بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 105 hadith
عارم (ابونعمان) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایوب (سختیانی) کے سامنے ابوقلابہ کی تحریریں پڑھی گئیں۔ ان میں سے بعض حدیثیں وہ تھیں جو ابوقلابہ نے ایوب سے خود بیان کیں اور ان میں سے بعض وہ حدیثیں تھیں کہ جو ان کے سامنے پڑھی گئیں اور یہ حدیث اس تحریر میں تھی کہ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہؓ اور حضرت انس بن نضرؓ دونوں نے ان کو داغ دیا اور حضرت ابو طلحہؓ نے ان کو اپنے ہاتھ سے داغا ۔ اور عباد بن منصور نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے کہا۔ ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے نقل کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھروالوں کو جو انصار میں سے تھے اجازت دی کہ وہ سانپ بچھو کے کاٹنے اور کان کی درد کی وجہ سے دم کروا لیا کریں۔ حضرت انسؓ نے کہا: مجھے ذات الجنب کی بیماری کی وجہ سے داغ لگایا گیا تھا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے اور حضرت ابوطلحہؓ اور حضرت انس بن نضر ؓاور حضرت زید بن ثابتؓ مجھے دیکھ رہے تھے اور حضرت ابوطلحہؓ نے مجھ کو داغا۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے فاطمہ بنت منذر سے روایت کی کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کی عادت تھی کہ جب ان کے پاس ایسی عورت لائی جاتی جسے بخار ہوتا تو اس کے لئے دعا کرتیں پانی لے کر اس کے سینے پر ڈالتیں کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں فرمایا کرتے تھے کہ ہم بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے خبر دی انہوں نے حضرت عائشہؓ سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: بخار بھی جہنم کی بھاپ ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔
مسدد نے ہمیں بتایا کہ ابوالاحوص نے ہم سے بیا ن کیا۔سعید بن مسروق نے ہمیں بتایا۔ سعید نے عبایہ بن رفاعہ سے، عبایہ نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدیج ؓسے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ بخار بھی جہنم کی بھاپ ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔
(تشریح)عارم (ابونعمان) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایوب (سختیانی) کے سامنے ابوقلابہ کی تحریریں پڑھی گئیں۔ ان میں سے بعض حدیثیں وہ تھیں جو ابوقلابہ نے ایوب سے خود بیان کیں اور ان میں سے بعض وہ حدیثیں تھیں کہ جو ان کے سامنے پڑھی گئیں اور یہ حدیث اس تحریر میں تھی کہ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہؓ اور حضرت انس بن نضرؓ دونوں نے ان کو داغ دیا اور حضرت ابو طلحہؓ نے ان کو اپنے ہاتھ سے داغا ۔ اور عباد بن منصور نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے کہا۔ ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے نقل کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھروالوں کو جو انصار میں سے تھے اجازت دی کہ وہ سانپ بچھو کے کاٹنے اور کان کی درد کی وجہ سے دم کروا لیا کریں۔ حضرت انسؓ نے کہا: مجھے ذات الجنب کی بیماری کی وجہ سے داغ لگایا گیا تھا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے اور حضرت ابوطلحہؓ اور حضرت انس بن نضر ؓاور حضرت زید بن ثابتؓ مجھے دیکھ رہے تھے اور حضرت ابوطلحہؓ نے مجھ کو داغا۔
