بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیزبن ماجشون نے ہمیں بتایا۔ (کہا:) محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ رُمَیصاء ابوطلحہ کی بیوی وہاں ہے اور میں نے پاؤں کی آہٹ سنی۔ میں نے کہا: یہ کون؟ تو کہا: یہ بلالؓ ہے۔ اور میں نے ایک محل دیکھا جس کے آنگن میں ایک لڑکی ہے۔میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا: عمرؓ کا۔ میں نے اس محل میں داخل ہونا چاہا کہ اس کو دیکھوں تو تمہاری غیرت مجھے یاد آئی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ۔ کیا میں آپؐ پر بھی غیرت کھاؤں گا۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا، کہا: اسماعیل(بن ابی خالد) سے روایت ہے کہ قیس نے ہم سے بیان کیا، کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کہتے تھے: جب سے حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے ہیں ہم عزت سے ہی رہے۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عقیل نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپؐ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ اسی اثناء میں مَیں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت ہے جو محل کے ایک طرف وضو کررہی ہے۔ میں نے کہا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمرؓ کا ۔ تو مجھے عمرؓ کی غیرت یاد آئی اور میں پیٹھ موڑ کر چلا آیا۔ حضرت عمرؓ سن کر رو پڑے اور کہنے لگے: یارسول اللہ! کیا میں آپؐ پر غیرت کھاؤں گا۔
محمد بن صلت ابوجعفر کوفی نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن مبارک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حمزہ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی اثناء میں کہ میں سویا ہوا تھا ، میں نے پیا یعنی دودھ، اتنا کہ میں طراوت کو اپنے ناخن یا فرمایا اپنے ناخنوں میں سرایت کرتے دیکھتا تھا۔ پھر میں نے عمرؓ کو دیا تو صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپؐ نے اس سے کیا مراد لی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: علم۔
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن بشر نے ہمیں بتایا۔ (کہا:) عبیداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابوبکربن سالم نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے سالم سے، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: خواب میں مجھے دکھایا گیا کہ میں ایک کنوئیں پر کھڑا ڈول سے جو چرخی پر رکھا ہوا تھا پانی کھینچ کرنکال رہا ہوں۔ اتنے میں ابوبکرؓ آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچ کر اس طور سے نکالے کہ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اور اللہ ان کی کمزوری پر پردہ پوشی کرے گا اور ان سے درگذر فرمائے گا۔ پھر عمر بن خطابؓ آئے اور وہ ڈول بڑا چرسا ہو گیا تو میں نے کوئی شہ زور نہیں دیکھا جو ایسا حیرت انگیز کام کرتا ہو جیسا عمرؓ نے کیا۔ اتنا پانی نکالا کہ لوگ سیر ہوگئے اور اپنے اپنے ٹھکانوں پر جا بیٹھے۔ ابن جبیر نے کہا: عَبْقَرِيّ (آذربائیجان کے بنے ہوئے) اعلیٰ غالیچوں کو کہتے ہیں۔ اور یحيٰ نے کہا: ذَرَابِي وہ نیچے بچھانے کے فرش ہیں جن میں باریک مخمل کے دھاگے ہوتے ہیں۔ اور ذَرَابِيُّ مَبْثُوْثَةٌ کے معنی ہیں بہت سے بچھے ہوئے قالین۔ }اور عبقری سردار کو بھی کہتے ہیں۔{
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبدالحمید (بن عبدالرحمٰن) نے مجھے بتایا کہ محمد بن سعد(بن ابی وقاص) نے ان کو خبردی کہ ان کے باپ نے کہا۔ نیز ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالرحمٰن بن زید سے، عبدالرحمٰن نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے: حضرت عمر بن خطابؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی اور اس وقت آپؐ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی آپؐ سے باتیں کر رہی تھیں اور آپؐ سے زیادہ خرچ مانگ رہی تھیں۔ ان کی آوازیں آپؐ کی آواز سے اونچی تھیں۔ جب حضرت عمر بن خطابؓ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو وہ اٹھ کر جلدی سے پردے میں چلی گئیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو آنے کی اجازت دی۔ حضرت عمرؓ آئے اور رسول اللہ ﷺ ہنس رہے تھے ۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپؐ کو ہمیشہ ہنستا رکھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ان عورتوں سے متعجب ہوں جو میرے پاس تھیں۔ جب انہوں نے آپ کی آواز سنی، جلدی سے پردے میں چلی گئیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! حالانکہ آپؐ زیادہ لائق ہیں کہ آپؐ سے جھینپیں۔ پھر حضرت عمرؓ کہنے لگے: اری اپنی جانوں کی دشمنو! کیا تم مجھ سے جھینپتی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے نہیں جھینپتیں۔ وہ بولیں: ہاں۔ آپ تو بڑے کھردرے اور سخت مزاج ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ایسے نہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خطاب کے بیٹے سنو! اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ شیطان جب کبھی بھی آپ سے راستے پر چلتے ہوئے ملا ہے تو ضرور ہی اس نے وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ لیا۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ عمر بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے۔ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے:حضرت عمرؓ جنازے کے لئے رکھے گئے اور لوگ ان کے گرد کھڑے ہوگئے۔ ان کے اُٹھانے سے پہلے دعا کرنے لگے۔ پھر نماز جنازہ پڑھنے لگے اور میں بھی ان میں موجود تھا تو ایک شخص نے میرا کندھا پکڑ کر چونکا دیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب ہیں۔ وہ حضرت عمرؓ کے لئے رحمت کی دعا کرنے لگے اور کہا: آپ نے کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جو آپ سے بڑھ کر مجھے پیارا ہو اس لحاظ سے کہ میں ان جیسے عمل کرتے اللہ سے ملوں۔ بخدا میں یہی سمجھتا تھا کہ اللہ آپ کو بھی آپ کے ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا اور میں جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت دفعہ میں یہ سنا کرتا تھا ۔ آپؐ فرمایا کرتے تھے: میں اور ابوبکرؓ اور عمرؓ گئے۔ میں اور ابوبکرؓ اور عمرؓ داخل ہوئے۔ میں اور ابوبکرؓ اور عمرؓ نکلے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ سعیدبن ابی عروبہ نے ہم سے بیان کیا۔ نیز خلیفہ(بن خیاط) نے مجھ سے کہا کہ محمد بن سواء(سدوسی بصری) اور کہمس بن منہال نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ اُحد پرچڑھے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ تھے تو وہ ان کے سمیت ہلنے لگا۔ تو آپؐ نے اس پر اپنا پاؤں مارا اور فرمایا: اُحدٹھہر جا۔ تم پر اور کوئی نہیں، ایک نبی ہے یا ایک صدیق ہے یا دو شہید ہیں۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: عمر بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ زید بن اسلم نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت (عبداللہ) بن عمرؓ نے ان کے یعنی حضرت عمرؓ کے بعض حالات کی بابت مجھ سے پوچھا۔ میں نے ان کو بتائے۔ پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب سے کہ آپؐ اُٹھائے گئے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا کہ جو حضرت عمر بن خطابؓ سے بڑھ کر آخر تک کوشش کرنے والا اور سخاوت کرنے والا ہو۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کہنے لگا: وہ گھڑی کب ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: تم نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا: کچھ نہیں، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر تم انہی کے ساتھ ہوگے جن سے تم نے محبت رکھی۔ حضرت انسؓ نے کہا: ہم کسی بات پر اتنا خوش نہیں ہوئے جتنا نبی ﷺ کی اس بات پر کہ تو انہی کے ساتھ ہوگاجن سے تو نے محبت رکھی۔ حضرت انسؓ نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ بوجہ اس محبت کے کہ جو اُن کے ساتھ رکھتا ہوں ان کے ساتھ ہوں گا، گو میں نے ان کے سے عمل نہیں کئے ۔