بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ورقاء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبد اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ اور جس نے قسم کھانی ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائے۔
(تشریح)عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہؓ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ سے بڑھ کر غیرت مند اور کوئی نہیں اسی لئے فحش باتوں کو اس نے حرام کیا اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو تعریف پسند نہیں۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب اللہ نے مخلوق پیدا کی تو اس نے اپنے نوشتہ میں اپنی ذات پر فرض کرتے ہوئے لکھا وہ نوشتہ عرش پر اس کے پاس رکھا ہوا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا: تم سے پوشیدہ نہیں کہ اللہ کانا نہیں اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا، فرمایا: اور مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہوگا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور ہے ۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے کوئی نبی بھی ایسا نہیں بھیجا جس نے جھوٹے کانے سے اپنی قوم کو نہ ڈرایا ہو۔ وہ کانا ہوگا اور تمہارا ربّ کانا نہیں، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے جو بنو زہرہ کے حلیف اور حضرت ابوہریرہؓ کے ساتھیوں میں سے تھے، مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کو بھیجا ۔ ان میں سے حضرت خبیب انصاریؓ بھی تھے۔ اور عبیداللہ بن عیاض نے مجھے بتایا کہ حارث کی بیٹی نے اُن کو خبر دی کہ جب وہ (حضرت خبیبؓ کے قتل پر) متفق ہوگئے تو حضرت خبیبؓ نے اس سے ایک استرا عاریۃً لیا کہ اس سے صفائی کریں۔ جب وہ حرم سے باہر چلے گئے تاکہ انکو ماریں تو حضرت خبیب انصاریؓ نے یہ شعر پڑھے: میں پروا نہیں کرتا کہ جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں مارا جارہا ہوں تو اللہ کی خاطر میں کس کروٹ پچھاڑا جاؤں اور یہ موت اس معبود کی ذات کی خاطر ہے اور اگر وہ چاہے تو ٹکڑے ٹکڑے ہوئے جسم کے حصوں کو برکت دے۔ (عقبہ) بن حارث نے ان کو قتل کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ان کے متعلق اسی دن خبر دے دی جس دن وہ لوگ شہید ہوئے۔
(تشریح)عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ابوصالح سے سنا۔ ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا بندہ میرے متعلق جو گمان کرتا ہے اس کے مطابق میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہی ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے اگر وہ اپنے دل میں مجھے یاد کرے تو میں بھی اپنے دل میں اس کو یاد کرتا ہوں اور اگر وہ بھری مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو بھری مجلس میں یاد کرتا ہوں جو اس مجلس سے بہتر ہوتی ہے اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک باع اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آئے تو میں اس کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہوں۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے، عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: تو (ان سے) کہدے وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ تمہارے اوپر کی طرف سے عذاب نازل کرے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: میں تیری ذات کی پناہ لیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یا تمہارے پاؤں کے نیچے کی طرف سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: میں تیری ذات کی پناہ لیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یا تمہیں (ایک دوسرے کے خلاف) آپس میں مختلف گروہوں کی صورت میں ملادے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آسان ہے۔
(تشریح)اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ عفان نے ہمیں بتایا۔ وہیب نے ہم سے بیان کیاکہ موسیٰ نے جو کہ عقبہ کے بیٹے تھے، ہمیں بتایا۔ محمد بن یحيٰ بن حبان نے مجھ سے بیان کیا۔ محمد نے ابن مُحیریز سے، ابن مُحیریز نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے غزوہ بنی مصطلق کے متعلق روایت کی کہ صحابہ نے کچھ قیدی عورتیں غنیمت میں پائیں اور انہوں نے ان سے تعلق قائم کرنا چاہا، ایسے طور سے کہ وہ حاملہ نہ ہوں۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: تم پر کیا مذائقہ ہے اگر تم نہ کرو؟ کیونکہ اللہ نے لکھ دیا ہے جس کو اس نے قیامت کے روز تک پیدا کرنا ہے۔ اور مجاہد نے قزعہ سے نقل کیا کہ میں نے حضرت ابوسعیدؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جان بھی پیدا کی جانی ہے اللہ اس کو ضرور ہی پیدا کرے گا۔
