بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
عبدالعزیز بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نسبت پوچھا: اگر تم ڈرو کہ یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکو گے ۔ انہوں نے فرمایا: میرے بھانجے! یہ وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے سر پرست کی پرورش میں ہو اور اس کے مال میں حصہ دار ہو اور اس شخص کو اس کی جائیداد اور اس کی خوبصورتی پسند ہو اور اس کا سرپرست چاہے کہ وہ اس سے شادی کرلے بغیر اس کے کہ اس کے حق مہر میں انصاف کرے اور اس کو اتنا ہی دے جتنا اس کو اس کے علاوہ دوسرے لوگ دیتے ہوں، اس لئے ان کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے روک دیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ ان سے انصاف کریں اور یہ کہ مہر میں جو اعلیٰ سے اعلیٰ طریقہ ان کو دینے کا ہے اس کے مطابق دیں۔ اس لئے ان کو حکم دیا گیا کہ ان کے سوا عورتیں جو اُن کو پسند ہوں ان سے نکاح کریں۔ عروہ نے کہا: حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ لوگوں نے اس آیت کے بعد رسول اللہ ﷺ سے (اس بارے میں) مسئلہ دریافت کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: وہ تجھ سے عورتوں کی بابت پوچھتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: اور اللہ تعالیٰ کا دوسری آیت میں یہ فرمانا: تم ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو، اس سے مراد یہ ہے کہ تم میں سے کوئی یتیم لڑکی سے اس لئے بے رغبت ہوتا ہے کہ وہ تھوڑی جائیداد اور تھوڑی خوبصورتی رکھتی ہے۔ فرماتی تھیں: اس لئے وہ سوائے اس کے کہ انصاف کرنے والے ہوں ان یتیم عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے سے بھی روک دئیے گئے جن کی جائیداد اور خوبصورتی کی وجہ سے وہ ان سے نکاح کی خواہش کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ان کی خواہش نہیں رکھتے جب وہ جائیداد اور خوبصورتی تھوڑی رکھتی ہوں۔
(تشریح)اسحاق (بن راہویہ) نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن نمیر نے ہمیں خبردی کہ ہشام (بن عروہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے متعلق روایت کی۔ یعنی جو غنی ہو وہ پرہیز کرے اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھائے۔ یہ آیت یتیم کی جائیداد کی بابت نازل ہوئی۔ جب سرپرست محتاج ہو تو وہ دستور کے مطابق اپنی خوراک اس سے لے۔ کیونکہ اس نے اس مال کی نگرانی کی ہے۔
(تشریح)احمد بن حمید )قرشی کوفی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ اشجعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے (ابواسحاق) شیبانی سے، شیبانی نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ آیت وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنُ جو ہے، انہوں نے کہا: یہ محکم ہے اور منسوخ نہیں۔(عکرمہ کی طرح) سعید بن جبیر نے بھی حضرت ابن عباسؓ سے یہی روایت بیان کی۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ان سے بیان کیا، کہا: (محمد) بن منکدر نے مجھے بتایا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ بنی سلمہ کے محلہ میں میری بیمار پرسی کے لئے پیدل چل کر آئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ مجھے کوئی ہوش نہیں۔ آپؐ نے پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا۔ پھر آپؐ نے مجھ پر پانی چھڑکا اور میں ہوش میں آگیا۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! آپؐ مجھے کیا مشورہ دیتے ہیں کہ میں اپنی جائیداد کو کیا کروں؟ تو یہ وحی نازل ہوئی: اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے حق میں وصیت کرتا ہے۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ورقاء (بن عمر یشکری) سے، ورقاء نے ابن ابی نجیح سے،انہوں نے عطاء سے، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ساری جائیداد اولاد کی ہوا کرتی تھی اور ماں باپ کو وہ ملتا تھا جو مرنے والا وصیت کرجاتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس دستور سے جو پسند کیا منسوخ فرمادیا اور مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابرمقرر کیا اور والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ اور ایک تہائی مقرر کیا اور بیوی کے لئے آٹھواں اور چوتھائی حصہ مقرر کیا اور خاوند کے لئے آدھا اور چوتھا حصہ۔
(تشریح)محمد بن مقاتل نے ہمیں بتایا کہ اسباط بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ (ابواسحاق) شیبانی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ شیبانی نے یہ بھی کہا کہ ابوالحسن سوائی نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ ہی سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کا ذکر کیا۔ (حضرت ابن عباسؓ نے کہا:) اے ایماندارو! تمہارے لئے(یہ) جائز نہیں کہ تم زبر دستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور تم انہیں اس غرض سے تنگ نہ کرو کہ جو (کچھ) تم نے انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ (چھین کر) لے جاؤ۔ کہتے تھے: عرب لوگ جب کوئی شخص مر جاتا تو اس کے وارث اس کی بیوی کے زیادہ حق دار ہوتے۔ اگر ان میں سے کسی نے چاہا اس سے شادی کرلی اور اگر چاہا تو کسی اور سے شادی کرائی اور اگر انہوں نے چاہا تو اس کو نہ بیاہا۔ غرض وہ اس عورت کے اس کے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ حق دار ہوتے۔ اس لئے یہ آیت اس کے متعلق نازل ہوئی۔
