بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
محمد بن علاء نے ہمیں بتایا کہ ابواُسامہ نے ہم سے بیان کیا۔ برید بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم یمن میں تھے جبکہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی خبرپہنچی۔ ہم کشتی پر سوار ہوئے۔ ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجاشی کے پاس جا پھینکا۔ اتفاق سے ہم حضرت جعفر بن ابی طالبؓ سے ملے۔ ہم ان کے ساتھ ٹھہرے رہے۔ جب ہم (مدینہ) آئے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ملے جب آپؐ خیبر فتح کرچکے تھے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے کشتی والو! تمہاری دو ہجرتیں ہیں۔
(تشریح)ابوالربیع (سلیمان بن داؤد) نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی کہ جب نجاشی فوت ہوا نبی ﷺ
ا ور (اسی سند سے) صالح (بن کیسان) سے مروی ہے۔صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدگاہ میں لوگوں کو صف بستہ کھڑا کیا او رپھر نجاشی کا جنازہ پڑھایا اور آپؐ نے چار تکبیریں کہیں۔
(تشریح)عبدالاعلیٰ بن حماد نے ہمیں بتایا کہ یزید بن زُریع نے ہم سے بیان کیا۔ سعید (بن ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا کہ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے لئے نماز جنازہ پڑھی۔ آپؐ نے ہمیں اپنے پیچھے صف وار کھڑا کیا۔ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔
زہیر بن حرب نے ہمیں بتایا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ (کہا:) میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن مسیب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی شاہِ حبشہ کی موت کی خبر اس دن دی جس دن کہ وہ فوت ہوا اور آپؐ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لئے تم دعائے مغفرت کرو۔
عبدالعزیز بن عبداللہ (اویسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین کا ارادہ کیا تو فرمایا کہ کل ہمارا ڈیرہ انشاء اللہ بنوکنانہ کے ٹیلہ پر ہو گا۔ جہاں قریش نے کفر پر رہنے کی باہم قسمیں کھائی تھیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) عبدالملک (بن عمیر) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن حارث نے ہمیں بتایا کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے نبیﷺ سے کہا کہ آپؐ اپنے چچا کے کیا کام آئے؟ وہ تو آپؐ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپؐ کی خاطر ناراضگی کا اظہار کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: وہ آگ میں ٹخنوں تک ہیں اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوتے۔
محمود (بن غیلان) نے ہمیں بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ جب حضرت ابوطالب کی وفات کا وقت آیا، ان کے پاس نبی ﷺ آئے۔ اس وقت ان کے پاس ابوجہل بیٹھا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: چچا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہیں۔ یہ ایسا کلمہ ہے جس کے وسیلہ سے میں اللہ کے حضور آپ کے لئے بات کرسکوں گا۔ ابوجہل اور عبداللہ بن ابواُمیہ نے کہا: ابوطالب! کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے اعراض کروگے؟ وہ دونوں ان سے گفتگو کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آخری بات جو ابوطالب نے ان سے کی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے مذہب پرہی ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں آپ کیلئے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ پھر یہ آیت اتری:نبی کو اور آپؐ پر ایمان لانے والوں کو مشرکوں کے لئے استغفار نہیں کرنی چاہیے خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں جبکہ ان پر یہ بات پورے طور پر واضح ہوچکی ہو کہ وہ دوزخ کے مستحق ہیں۔ اسی طرح یہ آیت اتری: اے نبی! آپؐ جس کے متعلق چاہیں اس کو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ لیث (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا کہ (یزید بن عبداللہ) بن ہاد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن خباب سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ جب آپؐ کے پاس آپؐ کے چچا کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا: شاید میری شفاعت قیامت کے دن ان کو فائدہ دے دے اور ان کو اتنی آگ میں رکھا جائے جو ان کے ٹخنوں تک پہنچے جس سے ان کا بھیجا کھولے گا۔ {ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی حازم اور دراوردی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید سے روایت کرتے ہوئے یہی حدیث بتائی اور انہوں نے کہا کہ ان کے دماغ کی کھوپڑی آگ سے اُبلے گی۔}
(تشریح)