بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سے، اسماعیل نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: جو شخص تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چھپا لیا تھا۔ اور محمد (بن یوسف فریابی) نے کہا: ابو عامر عقدی نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے اسماعیل بن ابی خالد سے، اسماعیل نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ کہتی تھیں کہ جو تم سے یہ بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی سے کچھ چھپا رکھا تھا تو اس کو سچا مت سمجھو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یعنی اے رسول! تیرے ربّ کی طرف سے جو (کلام بھی) تجھ پر اُتارا گیا ہے اُسے (لوگوں تک) پہنچا، اور اگر تُو نے (ایسا) نہ کیا تو (گویا) تُو نے اُس کا پیغام (بالکل) نہیں پہنچایا۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ محمد بن زیاد نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ربّ سے اس کو روایت کرتے تھے کہ اس نے فرمایا: ہر عمل کا ایک کفارہ ہوتا ہے اور روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور روزے دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے عمرو بن شرحبیل سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہؓ کہتے تھے: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کا ہمسر ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ فرمایا: یہ کہ تم اپنی اولاد کو مار ڈالو اس خوف سے کہیں تمہارے ساتھ کھائے۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ اپنے پڑوسی کی جورو سے تم زنا کرو۔ پھر اللہ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی: یعنی اور وہ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی جان کو جسے اللہ نے حفاظت بخشی ہو قتل کرتے ہیں سوائے (شرعی) حق کے اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کام کرے گا وہ اپنے گناہ کی جزا کو دیکھ لے گا۔ قیامت کے دن اس کے لئے عذاب زیادہ کیا جائے گا۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے زہری سے روایت کی کہ سالم نے مجھے بتایا۔ سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری عمر اُن امتوں کے مقابل پر جو گزر چکی ہیں اتنا ہی عرصہ ہے جتنا کہ عصر کی نماز سے لے کر سورج کے ڈوبنے تک ہوتا ہے۔ تورات والوں کو تورات دی گئی اور وہ اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ دوپہر ہوگئی۔پھر وہ عاجز آ گئے اور انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی اور وہ اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ عصر کی نماز پڑھی گئی۔ پھر وہ بھی عاجز آ گئے اور انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور تمہیں دو دو قیراط دئیے گئے۔ اہل کتاب نے کہا: یہ ہم سے تھوڑا کام کرنے والے ہیں اور زیادہ مزدوری لینے والے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے حق سے کچھ کم کر کے تمہیں دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو اللہ نے فرمایا: پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔
(تشریح)سلیمان نے مجھ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ولید سے روایت کی اور عباد بن یعقوب اسدی نے مجھ سے بیان کیا کہ عباد بن عوام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شیبانی سے، شیبانی نے ولید بن عیزار سے، ولید نے ابوعمرو شیبانی سے، ابوعمرو نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: عملوں میں سے کون سا عمل سب سے بڑھ کر ہے؟ فرمایا: نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا اور والدین سے حسنِ سلوک کرنا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
(تشریح)ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسن سے روایت کی کہ حضرت عمرو بن تغلبؓ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے پاس کچھ مال آیا تو آپؐ نے بعض لوگوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا۔ پھر آپؐ کو خبر پہنچی کہ وہ خفا ہو گئے ہیں تو آپؐ نے فرمایا: میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور ایک شخص کو چھوڑتا ہوں حالانکہ وہ جس کو چھوڑتا ہوں وہ مجھے زیادہ پیارا ہوتا ہے بنسبت اس شخص کے جس کو میں دیتا ہوں۔ بعض لوگوں کو اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دل میں بے صبری اور لالچ ہوتا ہے اور بعض لوگوں کو اس بے نیازی اور بھلائی کے سپرد کردیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں رکھی ہوتی ہے۔ ان لوگوں میں سے عمرو بن تغلبؓ بھی ہیں۔ حضرت عمروؓ نے کہا:میں پسند نہیں کرتا کہ رسول اللہ ﷺ کے کلمہ کے بدلے میرے لئے سرخ رنگ کے اُونٹ ہوں۔
محمد بن عبدالرحیم نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوزید سعید بن ربیع ہروی نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ اپنے ربّ عز وجل سے روایت کرتے تھے۔ اس نے فرمایا: جب (میرا)بندہ میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک باع قریب ہوجاتا ہوں اور جب وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ مسدد نے یحيٰ سے، یحيٰ نے تیمی سے، تیمی نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: کئی بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا، فرمایا: جب (میرا) بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوجاتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس کے ایک باع قریب ہوتا ہوں باع کا لفظ بولا یا (کہا:) بوع۔ اور معتمر نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ اپنے ربّ عزوجل سے بیان کرتے تھے۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ اور خلیفہ نے مجھ سے کہا: یزید بن زریع نے ہم سے بیان کیا۔ یزید نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالعالیہ سے، ابوالعالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ منجملہ ان باتوں کے جو آپؐ اپنے ربّ سے روایت کرتے تھے، آپؐ نے فرمایا: کسی بندے کو یوں نہیں کہنا چاہیئے کہ وہ یونس بن متیٰ سے اچھا ہے اور آپؐ نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔
احمد بن ابی سریج نے ہم سے بیان کیا کہ شبابہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے معاویہ بن قرہ مزنی سے، معاویہ نے حضرت عبداللہ بن مغفل مزنیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن ایک اونٹنی پر سوار دیکھا جو آپؐ کی تھی۔ آپؐ سورة فتح پڑھ رہے تھے یا (کہا:) سورة فتح سے پڑھ رہے تھے۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا: آپؐ نے اس قراءت کو ترجیع سے پڑھا۔ (شعبہ نے) کہا: یہ کہہ کر معاویہ نے حضرت ابن مغفلؓ کی قراءت کی نقل کرتے ہوئے پڑھا اور کہنے لگے: اگر یہ خیال نہ ہو کہ لوگ تمہارے پاس اکٹھے ہوجائیں گے تو میں اسی طرح ترجیع سے پڑھوں جس طرح حضرت ابن مغفلؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرتے ہوئے ترجیع سے پڑھا۔ میں نے معاویہ سے پوچھا: حضرت ابن مغفلؓ نے کس طرح ترجیع سے پڑھا؟ تو انہوں نے کہا: آ آ آ تین بار۔
(تشریح)