بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
زکریا بن یحيٰنے ہمیں بتایا کہ ابواسامہ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے کہا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبر دی۔ ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: جب احد کی جنگ ہوئی مشرکوں کو شکست ہوئی اور ابلیس چلایا: اللہ کے بندو! اپنے پچھلوں سے بچو۔ یہ سن کر ان سے اگلے لوٹ آئے اور یہ اور پچھلے آپس میں تلواروں سے ایک دوسرے پر پل پڑے۔ حضرت حذیفہ(بن یمانؓ) نے نگاہ کی تو کیا دیکھا کہ ان کے باپ حضرت یمانؓ سے لوگ لپٹے ہوئے ہیں۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا: اللہ کے بندو! یہ میرا باپ ہے، میرا باپ۔ بخدا وہ نہ رُکے، انہیں مار ہی ڈالا۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے۔ عروہ کہتے تھے: حضرت حذیفہؓ اپنے باپ کے مارے جانے پر (ان کیلئے) بھلی دعا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملے۔
حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) کہتے تھے: ایک دفعہ میں ایک سانپ کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اس کو مار ڈالوں کہ اتنے میں ابولبابہؓ نے مجھے آواز دی کہ اسے نہ مارو۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سانپوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا: آپؐ نے اس کے بعد گھریلوؤں سے روک دیا ہے۔ یعنی وہ سانپ جو گھروں میں رہنے والے ہوں۔
ابوالمغیرہ نے ہم سے بیان کیا کہ اَوزاعی نے ہمیں بتایا، کہا: یحيٰنے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ سلیمان بن عبدالرحمن نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ ولید نے ہمیںبتایا۔ اَوزاعی نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰبن ابی کثیر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عبداللہ بن ابی قتادہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ ان کے باپ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے، اگر تم میں سے کوئی پریشان خواب دیکھے جس سے وہ خوف کرے تو چاہیے کہ وہ اپنی بائیں طرف تھوکے اور اس خواب کے شرسے اللہ کی پناہ مانگے۔ پھر وہ اس کو نقصان نہ دے گا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبکر کے آزاد کردہ غلام سُمَیّ سے، سمی نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دن میں سو بار یہ کہے کہ ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ہر ایک خوبی ہے اور وہ ہر شے پر پورا پورا قادر ہے تو یہ کلمہ اس کے لئے ثواب میں دس گردنوں کے آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس شخص کے لئے ایک سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس سے ایک سو گناہ مٹا دئیے جائیں گے اور یہ کلمہ اس کے لئے شیطان سے سارا دِن شام تک بچائو کا سبب ہوگا اور کوئی شخص اس سے بہتر عمل کرنے والا نہ ہوگا مگر وہی جس نے اس سے زیادہ یہ کلمہ پڑھا ہوگا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا۔ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ (ابراہیم بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید نے مجھے خبردی کہ محمد بن سعد بن ابی وقاص نے انہیں بتایا۔ ان کے باپ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے کہا: حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اندر آنے کی) اجازت مانگی اور اس وقت آپؐ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں تھیں جو آپؐ سے باتیں کر رہی تھیں اور آپؐ سے زیادہ خرچ مانگ رہی تھیں۔ ان کی آوازیں بلند تھیں۔ جب حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی وہ اُٹھ کھڑی ہوئیں اور جلدی سے پردے میں ہوگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپؐ کو ہمیشہ ہنسائے ۔ آپؐ نے فرمایا: ان عورتوں پر مجھے تعجب آیا جو میرے پاس تھیں۔ جب انہوں نے تمہاری آواز سنی، جلدی سے پردے میں ہوگئیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ اس کے زیادہ حق دار ہیںکہ وہ آپؐ سے مرعوب ہوتیں۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے کہا: اے اپنی جانوں کی دشمنو! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں۔ انہوںنے کہا: ہاں۔ تم بہت اَکھڑ سنگ دل ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب کبھی بھی شیطان تم سے کسی راستے میں چلتے ہوئے ملتا ہے، وہ بجائے تمہارے راستے پر چلنے کے کسی اور راستے پر ہولیتا ہے۔
ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوحازم کے بیٹے نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یزید (بن عبداللہ) سے، یزید نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے، عیسیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، }٭حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی{ کہ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے جاگے اور پھر وہ وضوکرے تو چاہیے کہ وہ تین بار ناک میں پانی لے کر اسے جھاڑ کر صاف کرے ۔ کیونکہ شیطان اس کی ناک کے بالائی حصے کی اندرونی ہڈیوں پر رات بسر کرتا ہے۔
(تشریح)قتیبہ (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ انصاری سے، عبد الرحمن نے اپنے باپ (عبداللہ) سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو بتایا۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریاں اور جنگل پسند کرتے ہو، اس لئے تم جب اپنی بکریوں اور جنگل میں ہو اور نماز کی اذان دو تو اذان میں اپنی آواز کو بلند کیا کرو۔ اس لئے کہ جو جن و انسان اور جو بھی مؤذن کی آواز آخری حدتک سنے گا وہ ضرور اس کے لئے قیامت کے روز شہادت دے گا۔ حضرت ابوسعیدؓ نے کہا: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ منبر پر کھڑے لوگوں سے مخاطب تھے۔ فرما رہے تھے: سانپوں کو مار ڈالو۔ دو سفید دھاری والے اور دُم کٹے سانپ کو بھی مار ڈالو۔ کیونکہ یہ آنکھ کی بینائی مٹا دیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں۔
اور عبدالرزاق نے معمر سے یوں روایت کی ہے۔ حضرت ابولبابہؓ نے مجھے دیکھا یا حضرت زید بن خطابؓ نے۔ اور معمر کی طرح یونس اور ابن عیینہ اور اسحاق کلبی اور زبیدی نے بھی کہا۔ اور صالح اور ابن ابی حفصہ اور ابن مجمع نے زُہری سے، زُہری نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمرؓ سے یوں روایت کی۔ مجھے ابولبابہؓ اور زید بن خطابؓ نے دیکھا۔
(تشریح)