بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
مؤمل نے (جو کہ ہشام کے بیٹے ہیں) ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ عوف (بن ابی جمیلہ) نے ہم سے بیان کیا۔ ابورجاء نے ہمیں بتایا (کہا) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: آج رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور دونوں مجھے نیند سے جگا کرلے گئے اور ہم ایک ایسے شہر کے پاس پہنچے جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا تو وہاں ہمیں کچھ آدمی ملے اُن کا آدھا بدن تو نہایت خوبصورت تھا، ایسا کہ جو تو نے کبھی دیکھا ہو اور آدھا نہایت ہی بد شکل تھا کہ جو تو نے کبھی دیکھا ہو۔ اُن دونوں نے اُن لوگوں سے کہا: اس ندی میں داخل ہوجاؤ۔ چنانچہ وہ اس میں داخل ہو گئے۔ پھر ہمارے پاس واپس آگئے اور اُن کی وہ بد صورتی اُن سے جاتی رہی اور وہ نہایت ہی خوبصورت ہوگئے۔ اُن دونوں نے مجھے کہا:یہ جنت عدن ہے اور وہ آپکا مکان ہے۔ اُن دونوں نے کہا اور یہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا جسم بدصورت تھا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کچھ بھلے کام اور کچھ بُرے کام ملا جلا کر کیے ہیں اور اللہ نے اُن سے درگزر کیا ہے۔
(تشریح)اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے ہمیں بتایا اُنہوں نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے اپنے باپ (حضرت مسیب بن حزنؓ) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو اُن کے پاس نبیﷺ گئے۔ اس وقت وہاں ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمَیّہ تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: چچا ! آپ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کریں تا اس بنا پر میں آپ کے لئے اللہ کے پاس چارہ جوئی کروں۔ ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمَیّہ نے کہا:ابوطالب! آیا عبدالمطلب کے دین سے آپ پھر جائیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آپ کے لئے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے روک نہ دیا جائے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: نبی کو اور وہ لوگ جو مومن ہیں انہیں نہیں چاہیے تھا کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے گو وہ قریبی رشتہ دار ہی ہوں جبکہ اُن پر پورے طور پر واضح ہوچکا کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں۔
(تشریح)احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبد اللہ) بن وہب نے مجھے بتایا اُنہوں نے کہا: مجھےیونس نے خبر دی۔ احمد (بن صالح) نے کہا اور عنبسہ (بن خالد) نے ہم سے بیان کیا کہ یونس نے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ اُنہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن کعب (بن مالک) نے مجھے بتایا کہا کہ عبد اللہ بن کعب نے مجھے خبر دی اور حضرت کعبؓ کے بیٹوں میں سے یہی تھے جو حضرت کعبؓ کو (جب وہ نابینا ہو گئے تھے) پکڑ کر لے جایا کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت کعب بن مالکؓ سے اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا یعنی ان تین شخصوں کا واقعہ جن کا فیصلہ ملتوی کیا گیا تھا۔اُنہوں نے اپنی بات کے آخر میں کہا کہ میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنی جائیداد سے دستبردار ہوتا ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ رہے گا۔ نبی ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: اپنی جائیداد سے کچھ رکھ لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔
