بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
۱۹۵ ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا۔انہوں نے عبد الله بن بکر سے سنا۔وہ کہتے تھے: حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے کہا: نماز کا وقت ہوا تو جن لوگوں کا گھر نزدیک تھا وہ اُٹھ کر اپنے اپنے گھروں کی طرف چلے گئے اور کچھ لوگ باقی رہ گئے۔رسول اللہ مے کے پاس پھر کا ایک لگن لایا گیا جس میں کچھ پانی تھا۔ وہ لگن چھوٹا تھا۔ آپ اس میں اپنا ہاتھ نہ پھیلا سکتے تھے۔سب لوگوں نے وضو کیا۔ہم نے کہا: تم کتنے تھے۔کہا: اسی (۸۰) سے کچھ زیادہ۔
١٩۶ ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا: ابواسامہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے بُرید سے، بُرید نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابوموسی سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک پیالہ منگوایا، جس میں پانی تھا۔آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھوئے اور اس میں کلی کی۔
۱۹۷ ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا: عبد العزيز بن ابوسلمہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمرو بن كي نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبداللہ بن زید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ
۲۰۰ ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: حماد نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس سے روایت کی کہ نبی ﷺ
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا: مسکر نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: ابن جبر نے مجھ سے بیان کیا کہا: میں نے حضرت انس سے سنا۔کہتے تھے: نبی ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک ( پانی سے ) نہائے یا کہا غسل فرمایا کرتے تھے اور ایک مد پانی سے وضو کیا کرتے تھے۔
(تشریح)۱۹۸ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی ، کہا: عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھے بتلایا کہ حضرت عائشہ کہتی تھیں : جب نبی ﷺ بیمار ہوئے اور آپ کی بیماری نے آپ پر سخت حملہ کیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت لی کہ میرے گھر میں آپ کی تیمارداری کی جائے۔ تو انہوں نے آپ کو اجازت دی۔ اس پر نبی ﷺ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لیتے ہوئے نکلے۔ آپ کے پاؤں زمین پر لکیر ڈال رہے تھے۔ حضرت عباس اور ایک اور شخص کے درمیان۔ عبید اللہ کہتے تھے۔ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس کو یہ بتلایا تو انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ دوسرا شخص کون ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ کہا: وہ حضرت علی بن ابی طالب) ہیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ جب نبی ﷺ کی تکلیف بڑھ گئی اور آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا: مجھ پر سات ایسی مشکوں سے پانی انڈیلو کہ جن کے بندھن نہ کھولے گئے ہوں۔ شاید کہ میں لوگوں کو وصیت کرسکوں۔ آپ کو ایک لگن میں بٹھایا گیا جو نبی ﷺ کی بیوی حضرت حفصہ کا تھا۔ پھر ہم آپ پر مشکیں ڈالنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ ہم کو اشارہ کرنے لگے کہ بس تم کر چکیں۔ پھر آپ لوگوں کے پاس باہر گئے۔
(تشریح)خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا: سلیمان نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: عمرو بن سکی نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔ وہ کہتے تھے میرے چچا وضو میں پانی بہت استعمال کرتے تھے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید سے کہا: مجھے بتلائیں کہ آپ نے نبی ﷺ کوکس طرح وضو کرتے دیکھا؟ اس پر انہوں نے پانی کا لگن منگوایا اور اپنے ہاتھوں پر (پانی) انڈیلا اور تین دفعہ (ہاتھ) دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ لگن میں ڈالا اور کلی کی ، ناک صاف کیا۔ ایک ہی چلو سے تین بار (ایسا کیا)۔ پھر اپنے ہاتھ ڈالے ان دونوں سے چلو لیا اور اپنا منہ تین بار دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دو دو دفعہ دھوئے۔ اس کے بعد اپنے ہاتھوں میں کچھ پانی لیا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ (اپنے دونوں ہاتھوں کو ) پیچھے لے گئے اور آگے کو لائے۔ پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے اور کہا کہ اسی طرح میں نے نبی ﷺ کو وضو کرتے دیکھا تھا۔
ہمیں اصبغ بن فرج مصری نے ابن وہب سے روایت کرتے ہوئے بتلایا، کہا: مجھ سے عمرو نے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ) ابونضر نے مجھے بتلایا کہ انہوں نے ابوسلمہ بن عبد الرحمان سے، ابوسلمہ نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے، حضرت عبد اللہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے نبی ﷺ کے متعلق بیان کیا کہ آپ نے دونوں موزوں پر سج کیا اور یہ کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے حضرت عمر سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ( یہ بات ) درست ہے۔جب حضرت سعد نبی ﷺ کے متعلق کوئی بات بتا ئیں تو کسی دوسرے سے اس کے متعلق نہ پوچھا کرو اور موسى بن عقبہ نے کہا۔ابونضر نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو سلمہ نے ان کو بتلایا کہ حضرت سعد نے (ان سے یہ حدیث بیان کی تو ) حضرت عمر نے حضرت عبد اللہ سے اسی طرح کہا۔
۲۰۳: ہم سے عمرو بن خالد حرانی نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے یحی بن سعید سے، نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے نافع بن جبیر ہے، نافع نے عروہ بن مغیرہ سے، انہوں نے اپنے باپ حضرت مغیرہ بن شعبہ سے رسول اللہ ﷺ کے متعلق روایت کی کہ آپ قضائے حاجت کے لئے باہر گئے تو حضرت مغیرہ ایک ڈول جس میں پانی تھا؟ لے کر آپ کے پیچھے ہو لئے اور جب آپ حاجت سے فارغ ہوئے تو انہوں نے آپ پر پانی ڈالا۔آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
۲۰۴ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا: شیبان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے سجی سے، تجلی نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری سے روایت کی کہ ان کے باپ نے ان کو بتلایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا۔حرب بن شداد نے بھی اور ابان نے بھی سجی سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی۔