بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 173 hadith
محمد بن ابوبکر نے مجھ سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سالم بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح مقام کے نیچے ملے پیشتر اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دستر خوان رکھا گیا۔ آپؐ نے کھانے سے انکار کردیا۔ زید نے کہا: میں بھی اس سے نہیں کھایا کرتا جو تم اپنے تھانوں میں ذبح کرتے ہو اور میں صرف وہی کھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ اور زید بن عمرو قریش کی قربانیوں کو معیوب سمجھا کرتے تھے اور کہتے تھے: بکری کو بھی اللہ نے پیدا کیا اور آسمان سے اس کے لئے پانی برسایا اور زمین سے اس کے لئے چارہ اگایا۔ پھر تم اس کو اللہ کے سوا اوروں کے نام پر ذبح کرتے ہو یعنی اس کو برا منایا کرتے تھے اور اس کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید بن قطان) نے بتایا۔ ہشام نے کہا: میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی تھیں: عاشورہ کا دن ایسا تھا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں اس دن روزہ رکھا کرتے تھے اور نبی
موسیٰ نے کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا اور میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے بھی اس کے متعلق حضرت ابن عمرؓ سے ہی روایت کرتے ہوئے بتایا کہ زید بن عمرو بن نفیل شام کے ملک کو دین کے متعلق دریافت کرنے کے لئے گئے تا کہ اس کی پیروی کریں۔ چنانچہ وہ ایک یہودی عالم سے ملے جس سے انہوں نے ان کے دین کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا: مجھے بتائیں شاید میں تمہارا ہی دین اختیار کرلوں۔ اس نے کہا: ہمارے مذہب پر نہ ہونا ورنہ تم بھی غضب الٰہی سے اپنا حصہ لوگے۔ زید نے کہا: میں تو اللہ کے غضب سے بھاگ رہا ہوں اور میں تو اللہ کی ناراضگی کو کبھی بھی برداشت نہیں کروں گا اور میں اس کی طاقت کہاں رکھتا ہوں۔ کیا تم مجھے اس کے علاوہ کسی دین کا پتہ دیتے ہو؟ اس نے کہا: میں تو یہی جانتا ہوں کہ انسان حنیف ہو۔ زید نے کہا: حنیف کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: ابراہیمؑ کا دین۔ نہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی اور وہ صرف اللہ ہی کی پرستش کرتے تھے۔ پھر زید وہاں سے نکلے اور نصاریٰ کے ایک عالم سے ملے۔ اس سے بھی یہی ذکر کیا۔ اس نے کہا: تم ہمارے مذہب پر کبھی نہ ہوناورنہ تم اللہ کی لعنت سے اپنا حصہ لو گے۔ زید نے کہا: میں اللہ کی لعنت سے ہی بھاگ رہا ہوں اور میں اللہ کی لعنت اور نہ اس کا غضب برداشت کرسکتا ہوں اور مجھے یہ طاقت ہی کہاں۔ کیا تم مجھے کسی اور دین کا پتہ دیتے ہو؟ اس نے کہا: میں یہی جانتا ہوں کہ انسان حنیف ہو۔ زید نے پوچھا: یہ حنیف کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: ابراہیمؑ کا دین۔ نہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی اور صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ جب زید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ان کی رائے دیکھی تو وہاں سے وہ نکلے۔ جب باہر میدان میں آئے تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا: اے میرے اللہ! میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ میں حضرت ابراہیم ؑ کے دین پر ہوں۔
: اور لیث نے کہا: ہشام نے مجھے اپنے باپ (عروہ) سے روایت کرتے ہوئے لکھ بھیجا۔ ان کے باپ نے حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو دیکھا کہ کعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے کھڑے ہیں۔ یہ کہہ رہے تھے: اے قریش کے لوگو! اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی ابراہیم ؑ کے دین پر میرے سوا نہیں ہے اور زید بیٹیوں کو جیتا نہیں گاڑتے تھے۔ اس شخص سے جو اپنی بیٹی مارنا چاہتا، کہتے تھے: اسے نہ مارو۔ میں اس کا خرچ خوراک تمہاری جگہ مہیا کروں گا۔ چنانچہ وہ اس کو لے لیتے۔ جب وہ جوان ہوجاتی تو اس کے باپ سے کہتے: اگر تم چاہو تو میں اسے تمہارے سپرد کئے دیتا ہوں اور اگر چاہو تو میں اس کے سب کام پورے کردوں گا۔
(تشریح)محمود (بن غیلان) نے ہمیں بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن جریج نے مجھے خبردی، کہا: عمرو بن دینار نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: جب کعبہ بنایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباسؓ دونوں پتھر ڈھونے لگے۔ حضرت عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:تم اپنے تہہ بند کو اپنی گردن پر ڈال لو تمہیں پتھروں کی تکلیف سے بچائے گا۔ (آپؐ نے ایسا ہی کیا اور) اسی وقت زمین پر گر پڑے اور آپؐ کی آنکھوں کی ٹکٹکی آسمان کی طرف بندھ گئی۔ پھر جب آپؐ ہوش میں آئے۔ آپؐ نے فرمایا: میرا تہہ بند، میرا تہہ بند۔ چنانچہ آپؐ نے اپناتہہ بند مضبوطی سے باندھا۔
