بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
اور عثمان بن صالح نے (عبداللہ) بن وَہب سے روایت کرتے ہوئے (اتنا) اور بڑھایا، انہوں نے کہا: مجھے فلاں شخص اور حیوہ بن شُرَیح نے بتایا کہ بکر بن عمرو معافری سے روایت ہے کہ بُکَیر بن عبداللہ نے ان سے بیا ن کیا۔ وہ نافع سے روایت کرتے تھے کہ ایک شخص حضرت ابن عمرؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابوعبدالرحمٰنؓ! آپؓ کو کس بات نے آمادہ کیا ہے کہ آپؓ ایک سال حج کریں اور ایک سال عمرہ اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد چھوڑ دیں؟ حالانکہ آپؓ کو خوب علم ہے کہ اللہ نے جہاد سے متعلق کیا کچھ ترغیب دی ہے۔ انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، پانچ نمازیں ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوٰة دینا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔ وہ کہنے لگا: ابوعبدالرحمٰنؓ! کیا آپؓ وہ نہیں سنتے جو اللہ نے اپنی کتاب میں کہا ہے: اگر مومنوں میں سے دوگروہ آپس میں لڑپڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو۔ پھر اگر (صلح ہو جانے کے بعد) ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر چڑھائی کرے تو سب مل کر اس چڑھائی کرنے والے کے خلاف جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ (نیز فرمایا ہے) ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے۔ (حضرت ابن عمرؓ نے) کہا: ہم نے رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں(یہ) کیا اور اس وقت مسلمان تھوڑے تھے اور آدمی کو اس کے دین کی وجہ سے ابتلاء میں ڈال دیا جاتا تھا یا وہ اسے قتل کردیتے یا اُسے دکھ دیتے، آخر مسلمان بہت ہوگئے اور فتنہ نہ رہا۔
(حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے پوچھنے والے) اس(شخص ) نے کہا: پھر حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کی نسبت آپؓ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نےکہا:حضرت عثمانؓ جو تھے، اللہ نے ان کو معاف کردیا اور تم جو ہو تو تم نے بُرا منایا کہ اللہ ان سے درگزر کرے اور حضرت علیؓ جو تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے اور آپؐ کے داماد تھے۔ اور(حضرت ابن عمرؓ نے) اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا، یہ اُن کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔
(تشریح)محمد( بن سلام بیکندی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ( سفیان) بن عیینہ نے مجھ سے کہا: انہوں نے عمرو سے، عمرو نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت میں منڈیاں ہوا کرتی تھیں۔ مسلمانوں نے گناہ سمجھا کہ وہ (حج کے) موسموں میں تجارت کریں۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے ربّ کے فضل کی جستجو کرو، یعنی حج کے ایام میں۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز سے، عبدالعزیز نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے ہمارے ربّ! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطاکر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کی سزا سے بچائیو ۔
(تشریح)آدم(بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن اصفہانی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن معقل سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ اس مسجد میں یعنی کوفہ کی مسجد میں حضرت کعب بن عُجرہؓ کے پاس بیٹھا کرتا تھا اور میں نے اُن سے (آیت) فِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ سے متعلق پوچھاتھا۔ انہوں نے کہا: لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مجھے لے گئے اور (حالت یہ تھی کہ) جو ئیں میرے منہ پر گر رہی تھیں ۔ آپؐ نے (دیکھ کر) فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تکلیف نے تمہارا یہ حال کردیا ہے۔ کیا ایک بکری(ذبح کرنے) کی استطاعت ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلادو۔ ہر مسکین کو آدھا صاع اناج دو اور اپنے سر کو منڈواؤ۔ تو یہ آیت میرے متعلق خاص کر نازل ہوئی اور تمہارے لئے عام ہے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا۔ محمد بن حازم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام( بن عروہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ قریش اور جو اُن کے طریقہ پر چلتے تھے مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور ان لوگوں کو حُمس (یعنی دین کے پکے) کہا کرتے تھے اور باقی تمام عرب عرفات میں (جاکر) ٹھہرا کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں آئیں اور پھر وہاں ٹھہریں اور پھر وہاں سے لوٹ کر آئیں۔ یہی مراد ہے، اللہ تعالیٰ کے اس قول سے : تم بھی اسی جگہ سے لوٹ کر آیا کرو جہاں سے لوگ لوٹیں ۔
محمد بن ابی بکر نے مجھ سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ کریب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: آدمی جب تک بغیر احرام ہو یعنی جب تک حج کی لبیک نہ پکارے بیت اللہ کا طواف کرتا رہے اور جب سوار ہوکر عرفات کو جائے پھر جس کو قربانی میسر ہو، اونٹوں سے یا گائے بیل سے یا بکریوں سے جو بھی اس کو میسر ہو اور جسے چاہے اس کی قربانی کردے۔ لیکن اگر اس کو میسر نہ ہو تو اس کو تین روزے حج میں رکھنے چاہئیں اور یہ عرفات کے دن سے پہلے ہیں۔ اور اگر ان تین روزوں میں سے آخری روزہ عرفات کے دن ہو تب بھی اس پر کوئی حرج نہیں۔ پھر (مکہ سے) چل دے اور آکر عرفات میں عصر کی نماز سے لے کر اس وقت تک کہ اندھیرا ہو جائے ٹھہرے، پھر چاہئے کہ لوگ عرفات سے لوٹیں۔ پھر جب وہ وہاں سے لوٹ پڑیں یہاں تک کہ مزدلفہ میں پہنچ جائیں جہاں وہ رات گزارتے ہیں۔ پھر چاہیئے کہ وہ ذکرالٰہی میں بہت مشغول رہیں۔ یا (کہا:)تم صبح ہونے سے پہلے تکبیر اور تہلیل کثرت سے کرو۔ پھر وہاں سے لَوٹو۔ کیونکہ لوگ وہیں سے لوٹتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے: اور جہاں سے لوگ (واپس) لوٹتے رہے ہیں وہاں سے تم بھی (واپس) لوٹو۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو۔ اللہ یقینا ً بہت بخشنے والا(اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔ یعنی رمی جمار تک (استغفار میں مشغول رہو۔)
(تشریح)قبیصہ(بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ اس حدیث کو مرفوعاً بیان کرتی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو بڑا لڑنے والا جھگڑالو ہو ۔ اور عبداللہ (بن ولید) نے کہا: سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے مجھے بتایا انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)