بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ زُہری نے ہم سے بیان کیا۔ زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے کہ وہ زمانہ کو بُرا بھلا کہتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہوں۔ میرے ہی ہاتھ میں یہ سارا سلسلہ ہے رات اور دن کو میں ہی الٹتا پلٹتا ہوں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی۔ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا کہ اعرج نے ان کو بتایا، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے ہیں: ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں۔ قیامت کے روز سب سے آگے ہوں گے۔
اور اسی اسناد سے مروی ہے کہ اللہ نے فرمایا: تم خرچ کرو، میں تم پر خرچ کروں گا۔
زُہیر بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ ابن فضیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمارہ سے، عمارہ نے ابوزُرعہ سے،ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ (حضرت جبریلؑ نے) کہا: یہ خدیجہ ہیں جو آپؐ کے پاس برتن لائی ہیں جس میں کچھ کھانا ہے یا (کہا:) برتن لائی ہیں جس میں پینے کی چیز ہے۔ آپؐ اُن کو ان کے ربّ کی طرف سے سلام کہیں اور انہیں خولدار موتیوں کے گھر کی بشارت دیں جس میں کوئی شور و غل نہیں اور نہ کوئی رنج ہے۔
معاذ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل پر اس کا خیال گزرا۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا۔ (کہا:) اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: روزہ میرے لئے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔وہ (روزہ دار) اپنی خواہش اور اپنا کھانا اور اپنا پینا میری خاطر چھوڑتا ہے اور روزہ ایک سپر ہوتا ہے اور روزہ دار کو دو خوشیاں ہوتی ہیں۔ ایک خوشی اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے اور ایک خوشی اس وقت جب وہ اپنے ربّ سے ملتا ہے ۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہوتی ہے۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اسی اثنا میں کہ حضرت ایوبؑ ننگے نہا رہے تھے، سونے کی ٹڈیوں کا ایک دَل ان پر آگرا تو وہ لپ بھر بھر کر اپنے کپڑے میں ڈالنے لگے۔ ان کے ربّ نے پکارا: ایوب! کیا میں نے تمہیں غنی نہیں کردیا تھا اس سے جو تم دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: بےشک، اے میرے ربّ۔ مگر تیری برکت سے مجھے بے نیازی نہیں ہو سکتی۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوعبداللہ اغر سے، ابوعبداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا ربّ تبارک و تعالیٰ ہر رات سب سے نچلے آسمان پر اُترتا ہے، اس وقت جبکہ رات کی آخری تہائی باقی رہ جاتی ہے اور فرماتا ہے: مجھ سے کون دعا کرے گا کہ میں اس کی قبول کروں؟ مجھ سے کون مانگے گا کہ میں اس کو دوں؟ مجھ سے کون مغفرت مانگے گا کہ میں اس کی مغفرت کروں؟
محمود نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہمیں خبر دی۔ سلیمان احول نے مجھ سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا:) کہ طاؤس نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لئے اٹھتے تو فرماتے: اے اللہ! تیری سب خوبیاں ہیں، تو ان آسمانوں اور اس زمین کا نور ہے، تیری سب خوبیاں ہیں، تو ان آسمانوں اور اس زمین کو قائم رکھنے والا ہے، تیری سب خوبیاں ہیں، تو ان آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے اور ان کا بھی جو اِن میں ہیں، تو حق ہے تیرا وعدہ حق ہے اور تیرا قول حق ہے اور تجھ سے ملنا حق ہے اور جنت بھی حق ہے اور آگ بھی حق ہے اور تمام نبی سچے ہیں اور وہ گھڑی بھی اٹل ہے۔ اے اللہ! میں نے اپنے تئیں تیرے سپرد کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسہ کیا اور تیری طرف جھکا اور تیرے حضور ہی میں نے (اپنا) جھگڑا پیش کیا اور تیرے حضور ہی میں نے فیصلہ چاہا۔ جو پہلے میں کر چکا ہوں اس پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس سے درگزرفرما اورنیز اس سے بھی جو میں نے ابھی نہیں کیا اور نیز اس سے بھی جسے میں نے پوشیدہ رکھا اور اس سے بھی جس کا میں نے اظہار کیا تو ہی میرا معبود ہے کوئی معبود نہیں مگر تو ہی۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر نمیری نے ہمیں بتایا۔ یونس بن یزید ایلی نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے زُہری سے سنا۔ (زہری نے) کہا: میں نے عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہؓ کے واقعہ کے متعلق سنا جبکہ بہتان باندھنے والوں نے ان کے متعلق وہ بہتان باندھا تھا جو انہوں نے باندھا اور اللہ نے ان کو ان کی افترا پردازی سے بَری کیا اور ہر ایک نے مجھے اس حدیث کا ایک ٹکڑا بیان کیا جو انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتائی تھی۔ آپؓ فرماتی تھیں: لیکن اللہ کی قسم میں گمان نہیں کرتی تھی کہ اللہ میری برأت کے متعلق کوئی وحی نازل کرے گا جو پڑھی جائے گی اور میرے دل میں میری شان اس سے بہت حقیر تھی کہ اللہ میرے متعلق کوئی ایسی بات کرے جس کو پڑھا جائے گا۔ البتہ میں یہ امید رکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کوئی ایسی خواب دیکھیں کہ جس کے ذریعہ سے اللہ مجھے بری قرار دے تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ…۔ دس آیات تک۔