(تشریح)عارم (ابونعمان) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایوب (سختیانی) کے سامنے ابوقلابہ کی تحریریں پڑھی گئیں۔ ان میں سے بعض حدیثیں وہ تھیں جو ابوقلابہ نے ایوب سے خود بیان کیں اور ان میں سے بعض وہ حدیثیں تھیں کہ جو ان کے سامنے پڑھی گئیں اور یہ حدیث اس تحریر میں تھی کہ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہؓ اور حضرت انس بن نضرؓ دونوں نے ان کو داغ دیا اور حضرت ابو طلحہؓ نے ان کو اپنے ہاتھ سے داغا ۔ اور عباد بن منصور نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے کہا۔ ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے نقل کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھروالوں کو جو انصار میں سے تھے اجازت دی کہ وہ سانپ بچھو کے کاٹنے اور کان کی درد کی وجہ سے دم کروا لیا کریں۔ حضرت انسؓ نے کہا: مجھے ذات الجنب کی بیماری کی وجہ سے داغ لگایا گیا تھا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے اور حضرت ابوطلحہؓ اور حضرت انس بن نضر ؓاور حضرت زید بن ثابتؓ مجھے دیکھ رہے تھے اور حضرت ابوطلحہؓ نے مجھ کو داغا۔
(تشریح)سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن قاری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر خود ٹوٹ گیا اور آپؐ کا چہرہ زخمی ہوا اور آپؐ کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت بھی ٹوٹ گیا تو حضرت علیؓ ڈھال میں پانی لاتے جاتے تھے اور حضرت فاطمہؓ آکر آپؐ کے چہرے سے خون دھونے لگیں جب حضرت فاطمہ علیہا السلام نے دیکھا کہ خون پانی سے اور بھی زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے ایک بوریا لی اور اس کو جلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر اسے چپکا دیااسی وقت خون بند ہوگیا۔
(تشریح)یحيٰ بن سلیمان نے ہمیں بتایا کہ (عبداللہ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا مالک نے مجھ سے بیان کیا۔ مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: بخار بھی جہنم کی بھاپ ہی ہے اس لئے اس کو پانی سے بجھاؤ۔ (اسی سند سے) نافع نے کہا اور حضرت عبداللہ(بن عمرؓ بخار میں) یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اكْشِفْ عَنَّا الرِّجْزَ۔ یہ عذاب ہم سے دور کر۔
عبدالاعلیٰ بن حماد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا کہ سعید (بن ابی عروبہ) نے ہم سے بیان کیا،قتادہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس بن مالکؓ نے انہیں بتایا کہ کچھ لوگ یا کہا کچھ مرد عکل اور عرینہ قبیلے کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اسلام کا زبان سے اقرار کیا اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی ! ہم مال مویشی والے لوگ ہیں اور کھیتی باڑی والے نہ ہیں اور انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے حکم دیا کہ ان کو چند اونٹ اور ایک چرواہا دے دیا جائے اور ان سے فرمایا کہ وہ ان کو لے کر باہر چلے جائیں اور وہاں ان کے دودھ اور ان کے پیشاب پئیں۔ وہ چلے گئے یہاں تک کہ جب حرہ کے کنارے پر پہنچے تو مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ یہ خبرنبی ﷺ کو پہنچی تو آپؐ نے ان کے پیچھے تعاقب کرنے والوں کو بھیجا اور ان کے متعلق حکم دیا اور (اُن کے جرم کے بدلے) ان کی آنکھوں میں انہوں نے گرم سلائی پھیری اور ان کے ہاتھوں کو کاٹ ڈالا اور وہ حرہ کے درمیان اپنے حال پر چھوڑ دیئے گئے یہاں تک کہ وہ اسی طرح مر گئے۔
(تشریح)حفص بن عمر (حوضی) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا حبیب بن ابی ثابت نے مجھے خبر دی ۔ انہوں نے کہا:میں نے ابراہیم بن سعد (بن ابی وقاص) سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت اُسامہ بن زیدؓ سے سنا۔ حضرت اُسامہؓ نے حضرت سعد ؓ سے بیان کیا کہ اُنہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم کسی ملک میں طاعون کی خبر سنو تو اس میں مت جاؤ اور جب وہ کسی ملک میں پڑے اور تم وہاں ہو تو پھر وہاں سے نہ نکلو۔ (حبیب بن ابی ثابت کہتے تھے:) میں نے (ابراہیم بن سعد سے) پوچھا: کیا آپؐ نے حضرت اُسامہؓ کو حضرت سعدؓ سے یہ حدیث بیان کرتے سنا اور وہ اس کا انکار نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے کہا:ہاں۔