بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 85 hadith
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، علقمہ نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے، ابو عبد الرحمٰن نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے افضل وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن یاد کرنے والے کی مثال تو اونٹوں کے مالک کی سی ہے جس کے اونٹ رسی سے بندھے ہوں، اگر ان کو دیکھتا بھالتا رہے گا تو انہیں روک رکھے گا اور اگر انہیں یونہی چھوڑ دے گا تو وہ چلے جائیں گے۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید (بن عبداللہ) سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے، حضرت ابوموسیٰؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: قرآن کو ہمیشہ پڑھتے رہو۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ ان اونٹوں سے بھی زیادہ نکل بھاگتا ہے جو رسیوں میں بندھے ہوئے ہوں۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا:مجھے ابوایاس نے خبر دی۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن دیکھا اور اس وقت آپؐ اپنی اونٹنی پر سوار سورة الفتح پڑھ رہے تھے۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: جس کو تم مفصل کہتے ہو وہی محکم ہے۔ (سعید بن جبیر نے) کہا: حضرت ابن عباسؓ فرماتے تھے: رسول صلی اللہ علیہ وسلمفوت ہوئے اور میں اس وقت دس برس کا تھا اور میں محکم پڑھ چکا تھا۔
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ابو بشر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:)میں نے محکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی یاد کرلی تھی۔ میں نے ان (سعید بن جبیر )سے پوچھا: یہ محکم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مفصل۔
عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے سہل بن سعد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس نے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وقف کردیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے اب عورتوں کی حاجت نہیں۔ ایک شخص بولا: مجھ سے اس کی شادی کردیں ۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو کپڑا دو۔ اس نے کہا: میرے پاس تو نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو دو، گو لوہے کی انگوٹھی ہی۔ پھر اس نے آپؐ سے (یہی) عذر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟ اس نے کہا: فلاں فلاں (سورة مجھے یاد ہے) آپؐ نے فرمایا: میں نے تمہارا اس سے نکاح انہی (سورتوں) کے عوض میں کردیا جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم( سلمہ بن دینار) سے، ابوحازم نے سہل بن سعد سے روایت کی کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میں اس لئے آئی ہوں کہ اپنے تئیں آپؐ کو ہبہ کردوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نظر اٹھا کر دیکھا اور نظر کو نیچے کرلیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپؐ نے اس کے متعلق کچھ فیصلہ نہیں کیا تو بیٹھ گئی۔ آپؐ کے صحابہ میں سے ایک شخص اٹھا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپؐ کو اس (عورت) کی حاجت نہیں تو مجھ سے اس کا نکاح کردیجئے۔ آپؐ نے اس سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! بخدا کچھ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے رشتہ داروں کے پاس جاؤ اور دیکھو کیا تمہیں کچھ مل سکتا ہے۔ وہ گیا اور پھر لوٹ آیا اور کہنے لگا: نہیں، یارسول اللہ! بخدا مجھے کچھ نہیں ملا۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو، خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گیا اور پھر لوٹ آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! بخدا کچھ نہیں، لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں مگر یہ میرا تہہ بند ہے۔ سہل کہتے تھے: اس کے پاس اوپر اوڑھنے کی چادر بھی نہ تھی۔ (وہ کہنے لگا:) یہ تہہ بند اس کو آدھا دئیے دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے تہہ بند سے وہ کیا کرے گی۔ اگر تم نے وہ پہنا تو اس عورت پر اس میں سے کچھ نہ رہے گا اور اگر اس نے پہنا تو تم پر کچھ نہ رہے گا۔ یہ سن کر وہ شخص بیٹھ گیا اور دیرتک بیٹھا رہا۔ پھر وہ اٹھ کر چل دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیٹھ موڑے ہوئے جاتے دیکھا۔ آپؐ نے اس کو بلانے کا حکم دیا اور اسے بلایا گیا۔ جب وہ آیا تو آپؐ نے پوچھا: تمہیں کتنا قرآن یاد ہے۔ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورة یاد ہے۔ اس نے ان کو شمار کیا۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم ان سورتوں کو زبانی پڑھتے ہو۔ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ میں نے یہ عورت تمہارے قبضے میں کردی ان (سورتوں) کے عوض میں جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت ہی بری بات ہے ان میں سے ایک کے لئے کہ وہ کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا۔ بلکہ یوں کہے: مجھے بھول گئی۔ اور قرآن کو یاد کرتے رہو کیونکہ وہ آدمیوں کے سینوں سے اونٹوں سے بھی زیادہ جلد نکل بھاگتا ہے۔ عثمان (بن ابی شیبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر )سے ایسا ہی بتایا۔ محمد بن عرعرہ کی طرح بشر (بن محمد) نے بھی اس حدیث کو بیان کیا۔انہوں نے (عبداللہ) بن مبارک سے، انہوں نے شعبہ سے روایت کی۔نیز محمد بن عرعرہ کی طرح ابن جریج نے بھی (اس حدیث کو) بیان کیا۔ انہوں نے عبدہ سے، عبدہ نے شقیق (بن سلمہ) سے روایت کیا۔ (شقیق نے کہا:) میں نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے سنا۔ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا:) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
ربیع بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہم سے زائدہ (بن قدامہ) نے بیان کیا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں سورة کی فلاں فلاں آیت یاد کرادی۔ محمد بن عبیدبن میمون نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ (بن یونس) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے روایت کی۔ اور (اس میں یوں ہے:)آپؐ نے فرمایا: ان کو میں فلاں سورة میں نہیں پڑھا کرتا تھا۔ عیسیٰ بن یونس کی طرح علی بن مسہر اور عبدہ نے بھی ہشام سے یہی روایت کی۔