بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
ابوالولید)ہشام بن عبدالملک( نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابواسحاق سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت براء ؓسے سنا، کہتے تھے: آخری آیت جو نازل ہوئی وہ یہ ہے: وہ تجھ سے (ایک قسم کے کلالہ کے متعلق) فتوى پوچھتے ہىں تو کہہ دے اللہ تمہىں (ایسے) کلالہ کے متعلق حکم سناتا ہے اور آخری سورة جو نازل ہوئی وہ براءة ہے۔
(تشریح)حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن اعرج نے اُنہیں بتایا، اُنہوں نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: تم میں سے ایک کا خزانہ قیامت کے دن گنجا سانپ بن جائے گا۔
اور احمد بن شبیب بن سعید نے کہا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا،اُنہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے خالد بن اسلم سے روایت کی کہا: ہم حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ نکلے۔ انہوں نے کہا: یہ آیت (وَ الَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ یعنی اور جو لوگ سونا اور چاندى ذخىرہ کرتے ہىں) زکوٰة کے حکم سے پہلے نازل کی گئی۔ جب زکوٰة کا حکم نازل ہوا تو اللہ نے اس کو مالوں کے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔
سعید بن عفیر نے ہمیں تبایا۔ اُنہوں نے کہا: لیث (بن سعد) نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی اور مجھے حمید بن عبدالرحمٰن (بن عوف) نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا: حضرت ابوبکرؓ نے مجھے اس حج میں اعلان کرنے والوں کے ساتھ بھیجا، جنہیں اُنہوں نے قربانی کے دن اس لئے بھیجا کہ وہ منیٰ میں اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ ہی کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے۔ حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا: پھر اُن کے پیچھے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو بھیجا اور اُن سے فرمایا کہ وہ سورة براءة کا اعلان کر دیں۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا کہ حضرت علیؓ نے بھی ہمارے ساتھ قربانی کے دن منیٰ والوں میں براءۃ کا اعلان کیا اور یہ کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا، کہا: عقیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا: حمید بن عبدالرحمٰن نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حج میں اعلان کرنے والوں کے ساتھ بھیجا۔ اُنہوں نے اُن اعلان کرنے والوں کو قربانی کے دن روانہ کیا کہ وہ منیٰ میں اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے۔ حمید نے کہا: (پھر حضرت ابوبکرؓ کے) پیچھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو بھیجا اور اُنہیں حکم دیا کہ وہ براءت کا اعلان کریں۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے:حضرت علیؓ نے بھی ہمارے ساتھ منیٰ والوں میں قربانی کے دن براءت کا اعلان کیا اور یہ کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے۔
(تشریح)اسحاق (بن منصور) نے مجھے بتایا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اُنہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حمید بن عبدالرحمٰن نے اُن کو خبردی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے اُنہیں ایک جماعت کے ساتھ اس حج کے لئے بھیجا جس میں رسول اللہ ﷺ نے اُن کو امیر مقرر کیا تھا، وہ جو حجۃ الوداع سے پہلے تھا وہ لوگوں میں یہ اعلان کر رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک قطعاً حج کو نہ آئے اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے۔ حمید حضرت ابوہریرہؓ کی اس روایت کی وجہ سے یہ کہا کرتے تھے کہ یوم النحر (قربانی کا دن) حج اکبر کا دن ہے۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید) نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن وہب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہ( بن یمانؓ) کے پاس تھے۔ اُنہوں نے کہا: آیت (فَقَاتِلُوْۤا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ) میں مذکور لوگوں میں سے سوائے تین شخصوں کے کوئی باقی نہیں رہا اور نہ منافقوں میں سے کوئی باقی رہا سوائے چار شخصوں کے۔ ایک اعرابی نے کہا: تم تو محمد (ﷺ) کے صحابہ ہو ہمیں بتاؤ ہم نہیں جانتے ان لوگوں کی کیا حالت ہے جو ہمارے گھروں میں نقب لگاتے ہیں اور ہمارے چیدہ چیدہ مال چُرا لے جاتے ہیں۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا: یہی لوگ احکام الٰہی کی نافرمانی کرنے والے ہیں۔ ہاں ان میں سے سوائے چار شخصوں کے کوئی باقی نہیں رہا۔ اُن میں سے ایک بہت بوڑھا شخص ہے جو اگر ٹھنڈا پانی پیئے تو اس کی ٹھنڈک محسوس نہ کرے۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ جریر نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے حصین (بن عبدالرحمٰن) سے، حصین نے زید بن وہب سے روایت کی ۔ اُنہوں نے کہا: میں ربذہ میں حضرت ابوذرؓ کے پاس سے گزرا۔ میں نے پوچھا: آپ کو کس بات نے اس زمین میں ٹھہرا رکھا ہے؟ کہنے لگے: ہم شام میں تھے میں نے یہ آیت پڑھی: اور وہ لوگ (بھی) جو سونے اور چاندی کو جمع رکھتے ہیں اور اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو دردناک عذاب کی خبر دے۔ معاویہؓ نے کہا: یہ آیت ہمارے متعلق نہیں۔ یہ تو صرف اہل ِکتاب کے متعلق ہے۔ کہتے تھے: میں نے کہا: یہ آیت یقیناً ہمارے متعلق بھی ہے اور اُن کے متعلق بھی۔
(تشریح)عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے،اُنہوں نے (عبدالرحمٰن) بن ابی بکرہ سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابوبکرہؓ سے، حضرت ابوبکرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: زمانہ پھر چکر کھا کر ہوبہو ویسے ہی ہوگیا جیسا کہ وہ اس وقت تھا، جب اللہ نے یہ آسمان اور زمین پیدا کئے۔ سال بارہ مہینہ کا ہی ہوتا ہے۔ ان میں چار مہینے قابل حرمت ہیں، تین لگا تار ذوالقعدہ، ذوالحج اور محرم اور چوتھا مضر کا رجب، جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حبان (بن ہلال باہلی) نے ہمیں بتایا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ ثابت نے ہمیں بتایا کہ حضرت انسؓ نے ہم سے بیان کیا،کہا:حضرت ابوبکر ؓ نے مجھ سے بیان کیا اُنہوں نے کہا: میں غار میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ اتنے میں مَیں نے مشرکوں کے پاؤں دیکھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہؐ ! اگر ان میں سے کوئی اپنا پاؤں اٹھائے تو ہمیں دیکھ لے۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارا ایسے دو شخصوں کی نسبت کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