بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہمیں بتایا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت بلالؓ کو بخار ہوگیا۔ کہتی تھیں: میں ان دونوں کے پاس گئی اور پوچھا: ابا ! آپ اپنے تئیں کیسا پاتے ہیں اور بلالؓ تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟ کہتی تھیں: جب حضرت ابوبکرؓکو بخار چڑھتا تو وہ یہ شعر پڑھتے: ہر آدمی جب اپنے کنبے میں صبح کو اُٹھتا ہے سلامتی کی دعائیں دی جاتی ہیں اور حالت یہ ہوتی ہے کہ موت اس کی جوتی کے تسمہ سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اور بلال جب ان سے بخار اتر جاتا تو وہ چلاکر روتے اور یہ شعر پڑھتے: اے کاش کہ مجھے پتہ ہوآیا میں وادیٴ مکہ میں ایک رات پھر بھی گزاروں گا اور میرے آس پاس اذخر اور جلیل گھاس ہوں گے۔اور آیا کسی دن میں مجنہ کے پانیوں پر پہنچوں گا اور کیا شامہ اور طفیل پہاڑ مجھے دکھائی دیں گے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور ان کا یہ خیال آپؐ سے بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اے اللہ! مدینہ بھی ہمیں ایسا ہی پیارا بنا جیسا کہ مکہ سے ہمیں محبت ہے بلکہ اس سے بڑھ کر؛ اور اس کو صحت بخش جگہ بنا اور ہمارے لئے اس کے صاع اور مد میں برکت دے اور اس کے بخار کو یہاں سے لے جاکر جحفہ میں اسے ڈال دے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز (بن ابوحازم) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے،ان کے باپ نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: صحابہ نے نبی ﷺ کی بعثت سے تاریخ کا شمار نہیں کیا اور نہ آپؐ کی وفات سے۔ بلکہ آپؐ کے مدینہ میں آنے سے ہی انہوں نے تاریخ کا شمار شروع کیا۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) عروہ (بن زبیر) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عدی نے ان کو بتایا۔ (کہا:) حضرت عثمانؓ کے پاس میں گیا … اور بشر بن شعیب نے کہا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) عروہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عدی بن خیار نے انہیں بتایا۔ کہتے تھے کہ حضرت عثمانؓ کے پاس میں گیا۔ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ پھر کہا: دیکھو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا ارشاد مانا اور میں اس دین پر ایمان لایا جس کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ پھر میں نے دو ہجرتیں کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کی عزت پائی اور آپؐ کی بیعت کی۔ اللہ کی قسم! میں نے آپؐ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ ہی آپؐ سے کوئی خیانت کی۔ یہاں تک کہ آپؐ کو اللہ نے وفات دی۔ شعیب کی طرح یہ حدیث اسحاق (بن یحيٰ ) کلبی نے بھی بیان کی۔ کہا کہ زہری نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا۔ مالک نے ہم سے کہا: نیز یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے خبردی کہ حضرت ابن عباسؓ نے انہیں بتایا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ گئے اس وقت وہ منیٰ میں تھے۔ جبکہ حضرت عمرؓ نے آخری حج کیا۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور کہا: عبدالرحمٰنؓ ! میں نے کہا: امیرالمومنین! حج کا موسم ہے۔ عامی اور شور مچانے والے لوگ بھی اکٹھے ہوتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ مدینہ پہنچنے تک انہیں مہلت دیں کیونکہ وہ دارالہجرت، سنت اور سلامتی کی جگہ ہے اور آپ وہاں صرف سمجھ دار شریف اور اہل الرائے لوگوں سے جاکر ملیں گے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اچھا پہلی بار مدینہ میں خطبے کے لئے کھڑا ہونے کا جو موقع مجھے ملا، میں اس میں لوگوں کو اچھی طرح نصیحت کروں گا۔
: موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے ہمیں بتایا۔ خارجہ بن زید بن ثابت سے روایت ہے کہ حضرت امّ العلاءؓ جو انصار کی عورتوں میں سے ایک خاتون تھی۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ انہوں نے ان کو بتایا کہ حضرت عثمان بن مظعونؓ رہائش کیلئے ان کے حصہ میں آئے جبکہ انصار نے مہاجروں کی رہائش کیلئے قرعے ڈالے تھے۔ حضرت امّ العلاءؓ کہتی تھیں کہ حضرت عثمانؓ ہمارے پاس بیمار ہوگئے ۔ میں ان کی تیمار داری کرتی رہی مگر فوت ہوگئے اور ہم نے ان کو ان کے کپڑوں ہی میں کفنایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے۔ میں نے کہا: ابوسائبؓ! تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ تمہارے متعلق میری شہادت یہی ہے کہ اللہ نے ضرور تمہیں نوازا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا پتہ اللہ نے اسے نوازا ہے؟ کہتی تھی: میں نے کہا: میرے ماں باپ آپؐ کے قربان میں نہیں جانتی کہ پھر اور کس کو نوازے گا۔ آپؐ نے فرمایا: ان کے متعلق کیا کہنا بخدا یہ تو فوت ہوگئے اور ان کے لئے بھلائی ہی کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم! میں بھی نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ مجھ سے کیا کیا جائے گا۔ کہتی تھیں: اس کے بعد اب میں کسی کو بھی پاک نہیں ٹھہراتی۔ کہتی تھیں: اس بات نے مجھے غمگین کردیا اور میں سو گئی اور مجھے خواب میں حضرت عثمانؓ کا ایک چشمہ دکھایا گیا جو بہہ رہا تھا۔ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپؐ سے یہ خواب بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ ان کا عمل ہے۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھے بتایا۔ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ (عروہ) سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ حضرت ابوبکرؓ عیدالفطر یا عید الاضحیٰ کے دن ان کے پاس آئے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تھے اور اس وقت ان کے پاس دو گانے والیاں اُن شعروں کو گارہی تھیں جو انصار نے بعاث کی جنگ میں ایک دوسرے کی ہجو میں کہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے سن کر دو دفعہ کہا: شیطان کی بنسریاں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہنے دو۔ ہر ایک قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ دن ہماری عید کا ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ نیز اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالصمد نے ہمیں بتایا۔ کہا: میں نے اپنے باپ (عبدالوارث) سے سنا۔ وہ بیان کرتے تھے کہ ابوتیاح یزید بن حمید ضبعی نے ہمیں بتایا۔ کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے آپؐ مدینہ کی بلند جانب ایک قبیلہ کے محلہ میں اُترے جنہیں بنو عمرو بن عوف کہتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپؐ ان لوگوں میں چودہ راتیں رہے۔ پھر آپؐ نے بنو نجار کے بڑے بڑے لوگوں کو بلا بھیجا۔ کہتے تھے: وہ اپنی تلواروں کو حمائل کئے ہوئے آئے۔ کہتے تھے: گویا مَیں اس وقت بھی رسول اللہ ﷺ کو اپنی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں اور حضرت ابوبکرؓ آپؐ کے پیچھے سوار ہیں اور بنی نجار کے لوگ آپؐ کے اردگرد ہیں۔ آپؐ نے آکر حضرت ابوایوبؓ کے صحن میں ڈیرا ڈالا۔ کہتے تھے: جہاں بھی آپؐ کو نماز کا وقت آجاتا، آپؐ نماز ادا کرتے اوربکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ کہتے تھے: اس کے بعد آپؐ نے مسجد بنانے کا ارشاد فرمایا۔ آپؐ نے بنی نجار کے بڑے بڑے لوگوں کو بلا بھیجا۔ وہ آئے۔ آپؐ نے فرمایا: بنی نجار! اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے ٹھہراؤ۔ انہوں نے کہا: بخدا نہیں۔ ہم اس کی قیمت صرف اللہ ہی سے مانگیں گے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: اس باغ میں یہ کچھ چیزیں تھیں جو میں تمہیں بتاتا ہوں: اس میں مشرکوں کی قبریں تھیں اور اس میں کچھ کھنڈرات تھے اور اس میں کچھ کھجوروں کے درخت تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کی قبروں کی نسبت حکم دیا جو اکھیڑ ڈالی گئیں اور کھنڈرات کے متعلق فرمایا اور وہ برابر کر دیئے گئے اور کھجوروں کے متعلق فرمایا جو کاٹ دی گئیں۔ آپؐ نے فرمایا: ان کھجوروں کو مسجد کے سامنے ایک قطار میں رکھ دو۔ کہتے تھے: اور انہوں نے بجائے دروازوں کے تختوں کے پتھر رکھے ۔ کہتے تھے: وہ پتھر ڈھوتے تھے اور یہ رجزیہ شعر پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ پڑھتے۔ کہتے تھے: اے اللہ! حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں۔ تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔
(تشریح)ابراہیم بن حمزہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حاتم (بن اسماعیل) نے عبدالرحمٰن بن حمید زہری سے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے عمر بن عبدالعزیز سے سنا کہ وہ سائب بن اخت نمر (کندی) سے پوچھ رہے تھے: مکہ میں ٹھہرنے کے متعلق تم نے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے حضرت علاء بن حضرمیؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منیٰ سے لوٹنے کے بعد مہاجر کو تین دن تک ٹھہرنے کی اجازت ہے۔
(تشریح)مسدد نے ہمیں بتایا کہ یزید بن زُریع نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ (بن زبیر) سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: نماز دو رکعتیں فرض کی گئی تھی۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اور چار رکعتیں فرض کی گئیں اور سفر کی نماز پہلی تعداد پر ہی رہنے دی گئی ۔ یزید بن زُریع کی طرح اس بات کو عبدالرزاق نے بھی معمر سے روایت کیا۔
(تشریح)