ابونعمان (محمد بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار اور عبیداللہ بن ابی یزید سے روایت ہے۔ ان دونوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بیت اللہ کے گرد چار دیواری نہیں ہوتی تھی۔ لوگ بیت اللہ کے ارد گرد نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ (کی خلافت) کا زمانہ ہوا تو انہوں نے اس کے اردگرد چاردیواری بنوا دی۔ عبیداللہ نے کہا: بیت اللہ کی دیواریں پست تھیں ان کو حضرت (عبداللہ) بن زبیرؓ نے بنایا۔
(تشریح)مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ) بن طاؤس نے ہمیں بتایا، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: لوگ سمجھتے تھے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا زمین میں گناہ کرنا ہے اور ماہ محرم کو صفر کہا کرتے تھے اور کہتے تھے: جب پیٹھ اچھی ہوجائے اور پاؤں کے نشان مٹ جائیں پھر جو عمرہ کرنا چاہتے ہوں ان کے لئے عمرہ جائز ہوجاتا ہے۔حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے صحابہ (حجۃ الوداع میں) چوتھی ذوالحج (کی صبح) کو احرام باندھے ہوئے (مکہ میں) آئے اور نبی ﷺ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ کردیں۔ (یعنی طواف اور سعی کرکے احرام کھول دیں) لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ایسا کرنے سے ہمارے لئے کیا کچھ جائز ہوجائے گا؟آپؐ نے فرمایا: جو باتیں احرام میں منع تھیں وہ سب جائز ہوجائیں گی۔
ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بیان ابوبشر سے، بیان نے قیس بن ابی حازم سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوبکرؓ احمس قبیلہ کی ایک عورت کے پاس گئے جسے زینب کہتے تھے۔ انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ بات نہیں کرتی۔ پوچھا کہ کیا سبب کہ بات کیوں نہیں کرتی؟ لوگوں نے کہا: اس نے خاموش حج کی منت مانی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس سے کہا: باتیں کرو، کیونکہ یہ جائز نہیں۔ یہ جاہلیت کی رسم ہے۔ چنانچہ اس نے باتیں کیں اور اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ حضرت ابوبکر ؓنے کہا: مہاجرین میں سے ایک آدمی ہوں۔ اس نے پوچھا: کون سے مہاجرین میں سے؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: قریش کے مہاجرین میں سے۔ اس نے کہا: قریش کے کون سے خاندان سے تم ہو؟ حضرت ابوبکرؓ ہوں۔ اس عورت نے پوچھا: اس اچھے دین پر ہم کب تک قائم رہیں گے جس کو اللہ تعالیٰ جاہلیت کے بعد لایا ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: تم اس پر اس وقت تک قائم رہو گے جب تک کہ تمہارے امام سیدھے رہیں گے۔ اس نے پوچھا: یہ امام کون ہیں؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: کیا تیری قوم میں سردار اور بڑے لوگ نہیں جو لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ ان کی فرمانبرداری کرتے ہیں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: تو پھر یہی وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
فروہ بن ابی المغراء نے مجھ سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: عربوں میں سے کسی کی سیاہ فام عورت مسلمان ہوئی۔ مسجد میں اس کی ایک جھونپڑی تھی۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: وہ ہمارے پاس آیا کرتی تھی اور ہمارے پاس باتیں کیا کرتی تھی۔ جب باتوں سے فارغ ہوتی یہ شعر پڑھتی: موتیوں سے جڑاؤ ہار کا دن بھی ہمارے ربّ کے عجائبات میں سے تھا۔ دیکھو اسی نے تو مجھے کفر کی بستی سے نجات دی جب اس نے اس شعر کو بہت دفعہ پڑھا تو حضرت عائشہؓ نے اسے پوچھا: یہ ہار کا دن کیا ہے؟ کہنے لگی کہ میرے مالکوں کی ایک چھوکری باہر گئی۔ وہ لال چمڑے کا موتیوں سے جڑاؤ ایک ہار پہنے ہوئے تھی وہ اس سے کہیں گرگیا۔ چیل اسے گوشت سمجھ کر جھپٹی اور اس کو لے گئی۔ انہوں نے اس (کی چوری) کا الزام مجھ پر لگایا اور مجھے سزا دی اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ انہوں نے میری شرم گاہ کی بھی تلاشی لی۔ ابھی وہ میرے اردگرد تھے اور میں نہایت بے چینی کی حالت میں تھی کہ اتنے میں وہ چیل سامنے سے آئی اور ہمارے سروں کے عین مقابل آکر اس نے وہ ہارپھینک دیا۔ انہوں نے اسے لے لیا اور میں نے ان سے کہا: یہ ہے وہ جس کا الزام تم نے مجھ پر لگایا تھا حالانکہ میں اس سے بَری تھی۔