بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ منصور نے ہم سے بیان کیا۔ منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے ابومعمر سے، ابومعمر نے حضرت عبداللہ ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بیت اللہ کے پاس دو ثقفی اور ایک قریشی یا (کہا:) دو قریشی اور ایک ثقفی اکٹھے ہوئے۔ ان کے پیٹوں کی چربیاں بہت تھیں، ان کی عقلوں کی سمجھ کم تھی ۔ ان میں سے ایک نے کہا: بھلا بتلاؤ تو سہی کہ اللہ سنتا ہے جو ہم کہتے ہیں۔ دوسرے نے کہا: سنتا ہے اگر ہم اُونچا بولیں اور اگر ہم چھپ کر بات کریں تو نہیں سنتا اور دوسرا بولا: اگر وہ ایسا ہے کہ جب ہم اُونچا بولیں تو وہ سنتا ہے تو پھر وہ ضرور اُس وقت بھی سنتا ہے جب ہم چھپ کر بات کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: یعنی اور تم اپنے عیب اس خوف سے نہیں چھپایا کرتے تھے کہ کہیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے تمہارے خلاف گواہی نہ دے دیں۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم بن وردان نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: تم اہل کتاب سے ان کی کتابوں کے متعلق کیوں پوچھتے ہو حالانکہ تمہارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے جو اللہ کی طرف سے تمام کتابوں میں سے زیادہ قریب زمانے کی ہے تم اسے پڑھتے ہو وہ خالص ہےاس میں کوئی ملونی نہیں کی گئی۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: یہ آیت کہ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا دعا کے متعلق نازل ہوئی تھی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے کہا: اے مسلمانوں کے گروہ ! تم اہل کتاب سے کسی بات کے متعلق کیسے پوچھتے ہو جبکہ تمہاری کتاب جو اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی، اللہ کے متعلق سب سے نئی خبریں دینے والی ہے(موجود ہے،) خالص ہے اُس میں کوئی ملونی نہیں کی گئی اور اللہ بتا بھی چکا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں میں تبدیلی کردی ہے اور انہیں کچھ سے کچھ کردیا ہے اور اپنے ہاتھوں سے انہیں لکھا اور کہہ دیا کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے تا کہ اس ذریعہ سے تھوڑی سی قیمت لیں۔ جو علم تمہارے پاس آیا ہے، کیا یہ تمہیں ان کے پوچھنے سے نہیں روکتا؟ اللہ کی قسم! ہم نے ان میں سے کبھی بھی کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس کتاب کے متعلق پوچھتا ہو جو تم پر نازل کی گئی۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے، موسیٰ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ کے متعلق روایت کی۔حضرت ابن عباس ؓنے کہا: نبی ﷺ وحی کے نازل ہونے سے سخت تکلیف اٹھایا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔ حضرت ابن عباسؓ نے مجھ سے کہا: میں تمہیں ہونٹ اس طرح ہلا کر دکھاتا ہوں جس طرح رسول اللہ ﷺ ہونٹ ہلا یا کرتے تھے۔ سعید نے کہا: میں ہونٹ اس طرح ہلاتا ہوں جس طرح حضرت ابن عباسؓ نے ہلایا اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی: (اے نبی) تُو اپنی زبان کو حرکت نہ دے تاکہ یہ قرآن جلدی نازل ہو جائے۔ اس کا جمع کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے اور اس کا دنیا کے سامنے سنانا بھی (ہمارے ذمہ ہے)۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: جَمْعُهُ مراد ہے کہ آپؐ کے سینے میں اس کو محفوظ کرنا۔ پھر اس کے بعد تم اسے پڑھو اور فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ۔ (پس جب ہم اسے پڑھ لیا کریں تو ہمارے پڑھنے کے بعد تُو بھی پڑھ لیا کر) حضرت ابن عباسؓ نے کہا: اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو۔ پھر ہمارے ہی ذمہ ہوگا کہ تو اس کو پڑھے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: چنانچہ رسول اللہ ﷺ جب جبریل علیہ السلام آپؐ کے پاس آتے تو غور سے سنتے۔ جب جبریلؑ چلے جاتے تو نبی ﷺ اسی طرح پڑھتے جس طرح جبریلؑ نے آپؐ کو پڑھایا ہوتا۔
(تشریح)عمرو بن زرارہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ہشیم سے روایت کی کہ ابوبشر نے ہمیں خبر دی۔ ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا کے متعلق روایت کی، کہا: یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مخفی رہتے تھے۔ تو آپؐ جب اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے ہوئے قرآن پڑھنے میں اپنی آواز کو بلند کرتے، مشرک آپؐ کی آواز سنتے تو قرآن کو بُرا بھلا کہتے اور اس کو بھی جس نے اس کو نازل کیا اور اس کو بھی جو اسے لایا۔ اس لئے اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ یعنی اپنی قرأت کو اونچا نہ پڑھو ورنہ مشرک سنیں گے اور قرآن کو بُرا بھلا کہیں گے اور نہ اپنے ساتھیوں سے اتنا دھیما پڑھو کہ تو ان کو سنائے بھی نہ۔ وَ ابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۔ یعنی اس کے درمیان کی راہ اختیار کر۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک نہیں کرنا چاہیئے مگر دو شخصوں کے متعلق۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا ہو وہ اس کو رات کے اوقات میں اور دن کے اوقات میں بھی پڑھتا ہے اور کوئی کہے اگر مجھے بھی ویسا ہی دیا جائے جو اس شخص کو دیا گیا ہے تو میں بھی ویسا ہی کروں جیسا یہ کرتا ہے اور ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اس کو جہاں خرچ کرنے کا حق ہے خرچ کرتا ہو اور کوئی کہے اگر مجھے بھی ویسا ہی دیا جائے تو میں بھی اس سے یہی کروں جو یہ کرتا ہے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ زُہری نے سالم سے روایت کرتے ہوئے کہا۔ سالم نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: رشک نہ ہو مگر دو شخصوں کے متعلق ہی۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا ہو اور اور وہ اسے رات کے اوقات میں بھی اور دن کے اوقات میں بھی پڑھتا ہو اور ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو وہ اسے رات کے اوقات میں بھی اور دن کے اوقات میں بھی خرچ کرتا ہو۔(علی بن عبد اللہ نے کہا:) میں نے سفیان سے کئی بار یہ سنا میں نے ان کو (لفظ اَخْبَرَنَا یا حَدَّثَنَا کے ساتھ)ذکر کرتے نہیں سنا کہ زُہری نے یہ خبردی اور باوجود اس کے یہ ان کی صحیح حدیثوں میں سے ہے۔
(تشریح)فضل بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن جعفر رقی نے ہمیں بتایا۔ معتمر بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن عبیداللہ ثقفی نے ہمیں بتایا۔ بکر بن عبداللہ مزنی اور زیاد بن جبیر (بن حیہ) نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے جبیر بن حیہ سے روایت کی کہ حضرت مغیرہؓ نے کہا: ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے ہمارے ربّ کے پیغام کی بنا پر ہمیں یہ خبر دی ہے کہ ہم میں سے جو شخص مارا جائے گا وہ جنت کو سِدھارے گا۔