بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
: یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیا ن کیاکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے میں نے سنا۔ کہتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جب قریش نے مجھے بیت المقدس تک جانے کے بارہ میں جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہوگیا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے صاف طور پر ظاہر کردیا اور میں اسے دیکھ کر ان کو پتہ اور نشان بتلانے لگا۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی کہ عطاء (بن ابی رباح) نے کہا کہ حضرت جابرؓ کہتے تھے: میں اور میرے والد اور میرے ماموں بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو عقبہ میں موجود تھے۔
معلیٰ (بن اسد) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) وہیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: خواب میں دو دفعہ تم مجھے دکھائی گئی تھی۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں ہو اور کوئی کہتا ہے: یہ تمہاری بیوی ہے {اسے} کھول کر دیکھو۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ تم ہو۔ {میں کہا کرتا تھا کہ} اگریہ رؤیا اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کردے گا۔
ہدبہ بن خالد نے ہمیں بتایا کہ ہمام بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا۔ قتادہ (بن دعامہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت مالک بن صعصعہ ؓ سے روایت کی کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس رات کے متعلق بیان کیا جس رات کو آپؐ لے جائے گئے۔ فرماتے تھے: اس اثناء میں کہ میں حطیم میں تھا اور کبھی آپؐ نے فرمایا: حجر میں لیٹا ہوا تھا کہ اتنے میں میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے چیر ڈالا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓ کو یہ بھی کہتے سنا کہ یہاں سے یہاں تک چیر ڈالا۔ تو میں نے جارود (بن ابی سبرہ) سے کہا اور وہ میرے پاس ہی تھے: اس سے آپؐ کی کیا مراد تھی؟ انہوں نے کہا کہ دُگدگی (یعنی ہنسلی کی ہڈی) سے ناف تک اور میں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ سینے کے سرے سے ناف تک چیر کر میرا دل نکالا۔ پھر میرے پاس ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ پھرمیرا دل دھویا گیا۔ پھر اس کو اندر ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا۔ سفید رنگ کا تھا۔ جارود نے حضرت انسؓؓسے کہا کہ ابوحمزہ یہی براق ہوتا ہے؟ حضرت انسؓ نے کہا: ہاں۔ وہ اپنی نگاہ کے انتہائی حد تک اپنا قدم ڈالتا تھا۔ مجھے اس پر سوار کیا گیا اور مجھے جبرائیلؑ لے کر چل پڑے یہاں تک کہ جب سب سے نچلے آسمان پر پہنچے تو انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ کہا: جبرائیلؑ۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمدؐ۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلا بھیجا ہے؟ کہا: ہاں۔ کہا گیا: خوشی سے آئیں۔ کیا اچھا ہے ان کا یہ آنا! پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں آدم ؑ ہیں۔ جبرائیلؑ نے کہا: تمہارے باپ آدم ؑ ہیں۔ انہیں سلام کہیے۔ چنانچہ میں نے ان کو السلام علیکم کہا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر کہنے لگے: خوشی سے آئیں اچھے بیٹے اور اچھے نبی۔ پھر مجھے لے کر (جبرائیلؑ) اوپر چڑھے۔ یہاں تک کہ جب دوسرے آسمان پر پہنچے اور انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیلؑ۔ پوچھا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمدؐ ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلا بھیجا گیا ہے؟ کہا: ہاں۔ کہا گیا: خوشی سے آئیں۔ آپؐ کا آنا کیا ہی اچھا ہے! اور دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر پہنچا۔کیا دیکھتا ہوں کہ یحيٰ ؑاور عیسیٰؑ ہیں اور وہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرائیلؑ نے کہا: یہ یحيٰ ؑ اور عیسیٰؑ ہیں انہیں السلام علیکم کہیے۔ چنانچہ میں نے السلام علیکم کہا۔ انہوں نے جواب دیا اور وہ دونوں کہنے لگے: خوشی سے آئیں اچھے بھائی اور اچھے نبی۔ پھر جبرائیلؑ مجھے ساتھ لے کر تیسرے آسمان پر چڑھے اور انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیلؑ۔ پوچھا گیااور تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا کہ محمدؐ ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلا بھیجا گیا ہے؟ کہا: ہاں۔ کہا گیا: خوشی سے آئیں۔ آپؐ کا آنا کیا ہی اچھا ہے! پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ یوسفؑ ہیں۔ جبرائیلؑ نے کہا: یہ یوسفؑ ہیں۔ انہیں سلام کہیے۔ میں نے السلام علیکم کہا۔ انہوں نے جواب دیا اور کہا: خوشی سے آئیں اچھے بھائی اور اچھے نبی۔ پھر جبرائیلؑ مجھے لے کر اُوپر چڑھے یہاں تک کہ چوتھے آسمان تک پہنچے اور انہوں نے دروازہ کھولنے کیلئے کہا۔پوچھا گیا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیلؑ، پوچھا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمدؐ۔ پوچھا گیا: آیا انہیں بلا بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: خوشی سے آئیں۔ آپؐ کا آنا کیا ہی اچھا ہے! پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں ادریسؑ کے پاس پہنچا۔ جبرائیلؑ نے کہا: یہ ادریس ؑ ہیں انہیں سلام کہیے۔ چنانچہ میں نے السلام علیکم کہا اور انہوں نے جواب دیا۔ پھر کہنے لگے: خوشی سے آئیں اچھے بھائی اور اچھے نبی۔ پھر اس کے بعد جبرائیلؑ مجھ کو لے کر اُوپر چڑھے اور جب پانچویں آسمان پر پہنچے۔ انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا۔ پوچھا گیا: کون ہے؟ کہا گیا: جبرائیلؑ۔ پوچھا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا کہ محمد ﷺ ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلابھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: خوشی سے آئیں آپؐ کا آنا کیا ہی اچھا ہے! جب میں اندر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہارونؑ ہیں۔ جبرائیلؑ نے کہا: یہ ہارون ؑ ہیں انہیں سلام کہیے۔ تب میں نے انہیں السلام علیکم کہا۔ انہوں نے جواب دیا اور کہا: خوشی سے آئیں اچھے بھائی اور اچھے نبی۔ پھر اس کے بعد جبرائیلؑ مجھے لے کر اوپر چڑھ گئے، یہاں تک کہ چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھولنے کے لئے کہا۔ پوچھا گیا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیلؑ۔ پوچھا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمدؐ ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلابھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا: خوشی سے آئیں ان کا آنا کیا ہی اچھا ہے! جب میں اندر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ موسیٰؑ ہیں۔ جبرائیلؑ نے کہا: یہ موسیٰؑ ہیں انہیں سلام کہیے۔ میں نے السلام علیکم کہا اور انہوں نے جواب دیا۔ پھر وہ کہنے لگے: خوشی سے آئیں اچھے بھائی اور اچھے نبی۔ جب میں آگے بڑھا تو موسیٰؑ رونے لگے۔ ان سے پوچھا گیا: آپ کو کیا بات رلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: میں اس لئے رو رہا ہوں کہ یہ ایک لڑکا میرے بعد مبعوث کیا گیا ہے کہ جس کی امت میں سے جنت میں زیادہ لوگ داخل ہوں گے بہ نسبت ان کے جو میری امت میں سے داخل ہوئے۔ پھر جبرائیلؑ مجھ کو لے کر ساتویں آسمان پر چڑھے اور جبرائیلؑ نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا۔پوچھا گیا: کون ہے؟ کہا گیا: جبرائیلؑ۔ پوچھا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمدؐ۔ پوچھا گیا اور کیا انہیں بلا بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا: خوشی سے آئیں آپؐ کا آنا کیا ہی اچھا ہے! جب میں اندر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ابراہیمؑ ہیں۔ جبرائیلؑ نے کہا: یہ آپؐ کے باپ ہیں انہیں سلام کہئے۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے انہیں السلام علیکم کہا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ کہنے لگے: خوشی سے آئیں اچھے بیٹے اور اچھے نبی۔ پھر مجھے دور سے سدرة المنتہٰی دکھلایا گیا۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے بیر ہجر کے مٹکوں کے برابر ہیں اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کے برابر۔ جبرائیلؑ نے کہا: یہ سدرة المنتہٰی ہے اور کیا دیکھتا ہوں کہ چار دریا ہیں دو اندر چھپے ہوئے اور دو باہر۔ میں نے کہا: جبرائیلؑ یہ دو دریا کیا ہیں؟ کہنے لگے: وہ جو اندر ہیں تو وہ دو نہریں ہیں جنت میں اور وہ جو باہر ہیں تو وہ نیل اور فرات ہیں۔ پھر اس کے بعد مجھے اور بلندی سے بیت معمور دکھلایا گیا۔ پھر اس کے بعد میرے پاس شراب کا ایک برتن لایا گیا اور ایک دودھ کا برتن اور ایک شہد کا برتن۔ میں نے دودھ لیا۔ جبرائیلؑ نے کہا: یہی وہ فطرت ہے جس پر تم اور تمہاری امت ہے۔ پھر پچاس نمازیں روزانہ مجھ پر فرض کی گئیں۔ میں لوٹا اور موسیٰؑ کے پاس سے گزرا۔ موسیٰ ؑنے پوچھا: آپؐ کو کیا کچھ حکم ہوا ہے؟ آنحضرتﷺ نے جواب دیا: مجھے روزانہ پچاس نمازوں کا حکم ہوا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا: آپؐ کی امت روزانہ پچاس نمازوں کی طاقت نہیں رکھے گی اور میں آپؐ سے پہلے بخدا لوگوں کا تجربہ کرچکا ہوں اور بنی اسرائیل کی اصلاح کے لئے میں بہت جتن کرچکا ہوں۔ اس لئے اپنے ربّ کے پاس واپس جائیں اور اس سے درخواست کریں کہ وہ آپؐ کی امت کے لئے کمی کر دے۔ اس پر میں واپس گیا اور اس(اللہ) نے دس نمازیں کم کر دیں۔ پھر میں موسیٰؑ کے پاس لوٹا اور پھر انہوں نے ویسا ہی کہا۔ چنانچہ میں لوٹا اور اس (اللہ) نے میری نمازوں سے دس اور کم کر دیں۔ میں موسیٰؑ کے پاس واپس آیا۔ انہوں نے پھر ویسا ہی کہا۔ چنانچہ میں لوٹا اور اس(اللہ) نے میری نمازوں سے دس اور کم کر دیں۔ میں موسیٰؑ کے پاس واپس آیا۔ انہوں نے پھر ویسا ہی کہا۔ میں پھر لوٹا اور مجھے ہر روز دس نمازوں کا حکم ہوا۔ میں واپس لوٹا اور موسیٰ ؑنے پھر ویسا ہی کہا۔ چنانچہ میں پھر لوٹا اور مجھے ہر روز پانچ نمازوں کا حکم ہوا۔ میں موسیٰؑ کے پاس واپس آیا اور انہوں نے پوچھا: آپؐ کو کتنی نمازوں کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے ہر روز پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا: آپؐ کی امت تو ہر روز پانچ نمازوں کی بھی طاقت نہیں رکھے گی اور میں آپؐ سے پہلے لوگوں کا خوب تجربہ کرچکا ہوں اور بنی اسرائیل کی اصلاح میں سارے جتن کرچکا ہوں۔ اس لئے آپؐ پھر اپنے ربّ کے پاس جائیں اور اس سے درخواست کریں کہ آپؐ کی امت کیلئے کم کردے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ سے اس قدر درخواستیں کی ہیں کہ میں شرمندہ ہوں۔ اب میں اس پر راضی ہوں اور اس کو تسلیم کرتا ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جب میں آگے بڑھا تو پکارنے والے نے پکارا کہ میں نے جو کچھ مقرر کیا ہوا تھا اس کو نافذ کردیا ہے اور اپنے بندوں سے تخفیف بھی کر دی ہے۔
حمیدی نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ عمرو (بن دینار) نے ہمیں بتایا۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے قول وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا کے متعلق روایت کی۔ یعنی وہ رؤیا جو ہم نے تمہیں دکھلائی وہ اس لئے دکھلائی کہ لوگوں کیلئے اسے آزمائش بنائیں حضرت ابن عباسؓ نے کہا: یہ روٴیا آنکھ کا دیکھنا ہے جو رسول اللہﷺ کو اس رات دکھلایا گیا جس میں آپؐ کو بیت المقدس تک سیر کروائی گئی۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا اور شجرہ ملعونہ جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے وہ زقوم کا درخت ہے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ نیز احمد بن صالح نے ہمیں بتایا کہ عنبسہ (بن خالد) نے ہم سے بیان کیا۔(کہا:) یونس (بن یزید) نے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے مجھ سے بیان کیا اور یہ کہ عبد اللہ بن کعب-حضرت کعبؓ کو جب ان کی بصارت جاتی رہی، پکڑ کر لے جایا کرتے تھے۔ کہتے تھے: میں نے حضرت کعب بن مالکؓ کو وہ واقعہ سارے کا سارا بیان کرتے سنا جبکہ وہ غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ابن بکیر نے اپنی روایت میں (عقیل سے) یوں نقل کیا۔ (حضرت کعب نے کہا:) میں بھی عقبہ کی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا جبکہ ہم نے اسلام پر قائم رہنے کے لئے آپس میں مضبوط عہدو پیمان کئے اور میں تو نہیں چاہتا کہ اس رات کے عوض میں مجھے جنگ بدر میں شریک ہونا نصیب ہو، اگرچہ لوگوں میں بدر کی زیادہ شہرت ہے۔
اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں خبردی۔ ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: ابوادریس عائذ اللہ بن عبد اللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبادہ بن صامتؓ بھی ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے تھے؛نیز آپؐ کے ان صحابہؓ میں سے بھی تھے جو عقبہ کی رات کو موجود تھے۔ انہوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس وقت آپؐ کے گرد آپؐ کے صحابہؓ میں سے ایک جماعت تھی۔ آؤ اس امر پر مجھ سے بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور نہ تم چوری کرو گے اور نہ زنا کروگے اور نہ اپنے بچوں کو قتل کروگے اور نہ تم کسی بہتان کا ارتکاب کرو گے۔ جس کو تم اپنی طرف سے گھڑتے ہو اور اچھی بات میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ سوجس نے تم میں سے اپنا عہد پورا کیا تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ اور جس نے اس میں سے کمی کی تو پھر اسی دنیا میں اسے سزا مل جائے گی تو وہ آخرت کے عذاب کے لئے بطور کفارہ ہوگا اور جو کوئی گناہوں میں سےگناہ کرے پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ اگر چاہے تو سزا دے اور اگر چاہے تو اس سے درگذر کرے۔ حضرت عبادہؓ نے کہا: چنانچہ ہم نے آپؐ کی ان باتوں پر بیعت کی۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابوحبیب سے، یزید نے ابوالخیر (مرثد بن عبداللہ) سے، ابوالخیر نے (عبدالرحمٰن) صنابحی سے، صنابحی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں ان نقیبوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی اور وہ کہتے تھے: ہم نے آپؐ کی اس امر پر بیعت کی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور نہ چوری کریں گے اور نہ زناکریں گے اور نہ اس جان کو قتل کریں گے جس کی حرمت کا اللہ نے حکم دیا ہے سوائے جائز طور پر؛ اور لوٹ مار نہیں کریں گے اور ہم کسی نافرمانی کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے اس میں سے کسی بات کی خلاف ورزی کی تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔
(تشریح)فروہ بن ابی المَغراء نے مجھے بتایا کہ علی بن مسہر نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن عروہ) سے روایت ہے۔ {ہشام نے اپنے باپ سے،} انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا اور اس وقت میں چھ سال کی تھی اور پھر ہم مدینہ میں بنی حارث بن خزرج کے ہاں اُترے۔ میں بخار سے بیمار ہوگئی اور میرے بال جھڑ گئے۔ جب بال کندھوں تک بڑھ گئے تو میری والدہ حضرت امّ رومانؓ میرے پاس آئیں اور اس وقت میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولے میں جھول رہی تھی۔ انہوں نے مجھے پکارا۔ میں ان کے پاس گئی۔ مجھے پتہ نہ تھا کہ مجھ سے کیا چاہتی ہیں۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور لے جاکر مجھے گھر کے دروازے پر کھڑا کردیا اور میں ہانپ رہی تھی۔ جب میرا سانس کچھ ٹھہرا تو پھر میری ماں نے کچھ پانی لیا ا ور اس سے میرا منہ اور میرا سر پونچھا۔ پھر مجھے گھر کے اندر لے گئیں۔ تو کیا دیکھتی ہوں کہ کمرہ میں کچھ انصار کی عورتیں ہیں۔ انہوں نے کہا: خیر و برکت ہو اور اچھا نصیب ہو۔ میری ماں نے مجھ کو ان کے سپرد کردیا۔ انہوں نے میرا سنگھار کیا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچانک آگئے جس سے میں کچھ گھبرا گئی۔ میری ماں نے مجھے آپؐ کے سپرد کردیا اور اس وقت میری عمر نو سال تھی۔