بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نےابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی کہ عبد اللہ بن محمد بن ابی بکر نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بتایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں علم نہیں کہ تمہاری قوم نے کعبہ بنایا تھا اور انہوں نے ابراہیمؑ کی بنیادوں سے چھوٹا رکھا۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! کیا آپؐ پھر اسے ابراہیم کی بنیادوں پر نہیں کردیتے؟ آپؐ نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمہاری قوم نے حال ہی میں کفر سے نجات پائی ہے (تو میں ویسا کردیتا۔) حضرت عبداللہ بن عمرؓنے (یہ سن کر) کہا: اگر حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستون جو حجراَسود سے ملحق ہیں ان کو بوسہ نہیں دیا تو اس کی صرف یہی وجہ تھی کہ بیت اللہ کو حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں پر پورے طور پر نہیں بنایا گیا تھا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ يحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اس اثنا میں کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، ایک شخص آیا اور اس نے کہا: اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا ہے کہ وہ کعبہ کو قبلہ بنائیں۔ اس لئے تم بھی اس کو قبلہ بناؤ تو (یہ سُن کر )انہوں نے کعبہ کی طرف منہ کرلیا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر ( بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ان لوگوں میں سے جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی میرے سوا کوئی نہیں رہا۔
(تشریح)يحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد اللہ بن دینار سے، عبداللہ نے حضرت ابن عمرؓسے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اس اثنا میں کہ لوگ ایک بار قباء میں صبح کی نماز میں تھے، ان کے پاس آنے والا آیا۔ اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات قرآن اُترا ہے اور حکم ہوا ہے کہ کعبہ کوقبلہ بنائیں۔ اس لئے تم بھی کعبہ کو قبلہ بناؤ۔ ان کے منہ شام کی طرف تھے (یہ سن کر) وہ کعبہ کی طرف پھر گئے۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ يحيٰ (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ ابواسحاق نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت المقدس کی طرف سولہ یا سترہ مہینے نماز پڑھتے رہے۔ پھر آپؐ نے قبلہ کی طرف منہ پھیرا۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ عثمان بن عمر، نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مبارک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے يحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اہل کتاب تورات کو عبرانی میں پڑھا کرتے تھے اور مسلمانوں سے اس کا مفہوم عربی زبان میں بیان کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل کتاب کی نہ تم تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب، اور یہ کہو: ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس پر بھی جو ہماری طرف نازل کیا گیا۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیاکہ انہوں نے زُہَیر سے سنا۔ وہ ابواسحاق سے، ابواسحاق حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور آپؐ چاہتے تھے کہ آپؐ کا رُخ بیت اللہ کی طرف ہو، اور آپؐ نے عصر کی نماز (بیت اللہ کی طرف منہ کرکے) پڑھی اور آپؐ کے ساتھ یہ نماز بعض لوگوں نے بھی پڑھی۔ پھر ان لوگوں میں سے جنہوں نے آپؐ کے ساتھ یہ نماز پڑھی تھی ایک شخص باہر گیا اور وہ ایک مسجد والوں کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع میں تھے۔ اس نے کہا: میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے تو وہ اسی حالت میں جس میں وہ تھے بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ اور وہ لوگ جو پہلے قبلہ پر ہی پیشتر اس کے کہ وہ بیت اللہ کی طرف تبدیل ہوا، فوت ہوگئے تھے، وہ (ایسے لوگ ہی تھے جو لڑائیوں میں) شہید ہوئے۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ ان کی بابت کیا کہیں۔ اس لئے اللہ نے یہ وحی کی: اللہ ایسا نہیں ہے کہ تمہارے ایمان ضائع کرے، اللہ یقیناً سب انسانوں پر بڑا ہی نرمی کرنے والا اور بڑا ہی رحم کرنے والا ہے ۔
(تشریح)یوسف بن راشد نے ہم سے بیان کیا کہ جریر اور ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے روایت کی اور یہ الفاظ جریر کے ہیں۔اور ابواسامہ نے کہا کہ ابوصالح نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز نوحؑ کو بلایا جائے گا۔ وہ کہیں گے: اے میرےربّ! میں حاضر ہوں اور تیری خدمت میں ہوں اور وہ پوچھے گا : کیا تم نے (میرا حکم) پہنچا دیا تھا؟ تو وہ کہیں گے:ہاں۔ پھر ان کی قوم سے پوچھا جائے گا: کیا اس نے تمہیں (میرا حکم) پہنچادیا تھا؟ تو وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی نذیر نہیں آیا۔ تب وہ پوچھے گا: تیرے لئے کون شہادت دے گا؟ نوحؑ کہیں گے: محمدؐ اور اُن کی اُمّت۔ اور وہ شہادت دیں گے کہ انہوں نے فی الواقع (حکم) پہنچا دیا تھا اور یہ رسول بھی تمہارے متعلق (اسی طرح) شاہد ہوگا۔ اور یہ وہی بات ہے جو اللہ جل ذِکرہٗ فرماتا ہے: اور اسی طرح ہم نے تمہیں اعلیٰ درجہ کی امت بنایا ہے تاکہ تم (دوسرے) لوگوں کے نگران بنو اور یہ رسول تم پر نگران ہو اور الْوَسَطُ کے معنی ہیں الْعَدْلُ (یعنی اعلیٰ درجہ کا)۔
(تشریح)