بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 105 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبد الحمید بن عبد الرحمٰن بن زید بن خطاب سے، عبدالحمید نے عبداللہ بن عبداللہ بن حارث بن نوفل سے، اُنہوں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ شام کے ملک کو گئے۔ جب سرغ (مَقام) میں پہنچے تو آپؓ سے لشکر کے سردار حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ اور ان کے ساتھی ملے اور انہوں نے آپؓ کو بتایا کہ شام کے ملک میں وبا پڑی ہوئی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے۔ (یہ سن کر) حضرت عمرؓ نے فرمایا: ابتدائی مہاجرین کو میرے پاس بلائیں۔ تو حضرت ابوعبیدہؓ نے ان کو بلایا اور حضرت عمرؓ نے ان سے مشورہ کیا اور ان کو بتایا کہ وبا شام میں پڑی ہے تو انہوں نے اختلاف کیا۔ ان میں سے بعض کہنے لگے: اب آپؓ ایک کام کے لئے نکل چکے ہیں اور ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ آپؓ اس سے لوٹ جائیں اور بعض نے کہا: آپؓ کے ساتھ دانشمند لوگ ہیں اور رسول اللہ ﷺکے صحابہ ہیں اور ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ آپؓ ان کو اس وبا کے ہوتے ہوئے آگے لے جائیں۔ حضرت عمر ؓنے فرمایا: آپ تشریف لے جائیں۔ پھر اُنہوں نے کہا: میرے پاس انصار کو بلاؤ۔ چنانچہ میں نے ان کو بلایا اور آپؓ نے ان سے مشورہ کیا۔ تو انہوں نے بھی مہاجرین کی راہ اختیار کی اور انہی کی طرح اختلاف کیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: آپ بھی جائیں ۔ پھر اُنہوں نے فرمایا: قریش کے وہ بزرگ جو فتح مکہ سے پہلے کے مہاجر یہاں ہیں انہیں میرے پاس بلاؤ۔ میں نے ان کو بلایا۔ تو ان میں سے دو شخصوں نے بھی آپ کے سامنے اختلاف نہیں کیا ۔ وہ کہنے لگے: ہماری یہ رائے ہے کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور اس وبا کے ہوتے ہوئے ان کو آگے نہ لے جائیں تو حضرت عمرؓ نے لوگوں میں یہ مناکروائی کہ میں صبح (مدینہ) جا رہا ہوں پس تم بھی صبح (روانگی کیلئے) تیار رہو۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کہنے لگے: کیا اللہ کی تقدیر سے ہم بھاگ رہے ہیں؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ابوعبیدہؓ ! کاش تمہارے سوا کوئی اور یہ کلمہ کہتا۔ اور ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے بھاگ کر اللہ کی تقدیر کی طرف جاتے ہیں۔ بھلا یہ تو بتاؤ۔ اگر تمہارے اونٹ ہوں جو ایسی وادی میں چلے گئے ہوں کہ جس کے دو کنارے ہیں۔ ان میں سے ایک کنارہ تو سر سبز ہے اور دوسرا خشک۔ کیا یہ نہیں ہے کہ اگر تم سرسبز میں چراؤ تو تم اللہ کی تقدیر سے ہی ان کو چراؤ گے؟ اور اگر تم خشک میں چراؤ تو بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ان کو چراؤ گے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ اتنے میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ آئے اور وہ اپنے کسی کام کی وجہ سے غیر حاضر تھے وہ کہنے لگے:مجھے اس کے متعلق ایک بات معلوم ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، آپؐ فرماتے تھے : جب تم سنو کہ وبا کسی ملک میں ہے تو وہاں نہ جاؤاور اگر کسی ملک میں وبا (پھوٹ)پڑے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلو۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: حضرت عمرؓ نے سن کر اللہ کی حمد بیان کی اور (مدینہ کو) لوٹ گئے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے نعیم مجمر سے، نعیم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ میں نہ مسیح دجال داخل ہوگا اور نہ طاعون۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔کہ عاصم (بن سلیمان احول) نے ہمیں بتایا کہ مجھ سے حفصہ بنت سیرین نے بیان کیا۔ وہ کہتی تھیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا۔ یحيٰ (بن سیرین)کس بیماری سے فوت ہوئے تھے۔ میں نے کہا طاعون سے۔ (حضرت انسؓ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاعون بھی ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