(تشریح)صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ادریس سے، ادریس نے طلحہ بن مصرف سے، طلحہ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی: آیت وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ میں (جو مَوَالِي کا لفظ ہے) انہوں نے کہا: (اس کے معنی ہیں) وارث۔ اور وَالَّذِيْنَ عَاقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ سے مراد مہاجر ہیں۔ جب وہ مدینہ میں آئے تو مہاجر بھی انصاری کا وارث ہوتا، اس کے اپنے رشتہ داروں کے علاوہ اس اخوت کی وجہ سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قائم کی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی: اور ہر ایک (شخص)کے لئے ہم نے اس کے ترکہ کے متعلق وارث مقرر کر دئے ہیں، تو (مہاجرین کی وہ وراثت) منسوخ ہوگئی۔ پھر اس کے بعد فرمایا: وہ لوگ جن سے عہد و پیمان ہوچکے ہیں، یعنی ان کی مدد و اعانت اور خیر خواہی کرنے کے، وراثت کا تو ان کاحق نہ رہا، مگر وصیت کی جاسکتی ہے۔ (اس کی ایک سند میں یوں ہے:) ابواسامہ نے ادریس سے سنا اور ادریس نے طلحہ سے سنا۔
(تشریح)محمد بن عبدالعزیز نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عمر حفص بن میسرہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے،زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے ربّ کو قیامت کے روز دیکھیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ کیا دوپہر کے وقت تمہیں سورج دیکھنے میں کچھ مشکل ہوتی ہے جبکہ اس کی روشنی صاف ہو اس میں کوئی اَبر نہ ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔فرمایا: اور کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کے دیکھنے میں کچھ مشکل ہوتی ہے جبکہ اس کی روشنی صاف ہو، اس میں کوئی بادل نہ ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز تم کو اللہ عز و جل کے دیکھنے میں بھی کوئی دقت نہ ہوگی۔ اگر ہوئی بھی تو اتنی، جتنی کہ سورج و چاند میں سے کسی کے دیکھنے میں۔ جب قیامت کا دن ہو گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: ہر ایک امت اسی کے پیچھے ہوگی جس کی پوجا کرتی تھی۔ پھر جو لوگ اللہ کے سوا بتوں اور مجسموں کی پوجا کرتے تھے ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔ مگر وہ سب آگ میں یکے بعد دیگرے گرتے چلے جائیں گے۔ جب صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ نیک ہوں یا برے اور اہل کتاب میں سے کچھ باقی ماندہ لوگ تو یہود لائے جائیں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم عزیر ابن اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا: تم جھوٹ کہتے ہو، اللہ نے نہ کسی کو اپنی بیوی بنایا اور نہ بیٹا۔ پس تم اب کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: اےہمارے ربّ! ہم پیاسے ہیں ہمیں پانی پلاؤ۔ ان کو اشارہ کرکے بتایا جائے گا وہاں جاکر تم پانی پیو گے۔ تو وہ ایک ایسی آگ کی طرف ہانکے جائیں گے گویا کہ وہ سراب ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے کو کچل رہا ہے۔ تو وہ بھی یکے بعد دیگرے آگ میں گرتے چلے جائیں گے۔ پھر اس کے بعد عیسائی بلائے جائیں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: مسیح اللہ کے بیٹے کی ہم عبادت کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا: تم جھوٹ بولتے ہو، اللہ نے تو کسی کو نہ بیوی بنایا نہ اپنا بیٹا۔ ان سے پوچھا جائے گا: اب تم کیا چاہتے ہو؟ ان کا بھی پہلوں کی طرح حال ہوگا۔ جب ان لوگوں کے سوا کوئی باقی نہ رہے گا جو اللہ کی عبادت کرتے تھے خواہ نیک ہوں یا برے، تو ربّ العالمین ان کے پاس ایسے جلوے میں آئے گا جو اس جلوے کے قریب قریب ہوگا جس میں کہ انہوں نے اس کو پہلے دیکھا۔ ان سے پوچھا جائے گا: تم کس کا انتظار کررہے ہو؟ ہر ایک امت اس کے پیچھے چلی گئی ہے جس کی وہ عبادت کرتی تھی۔ وہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں لوگوں سے ایسی حالت میں الگ ہوئے جبکہ ہم ان کے بہت ہی محتاج تھے۔ اور ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا اور ہم اپنے اس ربّ کا انتظار کررہے ہیں جس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ کہے گا:میں تمہارا ربّ ہوں۔ وہ دو یا تین بار کہیں گے: ہم کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے۔
(تشریح)صدقہ )بن فضل( نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ )بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان (ثوری) نے سلیمان (اعمش) سے، سلیمان نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عبیدہ (بن عمرو سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ یحيٰ نے کہا: اس حدیث کا ایک حصہ عمرو بن مرہ سے مروی ہے۔ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ) کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے کہا: میں آپؐ کو قرآن پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپؐ پر نازل کیا گیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میں دوسرے سے اس کو سننا پسند کرتا ہوں۔پھر میں نے آپؐ کو سورۂ نساء پڑھ کر سنائی۔ جب یہاں پہنچا : اور ان کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں کے متعلق (بطور) گواہ لائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: بس کرو۔ میں کیا دیکھتا ہوں، آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔
(تشریح)