بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے رات اور دن کھلے ہاتھوں خرچ کرنا اس میں سے گھٹاتا نہیں اور فرمایا: بھلا تم نے دیکھا کہ جب سے اس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اس نے کتنا کچھ خرچ کیا۔ اس خرچ نے بھی اس خزانے کو کم نہیں کیا جو اس کے ہاتھ میں ہے اور فرمایا: اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جھکاتا بھی ہے اور اُٹھاتا بھی ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: کیا تمہارے پاس قرآن میں سے کوئی شے ہے؟ اُس نے چند سورتوں کا نام لے کر کہا: ہاں فلاں فلاں سورة۔
مقدم بن محمد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے چچا قاسم بن یحيٰ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن زمین کو سمیٹ لے گا اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ اس حدیث کو سعید نے مالک سے روایت کیا۔
اور عمر بن حمزہ نے کہا: میں نے سالم سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت ابن عمرؓ سے سنا۔ حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی۔ اور ابوالیمان نے کہا: شعیب نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ (زہری نے کہا:) ابوسلمہ نے مجھے خبردی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ زمین کو سمیٹ لے گا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید سے سنا۔ یحيٰ نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ منصور اور سلیمان نے مجھ سے بیان کیا۔ ان دونوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبیدہ سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی کہ ایک یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)! اللہ ان آسمانوں کو ایک انگلی پر اور ان زمینوں کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا۔ پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپؐ کے دانت نظر آئے۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: اُن لوگوں نے اللہ (کی صفات) کا اندازہ اس طرح نہیں کیا تھا جس طرح کرنا چاہیئے۔ یحيٰ بن سعید نے کہا کہ فضیل بن عیاض نے اس حدیث میں یہ بڑھایا۔ منصور سے مروی ہے کہ انہوں نے ابراہیم سے،ابراہیم نے عبیدہ سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے بوجہ تعجب کے اور اس لئے کہ اس کو سچا سمجھا۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے علقمہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت عبداللہؓ نے کہا: اہل کتاب میں سے ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابوالقاسم! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا اور پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ اتنا ہنسے کہ آپؐ کے دانت دکھائی دئیے۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: اُن لوگوں نے اللہ (کی صفات) کا اندازہ اس طرح نہیں کیا تھا جس طرح کرنا چاہیئے۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل تبوذکی نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالملک نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالملک نے ورّاد سے، جو حضرت مغیرہؓ کے منشی تھے، روایت کی کہ حضرت مغیرہؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت سعد بن عبادہؓ کہتے تھے: اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھوں تو میں اس کو تلوار سے اڑادوں جو خطا نہ جائے۔ یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپؐ نے فرمایا کہ سعد کی غیرت سے تم تعجب کرتے ہو۔ اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اللہ کی غیرت کی وجہ ہی ہے جو اس نے فحش باتوں کو حرام کیا وہ بھی جو کھلی کھلی ہیں اور وہ بھی جو چھپی ہوئی ہیں اور کوئی بھی ایسا نہیں جس کو اللہ سے بڑھ کر معذرت پسند ہو اور اسی وجہ سے اس نے خوشخبردی دینے والوں اور ڈرانے والوں کو بھیجا ہے اور کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر تعریف زیادہ پسند ہو اور اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابوحمزہ سے روایت ہے۔ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے جامع بن شداد سے، جامع نے صفوان بن محرز سے، صفوان نے حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب آپؐ کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے۔ آپؐ نے فرمایا: اے بنو تمیم! خوشخبری کو قبول کرلو۔ انہوں نے کہا: آپؐ نے ہمیں خوشخبری دی ہے، ہمیں کچھ دیں بھی۔ پھر اہل یمن سے کچھ لوگ اندر آئے۔ آپؐ نے فرمایا: یمن والو تم خوشخبری کو قبول کر لو۔ جبکہ بنو تمیم نے اس کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: ہم نے قبول کی۔ ہم آپؐ کے پاس اس لئے آئے ہیں تا دین کی سمجھ حاصل کریں اور تا آپؐ سے اس سلسلہ کون کی ابتدا کے متعلق دریافت کریں کہ پہلے کیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تھا اور اس سے پہلے کوئی شے نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ذکر میں ہر شے لکھ دی۔ (حضرت عمرانؓ کہتے تھے کہ) پھر اس کے بعد ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا: عمران اپنی اونٹنی کو سنبھالو کیونکہ وہ چلی گئی ہے۔ یہ سن کر میں چلا گیا۔ اس کو تلاش کرنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے اس طرف سراب لہریں مار رہا ہے اور اللہ کی قسم میری یہ آرزو رہی کاش وہ چلی جاتی اور میں نہ اُٹھتا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمام سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا ہے رات دن کھلے ہاتھوں خرچ اس کے خزانے کو نہیں گھٹاتا۔ بھلا تم نے دیکھا کہ جب سے اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کتنا کچھ خرچ کیا ہے؟ اس نے بھی اس خزانہ کو کم نہیں کیاجو اس کے داہنے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں بھی فیض ہے یا (کہا:) قبض ہے۔ وہ اُٹھاتا ہے اور نیچے کرتا ہے۔
احمد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ابوبکر مقدمی نے ہمیں بتایا۔ حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا۔ حماد نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت زید بن حارثہؓ آئے شکوہ کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپاتے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے کہ حضرت زینبؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر فخر کیا کرتی تھیں۔ کہتی تھیں: تمہارے گھر والوں نے تمہارا نکاح کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر میرا نکاح کیا۔ اور ثابت سے مروی ہے کہ یہ آیت وَ تُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ حضرت زینبؓ اور حضرت زید بن حارثہؓ کے متعلق اُتری تھی۔