بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 44 hadith
اور اسماعیل نے کہا: عبد العزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے مجھے بتایا کہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ حضرت انسؓ نے کہا: جب یہ آیت اُتری: تم کامل نیکی کو اس وقت تک نہیں پاسکو گے جب تک کہ تم اپنی پیاری چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔ تو ابوطلحہؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا۔ یارسول اللہ! اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: تم نیکی کو ہر گز نہیں پاسکو گے، جب تک تم ان چیزوں کو نہ خرچ کرو جن سے تم محبت رکھتے ہو۔ اور میری جائیداد میں سے سب سے پیا را مال مجھے بیرحاء ہے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: یہ ایک باغ تھا جس میں رسول اللہ ﷺ جایا کرتے تھے اور وہاں سایہ میں بیٹھا کرتے اور پانی پیا کرتے۔ (حضرت ابوطلحہؓ نے کہا:) وہ با غ اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کے سپرد ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایک نیکی ہوگی اور میرے لئے ذخیرئہ آخرت ہوگا۔ اس لئے اے اللہ کے رسول! اسے جہاں اللہ تعالیٰ آپؐ کو سمجھائے خرچ کیجئے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شاباش ابوطلحہ! یہ مال فائدہ مند ہے۔ ہم نے اس کو تم سے قبول کیا اور تمہارے پاس ہی اس کو واپس کر دیا ۔ پس اپنے قریبیوں کو دے دو۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہ ؓنے اپنے رشتہ داروں کو وہ باغ بطور صدقہ کے دے دیا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے کہ ان میں سے اُبی ّ ؓ اور حسانؓ (بن ثابت) بھی تھے اور یہ بھی کہتے تھے کہ حسانؓ نے اپنا حصہ معاویہؓ کے پاس بیچ دیا تو ان سے کہا گیا: کیا تم ابو طلحہؓ کا صدقہ بیچتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: (یہ ایسا نفع مند سودا ہے) کیا میں کھجور کے ایک صاع کو درہموں کے ایک صاع کے بدلے نہ بیچوں۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: اور وہ باغ بنی حُدَیلہ کے محل کے پاس تھا؛ جسے معاویہؓ نے بنایاتھا۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا۔ کہنے لگے کہ میری ماں فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمہ ایک نذر ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی طرف سے تم ادا کر دو۔
محمد بن فضل ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر (جعفر) سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ آیت (یعنی وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ) منسوخ ہے۔ نہیں اللہ کی قسم! یہ منسوخ نہیں۔ لیکن یہ ان باتوں میں سے ہے جن پر عمل کرنے میں لوگوں نے سُستی کی ہے۔ ترکہ کے نگران دو ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ورثہ پاتا ہے اور وہی دیتا ہے اور ایک دوسرا وہ جو ورثہ نہیں پاتا اور معروف مناسب بات کہتا ہے۔ مثلاً کہتا ہے: میں تمہارے لئے کوئی اختیار نہیں رکھتا کہ تم کو دوں۔ طرفہُ: ۴۵۷۶۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہیں ابن جریج نے خبردی، کہا: یعلی بن مسلم نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ کے غلام عکرمہ سے سنا۔ کہتے تھے: ہمیں حضرت ابن عباسؓ نے خبر دی کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو بنی ساعدہ میں سے تھے؛ ان کی والدہ فوت ہوگئیں اور اس وقت وہ موجود نہ تھے تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہوگئی ہیں اور میں اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھا۔ تو کیا میرا ان کی طرف سے کچھ صدقہ کرنا ان کو نفع دے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے عرض کیا: (یارسول اللہ!) پھر میں آپؐ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میرا باغ مخراف ان کی طرف سے صدقہ ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے زُہری سے، انہوں نے کہا کہ عروہ بن زُبیر بیان کرتے تھے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: وَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَّا تُقْسِطُوْا فِي الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَائِ کے کیا معنی ہیں؟ حضرت عائشہ ؓ نے کہا: اس سے مراد ایسی یتیم لڑکی ہے جو اپنے سرپرست کی پرورش میں ہو اور وہ اس کی خوبصورتی اور مال کی وجہ سے خواہش رکھتا ہو کہ اس سے شادی کرلے، اس مہر سے کم دے کر جو عام طور پر اس جیسی عورتوں کو دینے کا رواج ہے۔ اس لئے انہیں ایسی یتیم لڑکیوں کو اپنے نکاح میں لانے سے روک دیا گیا؛ سوائے اس کے کہ وہ پورا مہر دے کر ان کے ساتھ انصاف سے پیش آئیں اور انہیں ان یتیم لڑکیوں کے سوا اَور عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم دیا گیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: پھر لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بعد اس بارے میں فتویٰ طلب کیا تو اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل کی وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِي النِّسَائِ یعنی یہ لوگ تجھ سے (ایک سے زیادہ) عورتوں (کے ساتھ نکاح) کی نسبت فتویٰ دریافت کرتے ہیں۔ تو کہہ دے کہ اللہ تم کو ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ کھول کر بیان کردیا ہے کہ یتیم لڑکی اگر خوبصورت اور مالدار ہو تو وہ اس کے نکاح کی خواہش کرتے ہیں اور جو رواج اس کو دینے کا ہے اس کے مطابق اس کو پور ا مہر نہیں دیتے اور اگر مال کی کمی اور خوبصورتی کے نہ ہونے کی وجہ سے ان کو اس کی خواہش نہ ہو تو اس کو چھوڑتے اور دوسری عورت کی تلاش کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: چونکہ لوگ ایسی یتیم لڑکی کو جبکہ وہ ان کو ناپسند ہوتی ہے چھوڑ دیتے ہیں اس لئے ان کا حق نہیں کہ وہ یتیم لڑکی جو انہیں پسندیدئہ خاطر ہو، اس سے نکاح کریں سوائے اس کے کہ انصافاً جو زیادہ سے زیادہ مہر دے سکتے ہوں اس کو دے دیں اور جو اس کے حقوق ہیں وہ بھی اسے دیں۔
(تشریح)ہارون بن اشعث نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں ابوسعید نے جو بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام تھے، بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ہمیں صخر بن جویریہ نے نافع سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اپنی ایک جائیداد صدقہ میںدے دی جسے ثمغ کہتے تھے اور وہ کھجور کا باغ تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے ایک مال حاصل کیا ہے وہ میرے نزدیک بہت عمدہ ہے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس کو صدقہ میں دے دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اصل مال کو اس شرط پر صدقہ میں دے دو کہ وہ نہ بیچا جائے اور نہ ہبہ کیا جائے نہ ورثہ میں دیا جائے بلکہ اس کے پھل کو خرچ کیا جائے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسے صدقہ میں دے دیا اور ان کا صدقہ اللہ کی راہ میں، غلاموں کے آزاد کرنے میں اور مسکینوں، مہمانوں، مسافروں اور رشتہ داروں کے لئے وقف تھا اور جو اس کا نگران ہو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس میں مناسب طور پر دستور کے مطابق خود کھائے یا اپنے دوست کو کھلائے۔ مگر یہ نہ ہو کہ اپنے لئے اس میں سے مال جمع کرے۔
عبیدبن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ (عروہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں کہ یہ آیت وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا۔۔۔۔یعنی جو حاجت مند نہ ہو، اسے چاہیے کہ وہ (اس مال کے استعمال سے) کلی طور پر اجتناب کرے لیکن جو نادار ہو وہ مناسب طور پر (اس مال میں سے) کھائے؛ یتیم کے متولی کے بارے میں نازل ہوئی کہ اگر وہ حاجت مند ہو تو اس کے مال سے بقدرِ حاجت مناسب طور پر اندازہ کرکے لے لے ۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ثور بن زید مدنی سے، ثور نے ابوالغیث سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: سات برباد کرنے والے گناہوں سے بچتے رہو۔ صحابہؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: شرک باللہ اور جادو اور اس جان کو ناحق مارنا جس کے مارنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود اور یتیم کا مال کھانا اور (کافروں سے) مقابلہ کے دن بھاگنا اور ان پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا جو مومن ہیں اور جنہیں کسی بات کا پتہ نہیں۔
(تشریح)(امام بخاریؒ کہتے ہیں:) اور سیلمان بن حرب نے ہمیں کہا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: (حضرت عبداللہ) بن عمرؓ نے کسی کا وصی بننے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ اور (محمد) بن سیرین (تابعی) کو تمام باتوں میں سے یہ بات زیادہ پسند تھی کہ یتیم کے مال کا بندوبست کرنے کیلئے ان کے پاس اس کے خیر خواہ اور اس کے متولی اکٹھے ہوں اور اکٹھے ہو کر اس بات پر غور کریں جو اس کیلئے بہتر ہو۔ اور طائوس (بن کیسان تابعی) سے جب یتیموں سے معاملہ کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ یہ آیت پڑھا کرتے کہ اللہ مفسد کو بھی جانتا ہے اور مصلح کو بھی۔ اور عطاء (بن ابی رباح) نے چھوٹے بڑے یتیموں کے بارے میں کہا کہ متولی ہر ایک انسان پر اس کے حصہ میں سے اندازے کے مطابق خرچ کرے۔
(تشریح)