بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
عبداللہ بن محمد (جعفی) نے ہم سے بیان کیا۔ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے( عبداللہ) بن ابی ملیکہ سے، اُنہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جب اُن کے اور (حضرت عبداللہ) بن زبیرؓ کے درمیان تنازعہ ہوا، میں نے کہا: اُن کے باپ حضرت زبیرؓ ہیں، ان کی ماں حضرت اسماءؓ، ان کی خالہ حضرت عائشہؓ ہیں، ان کے نانا حضرت ابوبکرؓ،ان کی دادی حضرت صفیہؓ ہیں۔ (عبداللہ بن محمد کہتے تھے:) میں نے سفیان (بن عیینہ) سے کہا: اس حدیث کی سند کیا ہے، اُنہوں نے کہا: ہم سے بیان کیا۔ (کہتے تھے کہ) اتنے میں کسی آدمی نے ان کو دوسری باتوں میں لگالیا اور ابھی یہ نہیں کہا تھاکہ ابن جریج نے۔
عبداللہ بن محمد (جعفی) نے مجھ سے بیان کیا، کہا: یحيٰ بن معین نے مجھے بتایا کہ حجاج نے ہم سے بیان کیا۔ ابن جریج نے کہا: (عبداللہ) بن ابی ملیکہ کہتے تھے: ان دونوں (حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ) کے درمیان کچھ اختلاف تھا تو میں (حضرت عبداللہ) بن عباسؓ کے پاس صبح کو گیا۔ میں نے پوچھا: کیا آپ حضرت ابن زبیرؓ سے لڑنا چاہتے ہیں؟ اور اللہ کے حرم کو جائز قرار دیں گے؟ انہوں نے کہا: معاذ اللہ۔ اللہ نے یہ بات ابن زبیرؓ اور بنی اُمیہ کے لیے مقدر کی ہے کہ وہ حرم کے اندر لڑائی کو جائز رکھیں اورمیں اللہ کی قسم اس میں لڑنا کبھی روا نہ رکھوں گا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: لوگ کہتے ہیں: ابن زبیرؓ کی بیعت کر لو۔ میں نے کہا: یہ امر (خلافت) عبداللہ بن زبیرؓ سے کچھ دور نہیں۔ اُن کے باپ جو ہیں تو وہ نبی ﷺ کے حواری ہیں۔ اس سے ان کی مراد حضرت زبیرؓ تھی اور ان کے نانا غار والے ساتھی ہیں۔ اُن کی مراد حضرت ابوبکرؓ سے تھی۔ ان کی ماں جو ہیں وہ ذات النطاق یعنی کمر بند والی ہیں۔ ان کی مراد حضرت اسماءؓ سے تھی،ان کی جو خالہ ہیں تو وہ اُم المومنین ہیں، ان کی مراد حضرت عائشہؓ سے تھی۔ اُن کی پھوپھی جو ہیں وہ نبی ﷺ کی زوجہ ہیں ان کی مراد حضرت خدیجہ ؓ سے تھی اور نبی ﷺ کی پھوپھی ان کی دادی ہیں ان کی مراد حضرت صفیہؓ سے تھی۔ پھر وہ اسلام میں پاک دامن رہے۔ قرآن کے قاری ہیں۔ اللہ کی قسم اگر انہوں نے مجھ سے اچھا سلوک کیا تو اُنہوں نے ایک قریبی رشتہ دار سے صلہ رحمی کا حق ادا کیا۔ اگر وہ مجھ پر حکومت کریں تو شریف ہمسر، رشتہ داروں نے مجھ پر حکومت کی۔ لیکن (حضرت عبداللہ بن زبیرؓ) نے تویتات اور اسامات اور حمیدات کو مجھ پر مقدم کیا ہے۔ اس سے ان کی مراد بنو اسد، بنوتویت اور بنو اسامہ کے گھرانے تھے۔ دیکھو ابوالعاصؓ کا بیٹا یعنی عبدالملک بن مروان سبقت لئے جارہا ہے اور یہ تو ایک جگہ کھڑے ہو گئے ہیں یعنی ابن زبیرؓ۔
محمد بن عبید بن میمون نے ہم سے بیان کیا ۔ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے عمر بن سعید سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا۔ ابن ابی ملیکہ نے مجھے خبردی کہ ہم حضرت ابن عباسؓ کے پاس گئے تو اُنہوں نے کہا: ابن زبیرؓ پر تمہیں حیرت نہیں ہوتی وہ اس معاملے میں کھڑے ہو گئے ہیں، تو میں نے کہا: میں ان کی خاطر اپنے نفس سے وہ کچھ کام لوں گا جو میں نے نہ حضرت ابوبکرؓ کے لئے اور نہ حضرت عمر ؓکے لئے اس سے لیا۔ حالانکہ وہ دونوں تو ہر خوبی میں اُن سے بڑھ کر تھے اور میں نے کہا: وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے پوتے اور حضرت زبیرؓ کے بیٹے اور حضرت ابوبکرؓ کے نواسے اور حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے اور حضرت عائشہؓ کے بھانجے ہیں۔ مگر میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ مجھ سے ہی تنتناتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ میں ان کے لئے کچھ کروں۔ پھر میں نے کہا: میں گمان نہیں کرتا تھا کہ میں اپنی طرف سے یہ خدمت پیش کروں گا اور وہ اس کو چھوڑ دیں گے۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ بھلے ارادے رکھتے ہیں۔ اور اگر چاروناچار یہی ہوا کہ میرے چچا کے بیٹے مجھ پر حکومت کریں تو یہ بات مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس بات کے کہ ان کے علاوہ کوئی اور مجھ پر حکومت کرے۔