(تشریح)معاذ بن فضالہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ مومنوں کو اکٹھا کرے گا اسی طرح (جس طرح ہم اکٹھے ہوتے ہیں) اور وہ کہیں گے: اگر ہم اپنے ربّ کے پاس کوئی سفارش لے جائیں تا کہ وہ ہمیں اپنی اس جگہ سے نکال کر آرام دے، تو وہ حضرت آدمؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آدم! کیا آپ لوگوں کی حالت نہیں دیکھتے؟ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنے فرشتوں کو آپ کا فرمانبردار بنایا۔ آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ اپنے ربّ کے پاس ہماری سفارش تو کریں تا وہ ہماری اس جگہ سے ہمیں چھٹکارا دلائے۔ تو حضرت آدمؑ کہیں گے: میں تو اس مقام پر نہیں اور وہ ان سے اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے کی۔ کہیں گے: تم نوحؑ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جن کو اللہ نے زمین والوں کی طرف بھیجا۔ اس پر وہ حضرت نوحؑ کے پاس آئیں گے اور حضرت نوحؑ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں اور اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو انہوں نے کی۔ کہیں گے: بلکہ تم ابراہیم خلیل الرحمٰنؑ کے پاس جاؤ اور وہ حضرت ابراہیمؓ کے پاس آئیں گے۔ حضرت ابراہیمؑ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں اور ان سے اپنی غلطیوں کا ذکر کریں گے جو انہوں نے کیں۔ البتہ تم موسیٰؑ کے پاس جاؤ جو ایسے بندے تھے کہ اللہ نے ان کو تورات دی تھی اور ان سے خوب باتیں کی تھیں۔ اس پر وہ حضرت موسیٰؑ کے پاس آئیں گے اور وہ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں ہوں اور وہ ان سے اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو انہوں نے کی۔ البتہ عیسیٰؑ کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں۔ (یہ جواب سن کر) وہ حضرت عیسیٰؑ کے پاس آئیں گے اور وہ کہیں گے: میں اس مقام پر نہیں بلکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ جو ایسے بندے ہیں کہ ان کے وہ تمام قصور معاف کردئیے گئے ہیں جو پہلے ہوچکے یا جو ابھی نہیں ہوئے۔ چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے اور میں چل پڑوں گا اور اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہونے کی اجازت مانگوں گا اور مجھے اس کے حضور جانے کی اجازت دی جائے گی۔ جب میں اپنے ربّ کو دیکھوں گا تو میں سجدے میں گر پڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا: محمد! سر اُٹھاؤ اور کہو، تمہاری سنی جائے گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تب میں اپنے ربّ کی وہ خوبیاں بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لئے ایک حد مقرر کردی جائے گی اور میں ان کو جنت میں لے جاؤں گا۔ پھر میں واپس آؤں گا اور جب اپنے ربّ کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا اور جتنی دیر اللہ چاہے گاکہ میں رہوں مجھے رہنے دے گا۔ پھر اس کے بعد کہا جائے گا: محمد! اپنا سر اُٹھاؤ، کہو سنا جائے گا اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں اپنے ربّ کی وہ خوبیاں بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں اس کے بعد سفارش کروں گا اور وہ میرے لے ایک حد مقرر کردے گا اور میں جنت میں ان کو لے جاؤں گا۔ پھر واپس آؤں گا اور جب اپنے ربّ کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا اور جتنی دیر اللہ چاہے گا کہ میں رہوں مجھے رہنے دے گا۔ پھر اس کے بعد کہا جائے گا۔ محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا اور مانگو تمہیں دیا جائے گا اور سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی ۔ میں اپنے ربّ کی وہ خوبیاں بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں اس کے بعد سفارش کروں گا اور وہ میرے لیے ایک حد مقرر کر دے گا اور میں جنت میں ان کو لے جاؤں گا۔ پھر واپس آؤں گا۔ اور کہوں گا: اے میرے ربّ! اب دوزخ میں سوائے ان لوگوں کے اور کوئی نہیں رہا جن کو قرآن نے روکے رکھا ہے اور ان پر ہمیشہ کے لئے رہنا ضروری ہوگیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوزخ سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کیا اور اس کے دل میں جَو برابر بھلائی ہوئی، پھر اس کے بعد وہ شخص بھی دوزخ سے نکل آئے گا جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کیا اور اس کے دل میں اتنی بھی بھلائی ہو گی کہ گندم کے دانے کے وزن کے برابر ہو۔ پھر اس کے بعد آگ سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کیا اور اس کے دل میں اتنی بھی بھلائی ہوئی جو ذرے کے وزن کے برابر ہو۔