ابوعاصم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے سُمَیّ سے، سُمَیّ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا:جو پیٹ کی بیماری سے مر جائے وہ بھی شہید ہے اور جو طاعون سے مر جائے وہ بھی شہید ہے۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے کہا معبد بن خالد نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن شداد سے سنا۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا یا (فرمایا کہ )آپؐ نے حکم دیا کہ نظر لگنے کی صورت میں دَم کرا لیا جائے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبداللہ بن عامر سے روایت کی کہ حضرت عمرؓ شام کی طرف روانہ ہوئے۔ جب سرغ میں پہنچے تو ان کو یہ معلوم ہوا کہ وبا شام میں پڑی ہوئی ہے اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم سنو کہ یہ کسی ملک میں ہے تو پھر وہاں نہ جاؤ اور اگر یہ کسی ایسے ملک میں پڑے اور تم وہاں ہو تو پھر اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلو۔
اسحاق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ حبان (بن ہلال) نے ہمیں خبر دی۔ داؤد بن ابی فرات نے ہم سے بیان کیا۔ عبداللہ بن بریدہ نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے یحيٰ بن یعمر سے، یحيٰ نے حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سے روایت کی انہوں نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ یہ ایک عذاب ہے جو اللہ جس پر چاہتا ہے بھیجتا ہے لیکن اللہ نے اس کو مؤمنوں کے لئے رحمت کا موجب بنایا ہے۔ کوئی بھی ایسا بندہ نہیں جس کو طاعون ہو اور وہ اپنے شہر میں ہی صبر سے ٹھہرا رہے۔ اسے یہ یقین ہو کہ اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی مگر وہی جو اللہ نے اس کے لئے مقدرکر دی تو ضرور اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ ایک شہید کو ثواب ملتا ہے۔ (حبان بن ہلال کی طرح) نضر (بن شمیل) نے بھی داؤد سے اس حدیث کو روایت کیا۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف)نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں جس میں آپ فوت ہوگئے تھے اپنے اوپر معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے۔ جب آپؐ کی صحت کمزور ہو گئی تو میں آپؐ پر ان سورتوں کو پڑھ کر پھونکتی تھی اور آپؐ کا ہی ہاتھ آپؐ کے جسم پر پھیرتی تاکہ اس کی برکت ہو۔ (معمر کہتے تھے۔) میں نے زہری سے پوچھا۔ آپ کیوں کر پھونکتے تھے انہوں نے کہا آپ اپنے ہاتھوں پر پھونکتے تھے پھر اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرتے تھے۔
محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیا ن کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، شعبہ نے ابوبشر سے، ابوبشر نے ابوالمتوکل سے، ابوالمتوکل نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں سے کچھ لوگ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلے کے پاس پہنچے تو انہوں نے ان کو مہمان نہیں ٹھہرایا۔ ابھی وہ اس حالت میں تھے کہ اتنے میں ان کے سردار کو بچھونے ڈسا۔اُن لوگوں نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ کوئی دَم دوا کرنے والا ہے؟ صحابہؓ نے کہا تم نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا اور ہم بھی اس وقت تک کوئی دَم دعا نہیں کریں گے جب تک ہمارے لیے اجرت طے نہ کر لو ۔ انہوں نے ان کے لئے کچھ بکریاں مقرر کیں اور ایک صحابی سورة فاتحہ پڑھنے لگا اور اپنا تھوک اکٹھا کرتا اور اس پر لعاب لگاتا وہ اچھا ہو گیا اور وہ بکریاں لائے۔ صحابہؓ کہنے لگے: ہم یہ بکریاں نہیں لیں گے جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیں۔ انہوں نے آپؐ سے پوچھا۔ آپؐ ہنس پڑے اور فرمایا: تمہیں کیا پتہ کہ سورة فاتحہ بھی ایک دَم ہے ؟ انہیں لے لو اور میرا بھی ایک حصہ نکالو۔
سیدان بن مضارب ابومحمد باہلی نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعشر بصری نے جو کہ بڑے سچے تھے، ان کا نام یوسف بن یزید البراء تھا ہمیں بتایا۔ انہوں نےکہا عبیداللہ بن ا خنس ابومالک نے مجھ سے بیان کیا۔ عبیداللہ نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چند لوگ ایک چشمہ پر سے گزرے۔ (وہاں جو قبیلہ تھا) ان میں ایک کو بچھونے کا ٹ کھایا تھا۔ (لدیغ کا لفظ کہا یا سلیم) تو ان چشمے والوں میں سے ایک شخص ان کے سامنے آیا اور کہنے لگا: کیا تم میں کوئی دَم کرنے والا ہے؟ اس چشمے پر ایک شخص ہے جسے بچھو نے ڈسا ہے۔(لدیغ کا لفظ کہا یا سلیم) یہ سن کر صحابہ میں سے ایک شخص چلا گیا۔ اس نے چند بکریاں دینے کی شرط پر سورة فاتحہ کو پڑھا اور وہ اچھا ہو گیا اور وہ بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لے آیا۔ انہوں نے اسے ناپسند کیا اور کہنے لگے: تم نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے۔ جب وہ مدینہ میں پہنچے تو کہنے لگے: یا رسول اللہ ! اس نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں کا تم معاوضہ لیتے ہو ان سب سے بڑا حق تو اللہ کی کتاب کا ہے۔
(تشریح)