بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن ابی سفر سے۔ انہوں نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عدی بن حاتم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑو اور وہ شکار مارے تو تم کھاؤ اور اگر وہ کھالے تو تم نہ کھاؤ۔ کیونکہ اس نے اُسے اپنے لئے ہی پکڑا ہے۔ میں نے کہا: میں اپنے کتے کو چھوڑوں اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا پاؤں؟ آپ نے فرمایا: نہ کھاؤ۔ کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی تھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔
(تشریح)ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سعید مقبری سے سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہوئے (ہمیں) بتلایا۔ انہوں نے کہا: نبی
ہم سے ابو ولید نے بیان کیا، کہا: ابن عیینہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عباد بن تمیم سے، عباد نے اپنے چچا سے، ان کے چچا نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے ، ( نماز سے ) نہ پھرے۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: جریر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے منذرا بو یعلی ثوری سے، انہوں نے محمد بن حنفیہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی کہتے تھے: میں ایسا شخص تھا جس کی ندی بہت نکلا کرتی تھی۔ میں شرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھوں۔ اس لئے میں نے مقداد بن اسود سے کہا، تو انہوں نے آپ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: اس میں وضو ہی کرنا ہے۔ اور اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا: شیبان نے ہمیں بتلایا۔ شیبان نے یحییٰ سے، یحییٰ نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ عطاء بن یسار نے ان سے بیان کیا کہ زید بن خالد نے ان کو بتلایا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ میں نے کہا: جب کوئی جماع کرے اور انزال نہ ہو (تو کیا وہ نہائے؟) حضرت عثمان نے کہا: وضو کرے جیسا کہ وہ نماز کے لئے وضو کرتا ہے اور اپنے ذکر کو دھولے۔ حضرت عثمان کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا۔ اس پر میں نے حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت ابی بن کعب سے اس کے متعلق پوچھا تو اُنہوں نے بھی ان کو اسی بات کا حکم دیا۔
ہم سے اسحاق (بن منصور) نے بیان کیا، کہا: نظر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے حکم سے، حکم نے ابو صالح ذکوان سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار میں سے ایک شخص کو بلوا بھیجا۔ وہ آیا اور اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: شاید ہم نے تمہیں وقت سے پہلے بُلا لیا ہے؟ تو اُس نے کہا: ہاں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہیں وقت سے پہلے چھوڑنا پڑے یا انزال نہ ہو تو تمہیں صرف وضو ہی کرنا چاہیے۔ وہب نے بھی نفر کی طرح یہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ ابو عبدالله (بخاری) نے کہا: غندر اور یحییٰ نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے وضو کا ذکر نہیں کیا۔
(تشریح)مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا: یزید بن ہارون نے ہمیں بتلایا: انہوں نے یحییٰ سے، یحییٰ نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے حضرت ابن عباس کے مولیٰ کُریب سے، کُریب نے حضرت اسامہ بن زید سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب عرفات سے واپس ہوئے تو راستہ چھوڑ کر گھاٹی کی طرف گئے اور قضائے حاجت کی۔ حضرت اسامہ نے کہا: میں آپ پر پانی ڈالنے لگا اور آپ وضو کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نماز پڑھیں گے؟ فرمایا: نماز آگے (پڑھی جائے گی۔)
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے یحي بن سعید سے سنا۔ وہ کہتے تھے: سعد بن ابراہیم نے مجھے بتایا کہ نافع بن جبیر بن مطعم نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ کو حضرت شعبہ سے روایت کرتے سنا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ حاجت کے لئے گئے اور یہ کہ حضرت مغیرہ آپ پر پانی ڈالنے لگے اور آپ وضو کرتے تھے۔ آپ نے اپنا منہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے (اور اپنے سر پر مسح کیا ہے) اور موزوں پر بھی مسح کیا۔
(تشریح)ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، مخرمہ نے حضرت ابن عباس کے مولی گریب سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے ان سے بیان کیا كه وه بی ﷺ کی بیوی حضرت میمونہ کے پاس ایک رات رہے اور وہ ان کی خالہ تھیں ( کہتے تھے ) میں توشک (یعنی گدے) کے چوڑان میں لیٹا اور سول اللہ ﷺ اور آپ کی بیوی اس کی لمبان میں لیٹے۔ رسول اللہ علہ سو گئے۔ یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی ، اس سے کچھ پہلے کا وقت تھا یا بعد کا وقت تھا تو رسول اللہ अले جاگے اور بیٹھ گئے اور اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر نیند دور کرنے لگے۔ پھر آپ نے سورۃ آل عمران سے آخیر کی دس آیتیں پڑھیں۔ اس کے بعد آپ ایک مشکیزہ کی طرف جو لٹک رہا تھا، اُٹھ کر گئے اور اس سے وضو کیا اور عمدگی سے وضو کیا۔ پھرکھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت ابن عباس کہتے تھے میں بھی اُٹھا اور اسی طرح کیا جس طرح آپ نے کیا۔ پھر جا کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ آپ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر مروڑنے لگے۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر وتر پڑھا۔ اس کے بعد لیٹ گئے۔ جب مؤذن آپ کے پاس آیا۔ جب آپ اُٹھے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔ پھر باہر جا کر آپ نے صبح کی نماز پڑھی۔
(تشریح)۱۸۴ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنی بیوی فاطمہ سے، انہوں نے اپنی دادی حضرت اسماء بنت حضرت ابوبکر سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نبی کی بیوی حضرت عائشہ کے پاس ؛ جب سورج گرہن ہوا؟ آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ لوگ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں اور وہ بھی کھڑی نماز پڑھ رہی ہیں۔ میں نے پوچھا: ان لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ تو اس پر انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا۔ میں نے کہا: کوئی نشان ہے؟ تو انہوں نے اشارہ کیا کہ ہاں۔ تب میں بھی کھڑی ہوگئی۔ اتنی دیر کھڑی رہی کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی اور میں نے اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع کر دیا۔ جب رسول اللہ علہ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف بیان کی۔ پھر فرمایا: جو بھی ایسی چیز تھی، جس کو میں نے نہ دیکھا تھا، میں نے اس کو اپنی اس جگہ کھڑے کھڑے دیکھ لیا ہے۔ یہاں تک کہ جنت بھی اور دوزخ بھی۔ اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تم کو ایسا ہی آزمایا جائے گا جیسا کہ دجال کے فتنہ کے ذریعہ سے یا اس کے قریب قریب۔ میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماء نے کونسا لفظ کہا۔ حضرت اسماء کہتی تھیں: تم میں سے ایک شخص کے پاس (فرشتے) آئیں گے اور اس سے پوچھا جائے گا کہ اس شخص کے متعلق تمہارا کیا علم ہے؟ جو ایمان لانے والا ہوگا یا یقین کرنے والا؛ میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماء نے ان میں سے کون سا لفظ کہا؟ وہ کہے گا: وہ محمدؐ ہے، اللہ کا رسول ہے۔ ہمارے پاس کھلے کھلے دلائل اور ہدایت کی باتیں لایا اور ہم نے قبول کیا اور ایمان لائے اور پیروی کی۔ تب اس سے کہا جائے گا: اچھی طرح سے سو جا۔ ہم تو جانتے ہی تھے کہ تو مومن ہے۔ اور جو منافق ہوگا یا شک کرنے والا؟ میں نہیں جانتی کہ حضرت اسماء نے ان میں سے کون سا لفظ کیا؛ وہ کہے گا: میں نہیں جانتا۔ لوگوں کو میں نے کہتے سنا، میں نے بھی کہہ دیا۔
(تشریح)