بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
سعید بن عُفَیر نے ہمیں بتایا کہ لیث(بن سعد) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے لکھ بھیجا۔ ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی پر اتنی غیرت نہیں کیا کرتی تھی، جتنی کہ خدیجہؓ پر غیرت کرتی تھی۔ وہ مجھ سے شادی کرنے سے پہلے انتقال کرچکی تھیں۔ یہ غیرت اس وجہ سے آتی تھی کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتی تھی کہ آپؐ ہمیشہ ان کی تعریف کرتے اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ سے فرمایا تھا کہ خدیجہؓ کو موتیوں کے ایک محل کی بشارت دیں اور جب بھی آپؐ کوئی بکری ذبح کرتے تو ضرور ہی خدیجہؓ کی سہیلیوں کو اس کے گوشت میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے کہ ان کے لئے کافی ہوتا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل (بن ابی خالد) سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا نبی ﷺ نے حضرت خدیجہؓ کو بشارت دی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، خول دارموتیوں کے ایک گھر کی جس میں نہ شوروغل ہوگا اور نہ غم و تکلیف۔
اسحاق واسطی نے ہم سے بیان کیاکہ خالد (بن عبداللہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بیان (بن بشر) سے، بیان نے قیس(بن ابی حازم) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے قیس سے سنا۔ وہ کہتے تھے:حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں مسلمان ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اندر آنے سے نہیں روکا اور جب بھی مجھے آپؐ نے دیکھا، آپؐ ضرور ہنستے۔
اور قیس سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہؓ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: زمانہ جاہلیت میں(یمن میں) ایک گھر ہوا کرتا تھا جسے ذوالخلصہ کہتے تھے اور اس کو یمانی کعبہ یا شامی کعبہ بھی کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے بے فکر کرو گے؟ حضرت جریرؓ کہتے تھے: یہ سن کر میں ایک سو پچاس سوار احمس کے لے کر اس کی طرف نکل پڑا۔ پھر ہم نے وہ توڑ پھوڑ دیا اور جن لوگوں کو وہاں پایا، قتل کر دیا۔ پھر ہم آپؐ کے پاس آئے اور آپؐ کو بتایا تو آپؐ نے ہمارے لئے اور احمس(قبیلہ) کے لئے دعا کی۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حُمید بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: میں کسی عورت پر اتنا رشک نہیں کرتی تھی جتنا کہ خدیجہؓ پر ۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بہت ذکر کیا کرتے تھے۔ کہتی تھیں: آپؐ نے ان کی وفات کے تین سال بعد مجھ سے شادی کی اور آپؐ کے ربّ عزو جل نے فرمایا تھا، یا کہا: جبرائیل علیہ السلام نے آپؐ سے یہ کہا کہ خدیجہؓ کو جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت دے دیں جو موتیوں کا ہوگا۔
عمر بن محمد بن حسن نے مجھے بتایا کہ میرے والد نے ہم سے بیان کیا کہ حفص (بن غیاث) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی پر بھی اتنا رشک نہ کرتی جتنا کہ خدیجہؓ پر۔ حالانکہ میں نے ان کو کبھی دیکھا نہیں۔ مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بہت ذکر کیا کرتے تھے اور کبھی بکری جو ذبح کرتے تو آپؐ پھر اس کے چند حصوں میں ٹکڑے کرتے۔ پھر اس کو خدیجہؓ کی سہیلیوں کو بھیج دیتے۔ کبھی میں آپؐ سے یہ کہتی: جیسے دنیا میں خدیجہؓ کے سوا کوئی اور عورت ہی نہیں ہوئی۔ آپؐ فرماتے: وہ ایسی تھیں، وہ ایسی تھیں اور اس سے میری اولاد ہوئی۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمارہ (بن قعقاع) سے، عمارہ نے ابوزُرعہ سے، ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جبرائیلؑ نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ خدیجہؓ آرہی ہیں، ایک برتن کو لئے ہوئے جس میں سالن ہے، یا کہا: کچھ کھانے پینے کی چیزیں ۔ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے ربّ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور ان کو جنت میں ایک ایسے گھر کی خوشخبری دیں جو خول دار موتیوں کا ہوگا۔ جس میں نہ شوروغل ہوگا نہ رنج و تکلیف۔
اور اسماعیل بن خلیل نے کہا: علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: خدیجہؓ کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ آپؐ کو خیال آیا کہ خدیجہؓ اس طرح (اندر آنے کی) اجازت مانگا کرتی تھیں اور اس وجہ سے آپؐ گھبرا گئے اور فرمایا: خدایا! یہ ہالہ ہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: مجھے رشک آیا، میں نے کہا: آپؐ قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بوڑھی کو کیا یاد کرتے رہتے ہیں جس کی باچھیں سرخ تھیں جو کبھی کی مرکھپ چکی۔ اللہ نے آپؐ کو تو اس کے بدلے میں اس سے بہتر بھی دے دی ہے۔
(تشریح)مجھ سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا کہ سلمہ بن رجاء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: جب اُحد کی جنگ ہوئی مشرک شکست فاش کھا گئے۔ ابلیس نے پکار کر کہا: اے اللہ کے بندو! تم اپنے پیچھے والوں کی خبر لو۔ چنانچہ جو آگے تھے وہ اپنے پچھلوں پر لوٹ پڑے اور جوپچھلے تھے ان سے لڑنا شروع کر دیا۔ حضرت حذیفہؓ نے جو غور سے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ ان کے باپ سے لپٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پکارا: اللہ کے بندو! میرا باپ ہے، میرا باپ ہے۔ کہتی تھیں: اللہ کی قسم! وہ نہ رکے یہاں تک کہ اس کو مار ہی ڈالا۔ حضرت حذیفہؓ نے یہ دیکھ کر کہا: تمہیں اللہ بخشے ۔ (ہشام بن عروہ نے کہا:) میرے باپ کہتے تھے: اللہ کی قسم! حذیفہؓ میں اسی کلمہ کی وجہ سے ہمیشہ بھلائی رہی یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل سے جا ملے۔
(تشریح)عبدان نے کہا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ یونس نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا) کہ مجھ سے عروہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: ہند بنت عتبہؓ آئیں ۔ کہنے لگیں: یارسول اللہ! روئے زمین پر آپؐ کے ڈیرہ والوں سے بڑھ کر کسی ڈیرہ والوں کا ذلیل و خوار ہونا مجھ کو پسند نہ تھا۔ پھر اس کے بعد آج روئے زمین پر آپؐ کے ڈیرہ والوں سے بڑھ کر کسی دوسرے ڈیرہ والے کا عزت مند ہونا مجھے پسند نہیں ۔ کہتی تھیں: اور اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ہند نے یہ بھی کہا: رسول اللہ! ابوسفیانؓ بہت ہی کنجوس آدمی ہے۔ آیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا کہ اس کا جو مال ہے اس میں سے اپنے بچوں کو کھلاؤں ۔ آپؐ نے فرمایا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ دستور کے مطابق خرچ کرلیا کرو۔
(تشریح)