بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 44 hadith
اور عبدان نے کہا: میرے باپ (عثمان) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے ابوعبدالرحمن سے روایت کی کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو آپؓ نے ان باغیوں پر بالا خانہ سے جھانکا اور کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں اور قسم انہی کو دے رہا ہوں جو نبی ﷺ کے صحابہ ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رومہ کا کنواں کھودا اس کیلئے جنت ہوگی۔ چنانچہ میں نے اس کو کھدوایا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ آپؐ نے فرمایا تھا کہ جو جیش عسرت کو سازو سامان کے ساتھ تیار کردے، اس کے لئے جنت ہوگی اور میں نے ا۱؎ن کو سازوسامان کے ساتھ تیار کرایا تھا۔ ابوعبدالرحمن کہتے تھے کہ حضرت عثمانؓ کی باتوں کی انہوں نے تصدیق کی۔ اور حضرت عمرؓ نے اپنے وقف سے متعلق کہا کہ جو اس کا نگران ہو، اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ خود کھائے اور اس کا نگران وقف کرنے والا بھی ہوسکتا ہے اور اس کے علاوہ دوسرا بھی۔ اس میں ہر ایک کیلئے وسعت ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوتیاح سے، ابوتیاح نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی نجار! تم اپنے باغ کی میرے ساتھ قیمت ٹھہرالو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے۔
(امام بخاریؒ نے کہا:) مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا: ہم سے یحيٰ بن آدم نے بیان کیا کہ ابوزائدہ کے بیٹے نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن ابی قاسم سے، محمد نے عبدالملک بن سعید بن جبیر سے، عبدالملک نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: بنی سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر کو نکلا تو وہ سہمی شخص ایسے ملک میں فوت ہوا جس میں کوئی مسلمان نہ تھا۔ جب وہ دونوں اس کا متروکہ مال لائے تو اس کے وارثوں نے ایک چاندی کا گلاس گم پایا۔ جس پر سونے کا کام ہواہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دی (انہوں نے قسم کھالی) پھر اس کے بعد وہی گلاس مکہ میں پایا گیا۔ جن کے پاس ملا انہوں نے کہا: ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے تو اس میت کے وارثوں میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھائی کہ ہماری شہادت ان دونوں کی شہادت کے مقابل زیادہ لائق اعتبار ہے اور یہ پیالہ انہی کے آدمی کا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: انہی کے بارے میں آیت یٰأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا شَھَادَۃُ بَیْنَکُمْ … نازل ہوئی تھی۔
(تشریح)محمد بن سابق نے ہمیں بتایا؛یافضل بن یعقوب نے محمد بن سابق سے روایت کی کہ شیبان (بن عبدالرحمن) ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ فراس (بن یحيٰ) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: (عامر) شعبی کہتے تھے: حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے باپ احد کی جنگ میں شہید ہوئے اور انہوں نے چھ بیٹیاں پیچھے چھوڑیں۔ اسی طرح اپنے اوپر قرضہ بھی چھوڑا ۔ جب ان کے باغ کی کھجور کاٹنے کا وقت آپہنچا تو مَیں آنحضرت ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا: یارسول اللہ! آپؐ کو علم ہی ہے کہ میرے والد اُحد کی جنگ میں شہید ہوگئے تھے اور انہوں نے بہت سا قرضہ اپنے ذمہ چھوڑا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپؐ تشریف لائیں اور قرض خواہ آپؐ کو دیکھیں (تو شاید قرض میں کچھ تخفیف کردیں۔) آپؐ نے فرمایا: اچھا جائواور ہر قسم کی کھجور الگ الگ ڈھیر کردو۔ چنانچہ (میں واپس آیا اور) ایسا ہی کیا۔ پھر آنحضرت ﷺ کو بلانے گیا تو قرض خواہوں نے جب آنحضرت ﷺ کو دیکھا تو مجھ سے اور بھی سختی سے مطالبہ کرنے لگے۔ جب آنحضرت ﷺ نے ان کا یہ حال دیکھا تو آپؐ کھجوروں کے سب سے بڑے ڈھیر کے گرد تین بار گھومے پھر اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلائو۔ پھر آپؐ نے اس ڈھیر میں سے انہیں ماپ ماپ کر دینا شروع کیا ۔ یہاں تک کہ اللہ نے میرے والد کا کل قرضہ اداکردیا۔ اور بخدا میں تو اس بات پر راضی تھا کہ اللہ میرے باپ کا قرضہ ادا کردے چاہے میں اپنی بہنوں کے پاس ایک کھجور بھی لے کر نہ جائوں۔ لیکن جتنے ڈھیر وہاں تھے سب بچ رہے۔ خدا کی قسم! میں اس ڈھیر کو دیکھ رہا تھا جس پر آنحضرت ﷺ بیٹھے تھے۔ وہ ایسا ہی رہا جیسے ایک کھجور بھی اس میں سے کم نہیں ہوئی۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: أُغْرُوْا بِي کے معانی ہیں مجھ پر بھڑک اُٹھے۔ ۔۔۔۔ پس ہم نے ان کے درمیان باہمی دشمنی اور بغض مقدر کردیے ہیں۔
(تشریح)