیا اور کہنے لگا: بات یہ ہے کہ جس دن قیامت ہوگی تو اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا اور ان کو ملائے گا اور کہے گا کہ میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ اتنا ہنسے کہ آپؐ کے دانت نظر آئے بوجہ تعجب کے اور اس کی بات سچا سمجھنے کے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ…۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے صفوان بن محرز سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اللہ تعالیٰ کے) راز و نیاز کے متعلق فرماتے آپؓ نے کیا سنا؟ انہوں نے کہا: تم میں سے ایک اپنے ربّ کے اتنا قریب ہوگا کہ وہ اس پر اپنا پہلو جھکا دے گا اور پوچھے گا: کیا تم نے ایسا ایسا کیا؟ وہ کہے گا: ہاں اور پوچھے گا: کیا تم نے ایسا ایسا کیا؟ وہ کہے گا: ہاں اور وہ اس سے اقرار کرائے گا۔ پھر فرمائے گا: میں نے دنیا میں تجھ پر پردہ پوشی کی اور آج میں انہی گناہوں پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے تمہاری مغفرت کرتا ہوں۔ اور آدم نے کہا: شیبان نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ نے ہمیں بتایا کہ صفوان نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ عقیل نے ہم سے بیان کیا۔ عقیل نے ابن شہاب سےروایت کی کہ حمید بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا، حمید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمؑ اور موسیٰؑ نے آپس میں بحث کی۔ تو موسیٰؑ نے کہا: آپ وہی آدم ہیں نا جس نے اپنی ذریت کو جنت سے نکال دیا۔ آدمؑ نے کہا: آپ وہی موسیٰؑ ہیں جس کو اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے برگزیدہ کیا۔ پھر آپ ایسی بات پر مجھے ملامت کرتے ہیں جو میری پیدائش سے بھی پہلے میرے لیے مقدر ہو چکی تھی۔ چنانچہ آدمؑ موسیٰؑ پر غالب آگئے۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز مومنوں کو اکٹھا کیا جاوے گا اور وہ کہیں گے کہ کاش ہم اپنے ربّ کے حضور سفارش کرائیں اور وہ ہمیں ہماری اس حالت سے آرام دے۔ اس پر وہ حضرت آدمؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپؑ آدم ہیں جو تمام بشر کے باپ ہے۔ اللہ نے اپنے ہاتھ سے آپؑ کو پیدا کیا اور ملائکہ سے آپؑ کو سجدہ کروایا اور ہر شے کے نام آپؑ کو سکھائے اس لئے اپنے ربّ کے حضور سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اس تکلیف سے رہائی دے۔ تو وہ ان سے کہیں گے کہ میں اس مقام پر نہیں ہوں۔ وہ ان سے اپنی وہ غلطی بیان کریں گے جو وہ کر بیٹھے۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شریک بن عبداللہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:میں نے (حضرت انس) بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جس رات رسول اللہﷺ کو کعبہ کی مسجد سے اسراء کرایا گیا تو آپؐ کے پاس تین شخص آئے۔ یہ آپؐ کو وحی کئے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے اور آپؐ اس وقت مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ تو ان میں سے ایک نے کہا کہ ان میں سے وہ کونسا ہے ؟ تو ان میں سے درمیان کا شخص بولا: وہ جو اُن میں سے بہتر ہے۔ تو ان میں سے پچھلے شخص نے کہا: ان میں سے اس کو لے لو جو ان میں سے بہتر ہے۔ تو اس رات اتنا ہی واقعہ ہوا۔ پھر آپؐ نے ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ آپؐ کے پاس ایک اور رات آئے اس حالت میں کہ جس میں آپؐ کا دل دیکھ رہا ہوتا اور آپؐ کی آنکھ سوئی ہوئی ہوتی اور آپؐ کا دل نہ سویا کرتا اور اسی طرح تمام نبی ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور ان کے دل نہیں سوتے۔ انہوں نے آپؐ سے بات نہیں کی اور آپؐ کو اٹھا کر لے گئے اور زمزم کے پاس لے جاکر اُتار دیاتو ان میں سے جبریلؑ نے یہ کا م اپنے ذمہ لیا ۔ جبریلؑ نے آپؐ کے گلے سے لے کر سینہ\ تک چیر ڈالا اور سینے اور آپؐ کے پیٹ کو خالی کر دیا۔ پھر جبریلؑ نے اس کو اپنے ہاتھ سے زمزم کے پانی سے دھویا یہاں تک کہ آپؐ کے اندرونے کو صاف ستھرا کر دیا۔ پھر سونے کا ایک طشت لایا گیا جس میں سونے کا آفتابہ تھا جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے آپؐ کا سینہ اور آپؐ کے حلق کی رگیں اس سے بھر دیں۔ پھر اس کو جوڑ کر بند کردیا۔ پھر سب سے نچلے آسمان کی طرف آپؐ کو اٹھا کر لے گئے اور اس کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھٹکھٹایا تو اہلِ آسمان نے ان کو آواز دی: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبریل۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ اور کون ہے؟ انہوں نے کہا: میرے ساتھ محمدؐ ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا ان کو بلا بھیجا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ تو انہوں نے کہا: تو پھر یہ خوشی سے آئیں اور اپنے لوگوں میں آئیں۔ آسمان والے آپؐ کے آنے سے خوش ہو رہے تھے۔ آسمان والے نہیں جانتے جب تک کہ اللہ ان کو نہ آگاہ کرے کہ وہ زمین میں محمد ﷺ کے ذریعہ سے کیا کچھ کرنا چاہتا ہے۔ پھر آپؐ نے نچلے آسمان میں حضرت آدمؑ کو پایا۔ حضرت جبریلؑ نے آپؐ سے کہا: یہ آپؐ کے باپ ہیں۔ آپؐ انہیں سلام کریں۔ آپؐ نے سلام کیا اور حضرت آدمؑ نے آپؐ کو سلام کا جواب دیا اور کہا: خوشی سے آؤ میرے بیٹے اپنے لوگوں میں آؤ۔ کیا اچھے بیٹے ہو تم۔ تو آپؐ نے نچلے آسمان میں دو ندیاں بہتی ہوئی دیکھیں۔ آپؐ نے پوچھا: جبریل! یہ دو ندیاں کیا ہیں؟ جبریلؑ نے کہا: یہ جو نیل اور فرات ہیں یہ ندیاں ان کی اصل ہیں۔ پھر جبریلؑ آپؐ کو آسمان میں آگے لے گئے تو آپؐ نے ایک اور ندی دیکھی جس پر موتی اور زمرد کا ایک محل تھا۔ آپؐ نے اس پر اپنا ہاتھ مارا تو پھر کیا تھا کہ وہ مشک ہے۔ آپؐ نے پوچھا: جبریل یہ کیا ہے؟ جبریلؑ نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو آپؐ کے ربّ نے آپؐ کے لئے چھپا رکھا ہے۔ پھر آپؐ دوسرے آسمان پر اوپر گئے اور فرشتوں نے جبریلؑ سے وہی پوچھا جو ان سے پہلوں نے پوچھا۔ یعنی یہ کون ہے؟ کہا: جبریل۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ۔ پوچھا: کیا انہیں بلابھیجا ہے؟ جبریلؑ نے کہا: ہاں۔ فرشتوں نے کہا: خوشی سے آئیں اور اپنے لوگوں میں آئیں۔ پھر جبریلؑ آپؐ کو لے کر تیسرے آسمان پر چڑھ گئے اور انہوں نے بھی ویسے ہی کہا جو پہلوں اور دوسروں نے کہا تھا۔ پھر آپؐ کو لے کر چوتھے آسمان پر چڑھ گئے۔ تو انہوں نے بھی ان سے ویسے ہی کہا۔ پھر وہ آپؐ کو لے کر پانچویں آسمان پر چڑھ گئے۔ انہوں نے بھی ویسے ہی کہا۔ پھر آپؐ کو چھٹے آسمان پر لے گئے۔ انہوں نے بھی ویسے ہی کہا۔ پھر آپؐ کو ساتویں آسمان پر لے گئے۔ انہوں نے بھی ویسے ہی کہا۔ ہر ایک آسمان میں نبی تھے۔ آپؐ نے ان کا نام بھی لیا اور میں نے ان میں سے حضرت ادریسؑ کو یاد رکھا جو دوسرے آسمان میں تھے اور حضرت ہارونؑ کو جو چوتھے میں تھے۔ اور ایک نبی جو پانچویں میں تھے ان کا نام مجھے یاد نہیں رہا اور حضرت ابراہیمؑ کو جو چھٹے میں تھے اور حضرت موسیٰؑ کو جو ساتویں میں تھے جنہیں اللہ تعالیٰ کے کلام سے فضیلت دی گئی تھی۔ حضرت موسیٰؑ نے کہا: اے میرے ربّ! میں نے یہ گمان نہیں کیا کہ مجھ سے بھی کسی کو بلند کیا جائے گا۔ پھر جبریلؑ آپؐ کو اس سے بھی اوپر لے گئے جس کا حال اللہ ہی جانتا ہے۔ یہاں تک کہ آپؐ سدرة المنتہیٰ کے پاس آئے اور جبار ربّ العزت قریب ہوا اور اتنا نیچے اترا کہ آپؐ سے دو کمان کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلے پر ہو گیا اور اللہ نے منجملہ اس وحی کے جو آپؐ کو کی، یہ وحی بھی کی کہ پچاس نمازیں آپ کی امت پر رات دن میں ہوں گی۔ پھر آپؐ نیچے اترے یہاں تک کہ آپؐ حضرت موسیٰؑ کے پاس پہنچے ۔ تو حضرت موسیٰؑ نے آپؐ کو روک لیا۔ کہنے لگے:محمد! تمہارے ربّ نے تمہیں کیا حکم دیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: رات دن میں پچاس نمازوں کا مجھے حکم دیا ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے کہا: تمہاری امت یہ نہیں کر سکے گی۔ اس لئے واپس جاؤ اور تمہارا ربّ تم سے اور لوگوں سے تخفیف کرے۔نبی ﷺ نے جبریلؑ کی طرف مڑ کر دیکھا جیسے کہ آپؐ ان سے اس کے متعلق مشورہ پوچھتے ہیں۔ جبریلؑ نے آپؐ سے اشارہ کیا: ہاں،اگر آپؐ چاہیں، وہ آپؐ کو جبار کے پاس اوپر لے گئے تو آپؐ نے اسی جگہ پر کھڑے ہو کر کہا: اے میرے ربّ! ہم سے تخفیف فرما کیونکہ میری اُمت یہ نہیں کر سکے گی۔ تب اللہ نے آپؐ سے دس نمازیں کم کر دیں۔ پھر آپؐ حضرت موسیٰؑ کی طرف لوٹے اور انہوں نے آپؐ کو روک لیا۔ حضرت موسیٰؑ آپؐ کو اسی طرح آپؐ کے ربّ کے پاس واپس بھیجتے رہے یہاں تک کہ پانچ نمازیں رہ گئیں۔ پانچ نمازوں پر بھی حضرت موسیٰؑ نے آپؐ کو روک لیا اور کہنے لگے: محمدؐ! اللہ کی قسم!میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اس سے کم پر بھی ترغیب دے کر منوانا چاہا مگر وہ نہ کر سکے اور انہوں نے اس کو چھوڑ دیا اور تمہاری امت تو بلحاظ جسموں اور دلوں اور بدنوں اور آنکھوں اور کانوں کے تو بہت کمزور ہے اس لئے تم واپس جاؤ تا کہ تمہارا ربّ تم سے تخفیف کرے۔ ہر دفعہ نبی ﷺ جبریلؑ کو مڑ کر دیکھتے تا کہ وہ آپؐ کو اس بات میں مشورہ دیں اور جبریلؑ بھی اس بات کو ناپسند نہ کرتے اور وہ پانچویں بار آپؐ کو لے گئے اور آپؐ نے کہا: اے میرے ربّ! میری امت کی یہ حالت ہے کہ ان کے جسم اور ان کے دل اور ان کی آنکھیں اور ان کے بدن کمزور ہیں اس لئے ہم سے تخفیف فرما۔ جبار نے کہا: محمد! آپؐ نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اور آپ کی خدمت میں ہوں۔ فرمایا: میرے حضور بات نہیں تبدیل کی جائے گی۔ اسی طرح ہوگا جیسا کہ میں نے تم پر اُم الکتاب میں فرض کر دیا ہے۔ فرمایا: ہر نیکی کا دس گنا بدلہ ہو گا۔ تو نمازیں اُم الکتاب میں پچاس ہی ہیں اور تم پر پانچ فرض کی گئی ہیں۔ یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰؑ کی طرف لوٹے اور انہوں نے پوچھا: آپؐ نے کیا کہا؟ تو آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے تخفیف کر دی ہے۔ ہر نیکی کے بدلے اس نے ہمیں دس گنا ثواب دیا ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو اس سے بھی کم پر بنی اسرائیل کو ترغیب دے کر منوانا چاہا اور انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔ اپنے ربّ کے پاس لوٹو تاکہ تم سے کچھ اور تخفیف کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ! اللہ کی قسم! مجھے اپنے ربّ سے بوجہ اس کے کہ میں اس کے پاس بار بار آیا گیا ہوں شرم محسوس ہوتی ہے۔ حضرت جبریلؑ نے کہا: اب اللہ کا نام لے کر اترو۔ (راوی نے) کہا: آپؐ جاگ گئے اور آپؐ مسجد حرام میں ہی تھے۔
(تشریح)یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے مجھے بتایا، کہا: مالک نے مجھ سے بیان کیا۔ مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جنتیوں سے فرمائے گا: اے جنت والو! اور وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! ہم تیرے پاس حاضر ہیں اور تیری خدمت میں ہیں اور ساری کی ساری بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ وہ پوچھے گا: کیا تم خوش ہوگئے؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! ہمیں کیا ہے کہ ہم خوش نہ ہوں حالانکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کیا ہے جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں کیا۔ پھر فرمائے گا: کیا میں اس سے بڑھ کر تمہیں نہ دوں؟ وہ کہیں گے: اے میرے ربّ! اس سے بڑھ کر اور کون سی چیز ہوگی؟ فرمائے گا: میں تمہیں اپنی رضا مندی کا مورد بناتا ہوں۔ اب اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔
محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح نے ہمیں بتایا۔ ہلال نے ہم سے بیان کیا۔ ہلال نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باتیں کر رہے تھے اور اس وقت آپؐ کے پاس اہل بادیہ میں سے ایک شخص تھا، کہ جنتیوں میں سے ایک شخص نے کھیتی باڑی کرنے کی اجازت مانگی تو پروردگار نے اس سے فرمایا: کیا تمہیں وہ سب کچھ نہیں ملا جو تم نے چاہا؟ اس نے کہا: بے شک مگر میں کھیتی باڑی کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے جلدی سے زمین کو تیار کیا اور بیج بویا، آنکھ جھپکنے سے پہلے پہلے وہ اُگی اور پک کر تیار ہوگئی اور کٹ گئی اور پہاڑوں کی طرح ڈھیر بھی لگ گئے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم! لو سنبھالو کیونکہ تمہیں کوئی چیز بھی سیر نہیں کرتی۔ تو وہ بدوی بولا: یا رسول اللہ! آپؐ اس شخص کو قریشی یا انصاری ہی پائیں گے کیونکہ یہی لوگ زراعت پیشہ ہیں اور ہم جو ہیں تو ہم تو زراعت پیشہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ہنس پڑے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے عمرو بن شرحبیل سے، عمرو نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کونسا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ کا ہمسر ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ میں نے کہا: واقعہ میں یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تو اپنی اولاد کو مار ڈالے، تم اس سے ڈرتے ہو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ نہ کھائے۔ میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے ہمسایہ کی جورو سے زنا کرے۔
(تشریح)