(تشریح)بشر بن خالد ابومحمد نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت ابومسعود (انصاریؓ) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا، انہوں نے کہا: جب ہمیں صدقہ کا حکم ہوا تو ہم اس وقت (مزدوری پر) بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ حضرت ابوعقیل (حبحابؓ) آدھا صاع کھجور (مزدوری کے پیسوں میں سے) لے کر آئے اور ایک اور شخص ان سے زیادہ لایا تو اس پر منافق کہنے لگے کہ اللہ تو اس شخص کے صدقہ سے بے نیاز ہے اور اس دوسرے شخص نے جو کیا تو محض دکھاوے کے لئے ہے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی یہ (منافق ہی) ہیں جو مومنوں میں سے خوشیسےبڑھ بڑھ کرصدقے دینے والوں پر طنز کرتے ہیں اور ان پر بھی جو کہ سوائے اپنی (محنت کی) کمائی کے (کوئی) طاقت نہیں رکھتے سو (باوجود اس قربانی کے) یہ (منافق) ان پر ہنسی کرتے ہیں اللہ اُن (میں سے اشد مخالفوں ) کو ہنسی کی سزا دے گا اور اُن کو دردناک عذاب پہنچے گا۔
اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے: میں نے ابواسامہ سے پوچھا۔ کیا زائدہ (بن قدامہ) نے تمہیں بتایا کہ سلیمان (اعمش) سے مروی ہے۔ اُنہوں نے شقیق (بن سلمہ) سے، شقیق نے حضرت ابومسعود انصاریؓ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کا حکم دیتے تو ہم میں سے ایک محنت کر کے مُدلاتا اور آج اُن میں سے ایک کے پاس لاکھ درہم ہیں۔ گویا ان کا اشارہ اپنی طرف تھا۔
(تشریح)عبید بن اسماعیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابواسامہ سے، ابواسامہ نے عبیداللہ (بن عمر) سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ اُنہوں نے کہا:جب عبداللہ بن اُبَیّ (بن سلول) مرگیا تو اس کا بیٹا عبداللہؓ بن عبداللہ رسول اللہ ﷺ کےپاس آیا اور اس نے آپؐ سے درخواست کی کہ اپنی قمیص اسے دے دیں جس میں وہ اپنے باپ کو کفنائے۔ آپؐ نے اس کو قمیص دی۔ پھر اس نے آپؐ سے درخواست کی کہ آپؐ اس کا جنازہ پڑھائیں۔ رسول اللہﷺکھڑے ہو گئے تاکہ اس کا جنازہ پڑھائیں۔ حضرت عمرؓ نے کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کا کپڑا پکڑلیا اور کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپؐ اس کا جنازہ پڑھتے ہیں حالانکہ آپؐ کے ربّ نے آپؐ کو اس کا جنازہ پڑھنے سے روکا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے تو مجھے صرف اختیاردیا ا ور فرمایا ہے: تُو اُن کے لئے مغفرت طلب کر ىا اُن کے لئے مغفرت نہ طلب کر، اگر تُو اُن کے لئے ستر مرتبہ بھى مغفرت مانگے…۔اور میں ستر بار سے زیادہ مغفرت کی دعا کرلوں گا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: وہ تو منافق تھا۔ (حضرت ابن عمرؓ) کہتے ہیں: خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ یعنی تو اُن میں سے کسی کے لئے جو مرجائے کبھی دعائے مغفرت نہ کر اور نہ اس کی قبر پر کبھی کھڑا ہو۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا کہ عقیل سے مروی ہے اور یحيٰ کے سوا دوسرے شخص نے یوں کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا کہ عقیل نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ اُنہوں نے کہا: عبید اللہ بن عبد اللہ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے، حضرت ابن عباسؓ نے حضرت عمر بن خطاب ؓسے روایت کی کہ انہوں نے کہا:جب عبداللہ بن اُبَیّ بن سلول مرگیا تو رسول اللہ ﷺ کو اُس کے لئے بلایا گیا تا کہ آپؐ اس کا جنازہ پڑھیں۔ جب رسول ﷺ کھڑے ہوئے تو میں آپؐ کی طرف جلدی سے گیا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپؐ اُبَیّ کے بیٹے کا جنازہ پڑھیں گے؟ حالانکہ اس نے تو فلاں دن ایسا ایسا کہا تھا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ میں آپ کے سامنے اس کی باتیں گننے لگا۔ رسول اللہ ﷺ (سن کر) مسکرائے اور فرمایا: عمر ؓ ہٹ جائیں۔ جب میں نے بہت اصرار کیا۔ تو آپؐ نے فرمایا: مجھے اختیار دیا گیا ہے اس لئے میں نے یہ اختیار کیا۔ اگر میں جانتا کہ میں ستر سے زیادہ مرتبہ استغفار کروں اور اس کو بخش دیا جائے گا تو میں ضرور اس سے زیادہ ہی اس کے لئے استغفار کرتا۔ وہ کہتے تھے: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ پھر آپؐ لوٹ گئے۔ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ سورة براءۃ کی یہ دو آیتیں نازل ہوئیں: اوران میں سے اگر کوئیمر جائے تو اس پر نماز (جنازہ) نہ پڑھا کر اور نہ اس کى قبر پر (دعا کے لئے) کھڑا ہوا کر کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور ایسی حالت میں مرے ہیں جبکہ وہ اطاعت سے خارج ہو رہے تھے۔ کہتے تھے: مجھے بعد میں اپنی جرأت پر تعجب ہوا جو میں نے رسول ﷺ پر کی۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبید اللہ (بن عمر بن حفص) سے، انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا:جب عبداللہ بن اُبَیّ مرگیا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ نے اس کو اپنی قمیص عطا کی اور اس سے فرمایا کہ اس کو اس میں کفنا دے۔ پھر آپؐ اس کا جنازہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے تو حضرت عمر بن خطابؓ نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور کہا: آپؐ اس پر نماز جنازہ پڑھتے ہیں حالانکہ وہ منافق تھا اور اللہ نے بھی آپؐ کو اُن منافقوں کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے روکا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے تو صرف اللہ نے اختیار دیا ہے یا فرمایا: خبردی ہے اور فرمایا ہے کہ تو اُن کے لئے استغفار کرے یا نہ کرے اگر تو اُن کے لئے ستر بار بھی استغفار کرے تو بھی اللہ اُن کو بخشنے کا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں ستر سے بھی زیادہ دعائے مغفرت کروں گا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی۔ پھر اِس کے بعد اللہ نے آپؐ پر یہ وحی نازل کی۔ اوران میں سے اگر کوئی مر جائے تو اس پر نماز (جنازہ) نہ پڑھا کر اور نہ اس کى قبر پر (دعا کے لئے) کھڑا ہوا کر کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور ایسی حالت میں مرے ہیں جبکہ وہ اطاعت سے خارج ہو رہے تھے۔
(تشریح)یحيٰ (بن عبداللہ بن بکیر) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ سے روایت کی کہ عبداللہ بن کعب (بن مالک) کہتے تھے کہ میں نے حضرت کعب بن مالکؓ سے جبکہ وہ جنگ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، سنا: اللہ کی قسم! اللہ نے مجھے ہدایت دینے کے بعد کوئی نعمت اس سے بڑھ کر مجھ پر نہیں کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سچ سچ بیان کردیا۔ آپ سے جھوٹ نہیں بولا۔ ورنہ میں بھی اسی طرح ہلاک ہوجاتا جس طرح کہ وہ ہلاک ہوئے جنہوں نے جھوٹ بولا کیونکہ یہ وحی نازل ہوئی: جب تم ان کی طرف لوٹو گے تو وہ تمہارے سامنے اللہ کى قسمىں کھائىں گے تا تم اُن سے درگذر کرو (سو ہم بھی تم سے کہتے ہیں کہ) ان سے درگذر ہی کرو کیونکہ وہ گندے ہیں اور ان کا ٹھکانہ ان کے اعمال کے بدلہ میں پہلے ہی سے جہنم مقرر ہو چکا ہے وہ تمہارے سامنے قسمىں کھائىں گے کہ تم ان سے راضى ہو جاؤ پس اگر تم ان سے راضى بھى ہو جاؤ تو اللہ اطاعت سے نکل جانے والے لوگوں سے راضى نہىں ہوگا۔