بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا۔ ابراہیم (بن سعد)نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عامر بن سعد بن مالک سے، عامر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حجۃ الوداع کے سال نبی ﷺ میری اس بیماری میں میری عیادت کیلئے آئے کہ جس سے میں موت کے قریب پہنچ گیا تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! بیماری نے مجھے اس قدر نڈھال کردیا ہے جو آپؐ دیکھ رہے ہیں اور میں مالدار ہوں اور میرا کوئی وارث نہیں سوائے میری ایک بیٹی کے۔ کیا میں اپنے دو تہائی مال کو صدقہ میں دے دوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: تو کیا اس کا نصف صدقہ میں دے دوں؟ آپؐ نے فرمایا: ایک تہائی دے دو اور ایک تہائی بھی بہت ہے اور یاد رکھو! اگر تم اپنی اولاد کو دولت مند چھوڑ جاؤ یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو محتاج چھوڑ جاؤ۔ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ احمد بن یونس نے ابراہیم سے أَنْ تَذَرَ ذُرِّیَّتَکَ کے بعد یوں نقل کیا اور تم ایسا جو خرچ بھی کرتے ہو کہ اس کے ذریعہ سے اللہ کی رضامندی چاہتے ہو تو تمہیں اللہ اس کا ضرور بدلہ دے گا۔ یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھے اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑ دیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں ہرگز پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔ (اگر رہ بھی گئے) تو پھر جو کام بھی تم کرو گے کہ جس کے ذریعہ اللہ کی رضامندی چاہتے ہو تو تم ضرور اس سے درجہ اور بلندی میں بڑھو گے اور شاید تمہیں بھی زندہ رہنے دیا جائے تا تمہارے ذریعہ سے کچھ لوگ فائدہ اُٹھائیں اور کچھ نقصان اُٹھائیں۔ اے میرے اللہ! میرے ساتھیوں کیلئے ان کی ہجرت برقرار رکھ اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹا۔ مگر بیچارے سعد بن خولہؓ کے لئے رسول اللہ ﷺ افسوس کرتے تھے کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے۔ احمد بن یونس اور موسیٰ نے ابراہیم سے روایت کرتے ہوئے أَنْ تَذَرَ ذُرِّیَّتَکَ کے الفاظ کی بجائے أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔
(تشریح)مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ قرہ (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اگر دس یہودی مجھ پر ایمان لاتے تو سب یہودی مسلمان ہوجاتے۔
محمد بن یوسف (بیکندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید (طویل) سے، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ مدینہ میں آئے تو نبی ﷺ نے حضرت سعد بن ربیع انصاریؓ کو آپ کا بھائی بنایا اور حضرت سعدؓ نے ان کے سامنے یہ پیش کیا کہ وہ ان کو اپنی بیویاں اور مال آدھا آدھا بانٹ دیتے ہیں۔حضرت عبدالرحمٰنؓ نے کہا: اللہ تمہیں تمہاری بیویوں اور مال میں برکت دے۔ تم مجھے بازار کا پتہ بتاؤ۔ چنانچہ حضرت عبدالرحمٰنؓ بازار سے کچھ کھویا اور گھی نفع میں لائے۔ نبی ﷺ نے انہیں کچھ دنوں کے بعد دیکھا اور ان پرزردی کے دھبے تھے۔نبی ﷺ نے پوچھا: عبدالرحمٰن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کرلی ہے۔ آپؐ نے پوچھا: اس کو کیا کچھ مہر دیا ہے؟ انہوں نے کہا: گٹھلی برابر سونا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے ہی۔
حامد بن عمر نے مجھے بتایا کہ بشر بن مفضل سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: حمید (طویل) نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت انسؓ نے ہمیں بتایا کہ حضرت عبداللہ بن سلامؓ کو خبر پہنچی کہ نبی ﷺ مدینہ میں آئے ہیں، وہ آنحضرت ﷺ کے پاس آپؐ سے کچھ باتیں پوچھنے کے لئے آئے۔ انہوں نے کہا: میں آپؐ سے تین باتیں پوچھنے لگا ہوں۔ انہیں صرف نبی ہی جانتا ہے۔ اس گھڑی کی پہلی علامتیں کیا ہیں؟ اور پہلا کھانا کیا ہے جسے جنتی کھائیں گے؟ اور کیا وجہ ہے کہ بچہ اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے یا ماں کے؟ آپؐ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے ابھی یہ باتیں بتائی ہیں۔ ابن سلامؓ نے کہا: ملائکہ میں سے وہ تو یہود کا دشمن ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس گھڑی کی پہلی علامت ایک آگ ہے جو انہیں مشرق سے مغرب کی طرف اکٹھا کرکے لے جائے گی اور پہلا کھانا جو جنتی کھائیں گے وہ مچھلی کے کلیجہ کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا اور بچہ کے متعلق یہ ہے کہ اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب ہوتو بچہ کو اپنے مشابہ کرلے گا اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب ہو تو وہ بچہ کو اپنے مشابہ کرلے گی۔ عبداللہ بن سلامؓ نے کہا: میں اپنے علم سے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہودی افترا پرداز لوگ ہیں۔ پیشتر اس کے کہ میرے مسلمان ہونے کا انہیں علم ہو آپؐ ان سے میرے متعلق پوچھیں۔ یہود آئے اور نبی ﷺ نے پوچھا: تم میں عبداللہ بن سلام کیسے آدمی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہم میں وہ سب سے اچھے ہیں اور سب سے اچھے کے بیٹے ہیں اور ہم سے وہ افضل ہیں اور افضل شخص کے بیٹے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: بھلا بتاؤ اگر عبداللہ بن سلامؓ اسلام قبول کرلیں؟ کہنے لگے: اللہ انہیں اس سے بچائے رکھے۔ آپؐ نے ان سے پھر وہی کہا اور انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔ اس پر حضرت عبداللہ ان کے پاس باہر آئے اور کہنے لگے: میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمؐد اللہ کے رسول ہیں۔ یہودی کہنے لگے: ہم میں وہ نہایت ہی برا ہے اور نہایت ہی برے کا بیٹا ہے۔ اور لگے ان کی عیب شماری کرنے۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے کہا: یارسول اللہ! یہی بات تھی جس سے میں ڈرتا تھا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن دینار)سے روایت ہے۔ انہوں نے ابومنہال عبدالرحمٰن بن مطعم سے سنا کہ انہوں نے کہا: میرے ایک شریک نے بازار میں کچھ درہم ادھار پر بیچے۔ میں نے کہا: سبحان اللہ! بھلا یہ درست ہے؟ وہ بولا سبحان اللہ! میں نے تو بخدا اسے بازار میں بیچ دیا ہے اور کسی نے بھی یہ معیوب نہیں سمجھا۔ پھر میں نے حضرت براء بن عازبؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور ہم اس قسم کی خریدو فروخت آپس میں کیا کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جو تو نقد بہ نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو تو وہ درست نہیں اور تم زید بن ارقم ؓ سے ملو اور ان سے پوچھو۔ کیونکہ وہ ہم میں سب سے پرانے تاجر تھے۔ چنانچہ میں نے زید بن ارقم ؓ سے پوچھا۔ تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا اور سفیان نے ایک بار یوں کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور ہم اس وقت ادھار پر خریدوفروخت کیا کرتے تھے جو موسم یا کہا حج تک کے وعدے پر ہوتا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن دینار)سے روایت ہے۔ انہوں نے ابومنہال عبدالرحمٰن بن مطعم سے سنا کہ انہوں نے کہا: میرے ایک شریک نے بازار میں کچھ درہم ادھار پر بیچے۔ میں نے کہا: سبحان اللہ! بھلا یہ درست ہے؟ وہ بولا سبحان اللہ! میں نے تو بخدا اسے بازار میں بیچ دیا ہے اور کسی نے بھی یہ معیوب نہیں سمجھا۔ پھر میں نے حضرت براء بن عازبؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور ہم اس قسم کی خریدو فروخت آپس میں کیا کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جو تو نقد بہ نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو تو وہ درست نہیں اور تم زید بن ارقم ؓ سے ملو اور ان سے پوچھو۔ کیونکہ وہ ہم میں سب سے پرانے تاجر تھے۔ چنانچہ میں نے زید بن ارقم ؓ سے پوچھا۔ تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا اور سفیان نے ایک بار یوں کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور ہم اس وقت ادھار پر خریدوفروخت کیا کرتے تھے جو موسم یا کہا حج تک کے وعدے پر ہوتا۔
(تشریح)احمد یا محمد بن عبیداللہ غدانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حماد بن اسامہ نے ہمیں بتایا۔ ابوعمیس نے قیس بن مسلم سے، قیس نے طارق بن شہاب سے، طارق نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور دیکھا کہ یہودیوں میں کچھ لوگ عاشورہ کی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم پر زیادہ حق ہے کہ اس دن روزہ رکھیں اور آپؐ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
زیاد بن ایوب نے ہمیں بتایا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا۔ ابوبشر (جعفر) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے آپؐ نے یہود کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ اس کے متعلق ان سے پوچھاگیا۔ کہنے لگے: یہ وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت موسیٰ ؑاور بنی اسرائیل کو فرعون کے مقابل کامیاب کیا تھا اور ہم اس کو بڑا دن سمجھتے ہوئے اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نسبت موسیٰؑ سے ہم زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے بعد پھر اس دن آپؐ نے روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکاتے تھے اور مشرک اپنے سروں میں مانگ نکالا کرتے تھے اور اہل کتاب (یعنی عیسائی) اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان امور میں جن کے متعلق کوئی حکم نہ ہوتا، اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے۔ پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کی مانگ بھی نکالی۔
زیاد بن ایوب نے مجھے بتایا کہ ہشیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبشر (بن ابی وحشیہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اہل کتاب ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس کی بعض باتیں مانیں اور بعض کا انکار کیا۔
(تشریح)