بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
اور عبداللہ بن سالم نے زبیدی سے نقل کیا کہ عبدالرحمٰن بن قاسم نے کہا: قاسم (بن محمد) نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ وفات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹکٹکی بندھ گئی اور آپؐ نے تین بار فرمایا: رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔ اور پھر انہوں نے یہی واقعہ بیان کیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے خطبوں میں سے کوئی بھی ایسا خطبہ نہ تھا کہ جس کے ذریعہ سے اللہ نے فائدہ نہ پہنچایا ہو۔ حضرت عمرؓ نے بھی لوگوں کو ڈرایا جبکہ ان میں نفاق تھا۔ پھر اللہ نے ان کو ان خطبوں کے ذریعہ سے پھر ویسے کا ویسا بنا دیا۔
پھر حضرت ابوبکرؓ نے بھی لوگوں کو سیدھا راستہ دکھلایا اور ان کو وہ سچائی شناخت کرا دی جس پر کہ وہ پہلے تھے اور وہ یہی آیت پڑھتے باہر نکلے تھے: اور محمد نہیں ہے مگر ایک رسول۔ یقیناً اس سے پہلے رسول فوت ہوچکے ہیں…
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ اُحد پر چڑھے تو وہ ان کے سمیت ہلنے لگا۔ آپؐ نے فرمایا: اُحد ٹھہر جا۔ تم پر ایک نبی ہے اور ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ جامع بن ابی راشد نے ہم سے بیان کیا کہ ابویعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ محمد بن حنفیہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ (حضرت علیؓ) سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سے کون بہتر ہے؟ انہوں نے کہا: حضرت ابوبکرؓ۔ میں نے کہا: پھر کون؟ انہوں نے کہا: حضرت عمرؓ۔ اور میں ڈرا کہ کہیں یہ نہ کہہ دیویں کہ حضرت عثمانؓ۔ میں نے کہا: پھر آپ؟ انہوں نے کہا: میں تو عام مسلمانوں میں سے ایک شخص ہوں۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے ، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپؐ کے سفروں میں سے کسی سفر میں ہم نکلے۔ جب ہم بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے تو میرا ایک ہار ٹوٹ کر گر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تلاش کرنے کے لئے ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپؐ کے ساتھ ٹھہر گئے۔ اور وہ کسی پانی کے قریب نہیں تھے اور نہ ہی پانی ان کے ساتھ تھا تو لوگ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا آپؐ نہیں دیکھتے کہ حضرت عائشہؓ نے کیا کیا؟ رسول اللہﷺ کو اور آپؐ کے ساتھ لوگوں کو بھی ٹھہرا رکھا ہے بحالیکہ وہ پانی کے قریب نہیں اور نہ پانی ان کے ساتھ ہے۔ حضرت ابوبکرؓ یہ سن کر آئے اور اس وقت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر رکھے سوئے ہوئے تھے۔ اور کہنے لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو روک رکھا ہے بحالیکہ وہ کہیں پانی کے قریب نہیں اور نہ پانی ان کے ساتھ ہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں:حضرت ابوبکرؓ نے مجھ پر غصہ کا اظہار کیا اور جو اللہ نے کہلانا چاہا انہوں نے کہا، اور وہ میری کوکھ میں اپنے ہاتھ سے کونچ مارنے لگے۔ میری ران پر رسول اللہ ﷺ سوئے ہوئے تھے۔ مجھے حرکت کرنے سے صرف یہی بات روکتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ میری ران پر آرام کررہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سوئے رہے۔ آخر صبح جو ہوئی تو آپؐ کے پاس پانی نہ تھا تو پھر اللہ نے تیمم کا حکم نازل فرمایا اور لوگوں نے تیمم کیا۔ اس پر حضرت اُسید بن حضیرؓ نے کہا: ابوبکرؓ کے خاندان! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں۔ پھر حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: ہم نے اس اونٹ کو اُٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہم نے اس ہار کو اس کے نیچے پایا۔
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے ذکوان سے سنا۔ وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔ کیونکہ اگر تم سے کوئی اُحد کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے مُدّ (پیمانے) کے برابر بھی نہ پہنچے گا اور نہ نصف مُدّ کے برابر۔ (جو انہوں نے اللہ کی راہ میں پیش کیا۔) شعبہ کی طرح جریر اور عبد اللہ بن داؤد اور ابو معاویہ اور محاضر نے بھی اعمش سے یہی روایت کی۔
محمد بن مسکین ابوالحسن نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن حسان نے ہمیں بتایا۔ سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے شریک بن ابی نمرسے، شریک نے سعید بن مسیب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنے گھر میں وضو کیا پھر باہر نکلے اور کہا: میں رسول اللہ ﷺ سے الگ نہیں ہوں گا اور آج سارا دن آپؐ کے ساتھ ہی رہوں گا۔ سلیمان کہتے تھے: چنانچہ وہ مسجد میں آئے اور انہوں نے نبی ﷺ کی بابت پوچھا۔ لوگوں نے کہا: باہر نکلے ہیں اور اس طرف گئے ہیں۔ میں آپؐ سے متعلق پوچھتا پچھاتا آپؐ کے پیچھے چلا گیا۔ آپؐ اریس باغ میں گئے تھے، میں دروازے کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ کھجور کی ڈالیوں کا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ حاجت سے فارغ ہوئے۔ آپؐ نے وضو کیا اور میں اُٹھ کر آپؐ کی طرف گیا تو کیا دیکھا آپؐ اریس کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھے ہیں اور پنڈلیوں سے کپڑا اُٹھایا ہوا ہے۔ آپؐ اپنی دونوں ٹانگیں کنوئیں میں لٹکائے ہوئے تھے۔ میں نے آپؐ کو السلام علیکم کہا۔ پھر لوٹ آیا اور آکر دروازے پر بیٹھ گیا ۔ میں نے کہا: آج میں رسول اللہ ﷺ کا دربان بنوں گا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر ؓ آئے اور انہوں نے دروازے کو دھکیلا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکرؓ۔ میں نے کہا: ذرا ٹھہر جائیں۔ پھر میں نے جاکرکہا: یا رسول اللہ! یہ حضرت ابوبکرؓ ہیں جو اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں اجازت دو اور ان کو جنت کی بشارت دو۔ میں نے آکر حضرت ابوبکرؓ سے کہا: اندر آجائیں اور رسول اللہ ﷺ آپ کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ اندر آئے اور رسول اللہ ﷺ کی دائیں طرف آپؐ کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے اور انہوں نے بھی اپنی ٹانگیں کنوئیں میں لٹکا دیں جیسا کہ نبی ﷺ نے کیا تھا اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اُٹھا لیا۔ پھر میں واپس آیا اور بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی کو چھوڑ آیا تھا کہ وضو کرکے مجھ سے آ ملیں۔ میں نے دل میں کہا کہ اگر اللہ فلاں کی بہتری چاہے گا اس کو لے آئے گا۔ اس سے ان کی مراد اپنے بھائی سے تھی۔ میں نے کیا دیکھا کہ کوئی آدمی دروازے کو ہلا رہا ہے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ کہا: عمر بن خطابؓ۔ میں نے کہا: ذرا ٹھہرجائیں۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کو السلام علیکم کہا اور میں نے کہا: یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ ہیں جو اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں اجازت دو اور ان کو جنت کی بشارت دو۔ میں آیا،میں نے کہا: اندر آئیں اور رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو جنت کی بشارت دی ہے۔ وہ اندر آئے اور منڈیر پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپؐ کی بائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنوئیں میں لٹکا دئیے ۔ پھر میں لوٹ آیا اور آکر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: اگر اللہ نے فلاں کی بہتری چاہی تو اس کو لے آئے گا۔ اتنے میں ایک آدمی آیا۔ دروازے کو ہلانے لگا۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ کہا: عثمان بن عفانؓ۔ میں نے کہا: ذرا ٹھہریں اور میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کو خبر دی۔ آپؐ نے فرمایا: ان کو اجازت دو اور ان کو جنت کی بشارت دو، باوجود ایک بڑی مصیبت کے جو انہیں پہنچے گی۔ میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا: اندر آئیں اور رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو جنت کی بشارت دی ہے، باوجود ایک بڑی مصیبت کے جو آپ کو پہنچے گی۔ وہ اندر آئے اور دیکھا کہ منڈیر کا ایک کنارہ بھر گیا ہے تو وہ آپؐ کے سامنے دوسرے کنارے پر بیٹھ گئے۔ شریک بن عبد اللہ کہتے تھے: سعید بن مسیب نے کہا: میں نے اس سے یہ سمجھا کہ ان کی قبریں بھی اسی ترتیب سے ہوں گی۔
احمد بن سعید ابوعبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ وہب بن جریر نے ہمیں بتایا کہ صخر نے ہم سے بیان کیا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنوئیں پر کھڑا ہو کر اس سے پانی نکال رہا ہوں۔ اسی اثناء میں ابوبکرؓ اور عمرؓ میرے پاس آئے تو ابوبکرؓ نے وہ ڈول لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچ کر نکالے اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی اور اللہ ان کی کمزوری پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگذر کرے گا۔ پھر خطاب کے بیٹے نے ابوبکرؓ کے ہاتھ سے وہ ڈول لیا اور وہ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا چرسا ہوگیا۔ میں نے لوگوں میں ایسا شہ زور نہیں دیکھا جو ان کی طرح حیرت انگیز کا م کرتا ہو۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگ سیر ہوکر اپنے اپنے ٹھکانوں میں جا بیٹھے۔ وہب نے کہا: عَطَنٌ کے معنی اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کے ہوتے ہیں اورضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کے اونٹ سیر ہوکر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔
ولید بن صالح نے ہم سے بیان کیاکہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا کہ عمربن سعید بن ابی حسین مکی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جنہوں نے حضرت عمر بن خطابؓ کے لئے دعا کی اور انہیں تختہ پر رکھ دیا گیا ۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص نے میرے پیچھے سے آکر اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھ دی۔ کہنے لگا: اللہ تم پر رحم کرے۔ مجھے تو یہی امید تھی کہ اللہ تمہیں بھی تمہارے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی دفن کرے گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے بہت دفعہ سنا تھا۔ میں اور ابوبکرؓ اور عمرؓ فلاں جگہ تھے اور میں نے اور ابوبکرؓ اور عمرؓ نے یہ کیا ۔ میں اور ابوبکرؓ اور عمرؓ چلے گئے۔ اس لئے میں یہی امید رکھتا تھا کہ اللہ تم کو بھی ان دونوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو حضرت علی بن ابی طالبؓ تھے۔
محمد بن یزید کوفی نے ہم سے بیان کیا کہ ولید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ وہ کہتےتھے: میں نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے سخت سے سخت اس سلوک کی نسبت پوچھا جو مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے عقبہ بن ابی معیط کو دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے تو اس نے آپؐ کی گردن میں (اپنی) چادر ڈالی اور نہایت زور سے آپؐ کا گلا گھونٹا۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ آن پہنچے اور انہوں نے عقبہ کو دھکا دے کر آپؐ سے ہٹا یا اور کہنے لگے: کیا تم ایک شخص کو اس بات پر مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ یہ کہتا ہے: میرا ربّ اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس کھلے کھلے دلائل بھی لایا ہے۔
(تشریح)