(تشریح)محمد (بن نضر نیشاپوری) نے مجھ سے بیان کیا کہ احمد بن ابی شعیب نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن اعین نے ہم سے بیان کیا ۔ اسحاق بن راشد نے ہمیں بتایا کہ زہری نے اُن سے بیان کیا،کہا: عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے مجھے بتایا کہ اُنہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ(حضرت کعب بن مالکؓ)سے سنا اور وہ اُن تین شخصوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی تھی۔ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی غزوہ میں بھی جس میں آپ نکلے کبھی پیچھے نہ رہے سوائے دو غزوات کے ایک غزوۂ عسرہ اور ایک غزوۂ بدر۔ اُنہوں نے کہا: میں نے یہ پختہ عزم کرلیا کہ میں صبح چاشت کے وقت رسول ﷺ سے سچ سچ بیان کردوں اور کم ہی ہوتا کہ کسی سفر سے جو آپؐ نے کیا ہوتا چاشت کے وقت نہ آتے ہوں اور آپؐ پہلے مسجد میں آتے اور آپؐ وہاں دو رکعتیں پڑھتے اور نبی ﷺ نے میرے اور میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے روک دیا اور ہمارے سوا جو اور پیچھے رہنے والے تھے ان میں سے کسی کے ساتھ بھی بات کرنے سے آپؐ نے نہیں روکا۔ اس لئے لوگ ہمارے ساتھ بات کرنے سے بچتے رہے۔ میں اسی حالت میں رہا، یہاں تک کہ یہ معاملہ اتنا لمبا ہوگیا کہ زندگی مجھ پر دوبھر ہونے لگی اور کوئی بات بھی مجھے اس سے بڑھ کر فکر میں ڈالنے والی نہ تھی کہ میں مرجاؤں اور نبی ﷺ میرے لئے دعائے رحمت نہ کریں یا رسول اللہ ﷺ فوت ہوجائیں اور میں لوگوں میں اسی پست حالت میں رہوں کہ اُن میں سے کوئی بھی میرے ساتھ بات نہ کرے اور نہ ہی میرے لئے دعائےرحمت کرے کہ آخر اللہ نے اپنے رسول پر ہماری توبہ سے متعلق اس وقت وحی نازل کی جبکہ رات کی آخری تہائی رہتی تھی اور رسول اللہ ﷺ حضرت ام سلمہؓ کے پاس تھے اور حضرت ام سلمہؓ میرے معاملہ میں اچھا رویّہ رکھتی تھیں اور میرے متعلق فکر مند تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ام سلمہؓ! کعب کی توبہ قبول ہوگئی ہے۔ کہنے لگیں: کیا میں اُس کے پاس آدمی بھیج کر اسے بشارت نہ دوں۔ آپؐ نے فرمایا: لوگ تمہارے پاس آکر تمہیں تھکا دیں گے اور ساری رات تمہیں سونے نہ دیں گے۔ جب رسول اللہ ﷺنے صبح کی نماز پڑھائی تو آپؐ نے اعلان کیا کہ اللہ نے ہماری توبہ قبول کرلی ہے اور آپؐ جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ چمک اٹھتا ایسا کہ جیسے وہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم تین آدمی وہ تھے جن کا معاملہ مؤخر کیا گیا تھا اُن لوگوں سے جنہوں نے بہانے بنائے، جو قبول کرلیے گئے۔ جس وقت اللہ نے ہماری توبہ کی بابت وحی نازل کی اور جب پیچھے رہنے والوں میں سے اُن لوگوں کا ذکر کیا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جھوٹ بولا تھا اور باطل عذر پیش کیے تھے تو اُن کا ذکر نہایت ہی بُرا کیا گیا جو کبھی کسی کا کیا گیا ہو۔ یعنی اللہ سبحانہ نے فرمایا: جب تم اُن کی طرف لوٹو گے تو تمہارے پاس عذر کریں گے۔ تو کہہ عذرنہ کرو، ہم تمہاری ہرگز نہیں مانیں گے۔ اللہ نے ہمیں تمہارے اندرونے سے آگاہ کردیا ہے اور عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمہارے عمل دیکھ لے گا۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا۔ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ عبداللہ بن کعب بن مالک نے کہا: اور وہ حضرت کعب بن مالکؓ کو (بوجہ نابینائی کے) پکڑ کر لے جایا کرتے تھے کہ میں نے حضرت کعب بن مالکؓ سے سنا وہ واقعہ تبوک سے متعلق جبکہ وہ پیچھے رہ گئے تھے بیان کرتے تھے کہ اللہ کی قسم! میں کسی کو نہیں جانتا کہ اللہ نے اس کو سچ بیان کرنے کی وجہ سے اس خوبی سے آزمایا ہو جیسا کہ اس نے مجھے آزمایا۔ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا، آج کے دن تک میں نے عمداً جھوٹ نہیں بولا اور اللہ عز و جل نے اپنے رسول ﷺ پر یہ وحی نازل کی: اللہ نے نبى اور مہاجرىن اور انصار پر بڑا فضل کیا ہے (یعنی ان لوگوں پر) جنہوں نے اس (نبی)کی تکلیف کی گھڑی میںجبکہ ان میں سے ایک گروہ کے دل کسی قدر شک میں پڑ گئے تھے اتباع کی پھر اس نے ان (کمزوروں) پر بھی فضل کر دیا وہ ان (مومنوں) سے یقیناً محبت کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ اسی طرح اُن تىنوں پر بھى (اس نے فضل کیا) جو کہ پىچھے چھوڑے گئے تھے ىہاں تک کہ جب زمىن باوجود فراخى کے اُن پر تنگ ہو گئى اور اُن کے اپنے نفس بھی ان پر بار بن گئے اور اُنہوں نے خیال کیا کہ اللہ کے غضب سے بچنے کے لیے سوائے اس کے اور کوئی پناہ نہىں تو ان کی حالت دیکھ کر اللہ نے ان پر فضل کیا تاکہ وہ بھی توبہ کریں اللہ یقیناً بار بار توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے ۔ اےمومنو! اللہ کا تقوى اختىار کرو اور صادقوں (کی جماعت) کے ساتھ شامل ہو جاؤ ۔
(تشریح)ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: ابن سباق نے مجھے خبر دی کہ حضرت زید بن ثابت انصاریؓ نے کہا، اور وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو وحی لکھا کرتے تھے: حضرت ابوبکرؓ نے مجھ کو جب یمامہ کے لوگ شہید کئے گئے، بُلا بھیجا ا ور اس وقت اُن کے پاس حضرت عمر ؓ تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نےفرمایا: عمر ؓ میرے پاس آئے ہیں اور اُنہوں نے کہا:یمامہ کی جنگ میں لوگ بہت شہید ہوگئے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اور لڑائیوں میں بھی قاری نہ مارے جائیں اور اس طرح قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہوجائے گا، سوائے اس کے کہ تم قرآن کو ایک جگہ جمع کردو اور میری یہ رائے ہے کہ آپ قرآن کو ایک جگہ جمع کریں۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: میں نے عمر ؓسے کہا: میں ایسی بات کیسے کروں جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کی۔ عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا یہ کام اچھا ہے۔ عمرؓ مجھے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے اس کے لئے میرا سینہ کھول دیا اور اب میں بھی وہی مناسب سمجھتا ہوں جو عمرؓ نے مناسب سمجھا۔ حضرت زید بن ثابتؓ نے کہا اور اس وقت حضرت عمرؓ اُن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، بات نہ کرتے تھے۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: تم جوان عقل مند آدمی ہو اور ہم تم پر کوئی بدگمانی نہیں کرتے۔ تم رسول اللہ ﷺ کے لئے وحی لکھا کرتے تھے اس لئے قرآن جہاں جہاں ہو تلاش کرو اور پھر اس کو لے کر ایک جگہ جمع کردو اور اللہ کی قسم ! اگر وہ پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا مجھے مکلف کرتے تو مجھ پر یہ کام اتنا بوجھل نہ ہوتا جتنا کہ یہ کام جس کے کرنے کے لئے اُنہوں نے مجھے حکم دیا یعنی قرآن جمع کرنا۔ میں نے کہا: آپ دونوں وہ کام کیسے کرتے ہیں جو نبی ﷺ نے نہیں کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم وہ اچھا کام ہے ۔ میں اُن سے بار بار کہتا رہا، یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ اس امر کے لئے کھول دیا جس کے لئے اللہ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا سینہ کھولا تھا۔ میں کھڑا ہوگیا اور قرآن مجید کی تلاش کرنے لگا، اسے (چمڑے کے) پرچوں اور کندھے کی ہڈیوں اور کھجوروں کی ٹہنیوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کرنے لگا۔ یہاں تک کہ میں نے سورۂ توبہ کی دو آیتیں حضرت خزیمہ انصاریؓ کے پاس پائیں۔ وہ اُن کے سوا میں نے کسی کے پاس نہ پائیں اور وہ یہ ہیں۔ لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ… یعنی تمہارے پاس تم مىں سے ہى اىک رسول آىا اسے بہت سخت شاق گزرتا ہے جو تم تکلىف اُٹھاتے ہو (اور) وہ تم پر (بھلائى چاہتے ہوئے) حرىص (رہتا) ہے۔ سورۃ کے آخر تک (اُنہوں نے پڑھا) وہ ورق جن میں قرآن مجید جمع کیا گیا تھا وہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس رہے۔ یہاں تک کہ اللہ نے اُن کو وفات دی۔ پھر حضرت عمر ؓ کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ نے اُن کو وفات دے دی پھر حضرت حفصہ بنت عمرؓ کے پاس رہے۔ (ابو الیمان کی طرح) عثمان بن عمر اور لیث (بن سعد) نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی اور لیث نے (اپنی سند میں) یوں کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن خالد نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ اور اُنہوں نے (حضرتخزیمہؓ کی جگہ) ’’حضرت ابوخزیمہ انصاریؓ کے پاس‘‘ کہا۔ اور موسیٰ نے ابراہیم سے یوں نقل کیا کہ ابن شہاب نے ہم سے اپنی روایت میں یہ بیان کیا کہ حضرت ابوخزیمہؓ کے پاس۔ اور موسیٰ (بن اسماعیل) کی طرح یعقوب بن ابراہیم نے بھی اپنے باپ (ابراہیم) سے یہ حدیث روایت کی۔ اور ابوثابت (محمد بن عبیداللہ مدنی) نے کہا: ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ اُنہوں نے یوں کہا: حضرت خزیمہؓ کے پاس یا حضرت ابوخزیمہؓ کے پاس۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور یہود عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ کہنے لگے:یہ وہ دن ہے جس میں حضرت موسیٰؑ فرعون پر غالب آئے۔تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: موسیٰؑ کے ساتھ تمہارا تعلق اِن یہودیوں سے بڑھ کر ہے اس لیے تم بھی روزہ رکھو۔
(تشریح)حسن بن محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ حجاج (بن محمد اعور) نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے: ابن جریج نے کہا: محمد بن عباد بن جعفر نے مجھے بتایا کہ اُنہوں نے حضرت ابن عباسؓ کو یہ آیت یوں پڑھتے سنا: اَلَاۤ اِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُوْرُهُمْ۔ کہتے تھے: میں نے اُن سے اِس آیت کی نسبت پوچھا۔ تو اُنہوں نے کہا: کچھ لوگ تھے کہ قضاء حاجت کرنے سے شرماتے کہ کہیں آسمان کے سامنے ننگے نہ ہوجائیں۔ایسے ہی اپنی بیویوں سے ہم بستر ہوتے وقت بھی شرماتے کہ کہیں آسمان کے سامنے ننگے نہ ہوجائیں۔ تو یہ آیت اُن کے متعلق نازل ہوئی۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن جریج سے روایت کی اور محمد بن عباد بن جعفرنے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ نے اس آیت کو یوں پڑھا :أَ لَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ (محمد بن عباد کہتے تھے) میں نےپوچھا: ابوالعباسؓ! تَثْنَوْنِي صُدُوْرُهُمْ سے کیا مراد ہے؟ کہنے لگے: آدمی اپنی بیوی سے ہم بستر ہوتا تو شرماتا یا وہ بیت الخلاء میں جاتا تو شرماتا۔ اس لئے یہ آیت نازل ہوئی یعنی سنو! وہ یقیناً اپنے سینوں کو اس لیے موڑتے رہتے ہیں۔
(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا ۔ ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے بتایا کہ عمرو (بن دینار) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ نے یہ آیت پڑھی: اَلَاۤ اِنَّهُمْ يَثْنُوْنَ…یعنی سنو! وہ یقیناً اپنے سینوں کو اس لیے موڑتے رہتے ہیں کہ اُ س سے چھپے رہیں۔ سنو! جس وقت وہ اپنے کپڑے اوڑھتے ہیں۔ اور عمرو بن دینار کے سوا اَوروں نے حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا:يَسْتَغْشُوْنَ کے معنی ہیں وہ اپنے سروں کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ سِيْٓءَ بِهِمْ کے معنی ہیں وہ اپنی قوم سے بدگمان ہوا۔ وَضَاقَ بِهِمْ کے معنی ہیں کہ اس نے اپنے مہمانوں سے تنگی محسوس کی۔ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ کے معنی ہیں تاریکی میں۔ اور مجاہد نے کہا: اِلَيْهِ اُنِيْبُ کے معنی ہیں میں اس کی طرف رجوع کرتاہوں۔
(تشریح)