بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
۱۸۵ ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: عبداللہ مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عمرو بن تحجي مازنی، عمرو نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن زید سے جو عمرو بن یحی کے دادا تھے کہا: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ کس طرح وضو کیا کرتے تھے؟ اس پر حضرت عبداللہ بن زید نے کہا: ہاں۔ اور انہوں نے پانی منوایا اور اپنے ہاتھ دو (۴) دفعہ دھوئے۔ پھر کلی کی اور تین دفعہ ناک صاف کیا۔ پھر تین دفعہ اپنا منہ دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے۔ پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔اس طرح کہ ان کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے۔اپنے سر کے اگلے حصہ سے شروع کر کے ان کو اپنی گدی تک لے گئے۔پھر ان کو اسی جگہ واپس لائے ، جہاں سے انہوں نے شروع کیا تھا۔پھر انہوں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔
(تشریح)ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا حکم نے ہمیں بتلایا۔کہا: میں نے حضرت ابو جحیفہ سے سنا۔وہ کہتے تھے که نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو پہر کو ہمارے پاس آئے اور آپ کے لئے وضو کا پانی لایا گیا۔(جس سے ) آپ نے وضو کیا۔پھر لوگ آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی بدن پر ملنے لگے۔اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکھتیں اور عصر کی دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے ایک برچھی تھی۔
اور حضرت ابو موسیٰ کہتے تھے نبی ﷺ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں کچھ پانی تھا۔آپ نے اپنے ہاتھ اور منہ اس میں دھوئے اور اس میں کلی کی۔ پھر ان دونوں سے فرمایا: اس میں سے پی لو اور اپنے مونہوں اور سینوں پر ڈالو۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے ، نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: مرد اور عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اکٹھے وضو کیا کرتے تھے۔
(تشریح)۱۹۴ ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا: محمد بن منکدر سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ میں نے حضرت جابر سے سنا۔انہوں نے کہا: رسول الله علﷺ میری عیادت کو آئے اور میں ایسا بیمار تھا کہ ہوش نہیں رکھتا تھا۔آپ نے وضو کیا اور اپنے وضو کے پانی سے کچھ پانی مجھ پر ڈالا۔میں ہوش میں آیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ
۱۸۶ ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا: ہمیں بتلایا۔انہوں نے عمرو سے ، عمرو نے اپنے باپ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ میں عمرو بن ابی حسن کے پاس موجود تھا۔انہوں نے حضرت عبداللہ بن ریڈے نبی ﷺ کے وضو کے متعلق پوچھا۔حضرت عبد الله نے پانی کا ایک لگن منگوایا اور نبی ﷺے کے وضو کی طرح وضو کر کے ان کو دکھلایا۔انہوں نے اپنے ہاتھ پر اس لگن سے پانی انڈیلا اور تین دفعہ اپنے ہاتھ دھوئے۔پھر اپنا ہاتھ لگن میں داخل کیا اور کلی کی اور ناک میں پانی لیا اور ناک صاف کی، تین چلوؤں سے اپنا ہاتھ پانی میں ڈالا اور اپنا منہ تین بار دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کہنیوں تک دو دفعہ دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ اس طرح کہ ان دونوں کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لائے ، ایک بار ہی۔ پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے۔
(تشریح)۱۸۹ ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: يعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم نے کہا: میرے باپ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت محمود بن ربیع نے مجھے خبر دی۔ ( ابن شہاب نے ) کہا: یہ وہی محمود ہیں جن کے منہ پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے کنوئیں سے (پانی لے کر کلی کی تھی اور وہ اس وقت لڑکے تھے۔ نیز ابن شہاب نے کہا: ) عروہ نے مسور اور ان کے علاوہ (لوگوں) سے (بھی) روایت کی۔ ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی تصدیق کرتا تھا کہ جب نبی ﷺہ وضو کرتے تو قریب ہوتا کہ صحابہ آپ کے وضو کے پانی پر آپس میں لڑ پڑیں۔
(تشریح)ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا: خالد بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمرو بن سکی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبد الله بن زیڈ سے روایت کی۔ انہوں نے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈال کر ان کو دھویا۔ پھر انہوں نے (منہ کو دھویا۔ یا ( کہا) کلی کی اور ناک ) میں پانی لیا، ایک ہی چلو سے۔ اور تین بار ایسا ہی کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دو دو دفعہ دھویا اور سر کا مسح کیا۔ آگے بھی اور پیچھے بھی اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ علے کا وضو اسی طرح ہے۔
(تشریح)۱۹۲ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ بیب نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمرو بن سکی نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔وہ کہتے تھے: میں عمرو بن ابی حسن کے پاس موجود تھا۔انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید سے نبی کریم ﷺ کے وضو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پانی کا ایک لگن منگوایا اور ان کو وضو کر کے دکھلایا۔انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں پر (پانی) انڈیلا اور انہیں تین دفعہ دھویا۔پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈال کر کلی کی اور ناک میں پانی لیا اور ناک صاف کی ، تین دفعہ پانی کے تین چلوؤں سے۔پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے منہ کو تین بار دھویا۔پھر اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالا اور کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھوں کو دو دو بار دھویا۔پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا۔اپنے ہاتھوں کو آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لے آئے۔پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے اور موسیٰ نے ہمیں بتلایا۔کہا کہ ہم سے وہیب نے بھی یہی حدیث بیان کی اور کہا: اپنے سرکا انہوں نے ایک بار مسح کیا۔
(تشریح)