بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: علی بن حسین نے مجھے بتایاکہ حضرت حسین بن علیؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے انہیں خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور حضرت فاطمہ کے پاس رات کو آئے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم دونوں نماز (تہجد) نہیں پڑھتے؟ رَجْمًۢا بِالْغَيْبِ کے معنی ہیں بات اچھی طرح نہ سمجھی اور یونہی بیان کردی۔ فُرُطًا کے معنی ہیں ندامت، شرمندگی۔ سُرَادِقُهَا سے مراد یہ ہے کہ (آگ انہیں گھیرے ہوئے ہو گی) دیواروں اور کمرے کی طرح۔ یعنی (ایسی قناتیں) جو بڑے خیمے کے اردگرد ہوتی ہیں۔ يُحَاوِرُهٗۤ یعنی وہ اُس سے رُوبرو بات کررہا تھا۔ یہ لفظ محاورہ سے ہے بمعنی گفتگو۔ لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيْ ـ لیکن میں تو یہ کہتا ہوں: حق تو یہ ہے کہ اللہ ہی میرا ربّ ہے۔ پھر الف کو حذف کردیا اور اس کی ایک نون کو (لٰکن کی) دوسری نون میں مدغم کر دیا۔ وَفَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاـ یعنی تم کہو اور اُن کے درمیان ہم نے ایک نہر جاری کی تھی۔ زَلَقًا وہ جگہ جس پر قدم نہ جم سکے۔ هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ (میں الْوَلَايَةُ) وَلِیَ سے مصدر ہے۔ اَلْوَلِیُّ کے معنی ہیں حکومت و سرپرستی۔ عُقْبًا، عَاقِبَةً ، عُقْبَی اور عُقْبَةً مفہومًا ایک ہی ہیں۔ (اس کے معنی ہیں انجام) اور یہ آخرت ہے۔ قِبَلًا ، قُبُلًا اور قَبَلًا تینوں طرح ہی پڑھا گیا ہے۔ یعنی نئے سرے سے سامنے سے آتا ہوا۔ لِيُدْحِضُوْا کے معنی ہیں تا اس کو پھسلا دیں۔ الدَّحْضُ کے معنی ہیں پھسلنا یا پھسلانا۔
(تشریح)حمیدی (عبداللہ بن زبیر) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعید بن جبیر نے مجھے بتایا، وہ کہتے تھے کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا: نوف بکالی سمجھتے ہیں کہ خضر والے موسیٰ وہ نہیں جو بنی اسرائیل والے موسیٰ تھے۔ حضرت ابن عباسؓ نے یہ سن کر کہا: اللہ کے دشمن نے غلط کہا ہے۔ حضرت اُبَيّ بن کعبؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: موسیٰؑ بنی اسرائیل سے خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ ان سے پوچھا گیا: لوگوں میں سے کون زیادہ عالم ہے۔ انہوں نے کہا: میں۔ اللہ نے اُن پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ انہوں نے علم کو اللہ کی طرف کیوں نہیں لَوٹایا۔ (کیوں یہ جواب نہیں دیا کہ اللہ سب سے بڑھ کر عالم ہے۔) چنانچہ اللہ نے اُن کو وحی کی کہ میرا ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰؑ نے عرض کی کہ اے میرے ربّ! میں اُس تک کیونکر پہنچوں۔ فرمایا: تم اپنے ساتھ مچھلی لے لو اور وہ ٹوکری میں رکھ لو۔ پھر جہاں وہ مچھلی تم سے کھو جائے تو وہ وہیں ہو گا۔ چنانچہ موسیٰؑ نے مچھلی ٹوکری میں رکھ لی اور چل پڑے۔ اور اپنے ساتھ اپنے نوجوان یوشع بن نون کو بھی لے لیا۔ جب وہ دونوں چٹان کے پاس پہنچے، (سستانے کے لئے) اپنے سر ٹکائے اور سو گئے اور مچھلی ٹوکری میں تڑپنے لگی اور اس سے نکل کر سمندر میں جاگری اور تیزی سے بھاگتے ہوئے سمندر میں اپنی راہ لی، اور اللہ نے اس مچھلی سے پانی کا بہاؤ روک دیا اور پانی مچھلی پر محراب کی طرح ہوگیا۔ جب موسیٰؑ جاگے تو اُن کا ساتھی مچھلی کی نسبت انہیں بتانا بھول گیا ۔ وہ دونوں باقی دن اور رات بھی چلتے رہے، یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا۔ موسیٰؑ نے اپنے نوجوان سے کہا: ہمارا ناشتہ ہمارے پاس لاؤ۔ ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے ہیں۔ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے تھے: موسیٰؑ نے اس وقت تک تھکان محسوس نہیں کی جب تک کہ وہ اس جگہ سے نہیں گزر گئے کہ جس کی بابت اللہ نے فرمایا تھا۔ ان کے نوجوان نے ان سے کہا کہ بتایئے (اب کیا ہوگا) جب ہم (آرام کے لئے) اس چٹان پر ٹھہرے تو میں مچھلی (کا خیال) بھول گیا اور مجھے یہ بات شیطان کے سوا کسی نے نہیں بھلائی اور اس نے سمندر میں عجیب طرح سے اپنی راہ لے لی۔ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے تھے کہ وہ راستہ مچھلی کے آنے جانے کا تھا، پر موسیٰؑ اور ان کے نوجوان کو تعجب ہوا۔ موسیٰؑ نے یہ سن کر کہا کہ یہی وہ (مقام) ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ پھر وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے ہوئے واپس لَوٹے۔ کہتے تھے کہ جب وہ اپنے قدموں کا کھوج لیتے لَوٹے یہاں تک کہ چٹان کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ہے جو کپڑا اوڑھے ہے۔ موسیٰؑ نے انہیں سلام کہا اور خضر نے جواب دیا: تمہارے ملک میں سلامتی کہاں ؟(موسیٰ نے) کہا: میں موسیٰ ہوں۔ خضر نے کہا: بنی اسرائیل کا موسیٰ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ جو راستی کی باتیں آپ کو سکھائی گئی ہیں وہ مجھے بھی سکھائیں۔ فرمایا: تو میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکے گا۔ اے موسیٰ! علم الٰہی میں سے مجھے ایک علم حاصل ہے جو اللہ ہی نے مجھے سکھایا ہےتو اُسے نہیں جانتا اور تجھے بھی علم الٰہی میں سے ایک علم حاصل ہے جو اللہ ہی نے تجھے سکھایا ہے، میں اُسے نہیں جانتا۔ موسیٰ نے کہا: اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر (مستقل مزاج) پائیں گے اور میں کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ خضر نے ان سے کہا: اگر تمہیں میرے ساتھ ہی رہنا ہے تو پھر کسی بات کے متعلق مجھے سے نہ پوچھنا یہاں تک کہ میں خود ہی تم سے اس کا ذکر کروں۔ چنانچہ وہ دونوں سمندر کے کنارے کنارے چل پڑے۔ اتنے میں ایک کشتی گزری۔ انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ انہیں بھی سوار کرلیں۔ کشتی والوں نے خضر کو پہچان لیا او ر اُن کو بغیر کرایہ لئے سوار کیا۔ جب وہ دونوں کشتی پر سوار ہوئے تو ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ یکایک خضر نے تیشے سے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ نکال دیا۔ موسیٰؑ نے ان سے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بغیر کرایہ لئے ہمیں سوار کیا ہے۔ آپ ان کی کشتی پر لپکے ہیں اور اس میں شگاف کردیا ہے تا جو اِس کشتی میں ہیں ان کو غرق کردیں۔ آپ نے یقیناً (یہ) ایک ناپسندیدہ کام کیا ہے۔ خضر بولے: کیا میں نے (تجھے) نہیں کہا تھا (کہ) تُو میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکے گا۔ موسیٰؑ نے کہا: (اِس دفعہ) آپ مجھ پر گرفت نہ کریں کیونکہ میں (آپ کی ہدایت کو) بھول گیا تھا۔ اور آپ میری (اِس) بات کی وجہ سے مجھ پر سختی نہ کریں۔ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے تھے: اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ پہلی غلطی موسیٰؑ سے بھول کر ہوئی۔ کہتے تھے: اور ایک چڑیا آئی اور آ کر کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے سمندر میں ایک چونچ ماری۔ یہ دیکھ کر خضر نے موسیٰؑ سے کہا: علم الٰہی سے جو علم مجھے اور تجھے حاصل ہوا ہے، اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا نے سمندر سے کم کیا ہے۔ پھر وہ دونوں کشتی سے نکلے، اس دوران کہ وہ سمندر کے کنارے چلے جارہے تھے، خضر نے ایک لڑکا دیکھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ خضر نے اس کا سر پکڑا اَور اپنے ہاتھ سے اسے اکھیڑ کر مارڈالا۔ موسیٰؑ نے یہ دیکھ کر خضر سے کہا:کیا آپ نے ایک پاکیزہ نفس بغیر کسی نفس کے بدلے کے مارڈالا ہے؟ آپ نے یقیناً (یہ) بہت بُرا کام کیا ہے۔ خضر نے کہا: کیا میں نے (تجھے) نہیں کہا تھا (کہ) تُو میرے ساتھرہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکے گا۔ موسیٰؑ نے کہا:یہ کام تو پہلے سے بھی زیادہ سخت (ناگوار) ہے۔ موسیٰؑ نے کہا: اگر اس کے بعد میں نے کسی بات کے متعلق آپ سے پوچھا تو (بیشک) آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئیے گا۔ (اور اس صورت میں) آپ یقیناً میری اپنی رائے کے مطابق معذور سمجھے جانے کی حد تک پہنچ چکے ہوں گے۔ پھر وہ (وہاں سے بھی) چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی کے لوگوں کے پاس پہنچے تو اس بستی کے باشندوں سے انہوں نے کھانا مانگا، مگر اُنہوں نے انہیں (اپنے) مہمان بنانے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے اس (بستی) میں ایک ایسی دیوار پائی جو گرنے کو تھی۔ کہتے تھے: جھکی ہوئی تھی۔ خضر اُٹھے اور آپ نے ہاتھ سے اس کو سیدھا کردیا۔ موسیٰؑ نے کہا: یہ ایسے لوگ ہیں کہ ہم ان کے پاس آئے۔ انہوں نے ہمیں کھانے کو نہ دیا اور نہ ہمیں مہمان ٹھہرایا۔ اگر آپ چاہتے تو یقیناً اس کی کچھ (نہ کچھ) اُجرت لے سکتے تھے۔ خضر نے کہا: یہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان جدائی ( کا وقت) ہے۔…… (پھر انہوں نے) اس آیت تک (پڑھا جس میں ذکر ہے) کہ یہ اُس بات کی حقیقت ہے جس پر تو صبر نہیں کر سکا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ واقعہ بیان کرکے فرمایا: ہمیں یہ خواہش ہی رہ گئی کہ موسیٰؑ صبر کرتے تا اللہ ان دونوں کے حالات ہم سے بیان کرتا۔ سعید بن جبیر نے کہا: حضرت ابن عباسؓ اس آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے: وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ اور پڑھتے تھےکہ یہ جو لڑکا تھا وہ کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں خبردی۔ ابن جریج نے ان کو بتایا۔ انہوں نے کہا: یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے مجھے بتایا۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا تھا۔ نیز ان دونوں کے علاوہ کسی اور کو بھی میں نے سعید بن جبیر سے ہی روایت کرتے سنا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابن عباسؓ کے پاس ان کے گھر میں تھے جب انہوں نے کہا: مجھ سے پوچھیں (جو پوچھنا ہو۔) میں نے کہا: ابوعباسؓ! اللہ مجھے آپ کے قربان کرے۔ کوفہ میں ایک شخص قصہ گو ہے جسے نوف کہتے ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے موسیٰؑ نہیں تھے (جو خضر سے علم حاصل کرنے کے لئے گئے۔ ابن جریج کہتے تھے:) عمرو (بن دینار)نے مجھ سے یوں کہا (حضرت ابن عباسؓ) کہنے لگے: اللہ کے دشمن نے غلط کہا ہے۔ یعلیٰ نے(یہ فقرہ نہیں کہا، کچھ یوں) بیان کیا کہ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: حضرت اُبيّ بن کعبؓ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ رسول اللہ علیہ السلام نے ایک دن لوگوں کو وعظ ونصیحت کی۔ یہاں تک کہ جب آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور دل پگھل گئے، موسیٰؑ پیٹھ موڑ کر چلنے لگے۔ اتنے میں ایک شخص ان سے ملا اور کہنے لگا: یارسول اللہ ! کیا زمین میں کوئی ہے جو آپؑ سے بڑھ کر عالم ہو۔ موسیٰؑ نے کہا: نہیں۔ اس وجہ سے (اللہ نے) اُن پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ کیونکہ انہوں نے جواب میں نہیں کہا کہ اللہ ہی سب سے بڑھ کر علم رکھتا ہے۔ اُن سے کہا گیا: نہیں (بلکہ تم سے بڑھ کر بھی عالم ہے۔) موسیٰؑ نے کہا: اے میرے ربّ وہ کہاں ہے؟ فرمایا: مجمع البحرین میں۔ (جہاں دو سمندر اکٹھے ہوتے ہیں) موسیٰؑ نے کہا: یا ربّ! میرے لیے کوئی نشان مقرر فرما جس کے ذریعہ مجھے اس جگہ کا علم ہوجائے۔ (ابن جریج کہتے تھے:) عمرو (بن دینار) نے مجھ سے یوں کہا: ربّ نے فرمایا: (وہ وہاں ہوگا) جہاں مچھلی تم سے جدا ہوجائے گی۔ (ابن جریج کہتے تھے کہ) یعلیٰ (بن مسلم) نے مجھ سے یہ (الفاظ) کہے: ربّ نے فرمایا: ایک مردہ مچھلی لو۔ جہاں اس میں روح پھونکی جائے گی (وہاں وہ ہوگا۔) چنانچہ موسیٰؑ نے ایک مچھلی لی اور وہ ٹوکری میں رکھ لی اور اپنے نوجوان سے کہا: میں تمہیں اور تکلیف نہیں دیتا سوااِس بات کے کہ تم مجھے بتا دینا جہاں وہ مچھلی تم سے جدا ہو۔ نوجوان نے کہا: آپؑ نے کسی بڑی بات کی تکلیف نہیں دی ہے۔ یعنی یہ معمولی سی بات ہے اور یہی بات ہے جو اللہ جلّ ذکرہٗ نے (قرآن شریف میں) فرمائی ہے کہ اور جب موسیٰؑ نے اپنے نوجوان سے کہا یعنی یوشع بن نون سے۔ یہ الفاظ سعید (بن جبیر) سے نہیں ہیں۔ (بلکہ ابن جریج سے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ) کہتے تھے: اس اثنا میں کہ موسیٰؑ ایک چٹان کے سائے تلے ایک ٹھنڈی جگہ لیٹ گئے، مچھلی تڑپنے لگی، موسیٰؑ سوئے ہوئے تھے۔ نوجوان نے (دل میں) کہا: میں انہیں نہیں جگاتا۔ آخر جب موسیٰؑ خود ہی جاگے تو غلام ان کو یہ بتانا بھول گیا اور مچھلی تڑپ کر سمندر میں چلی گئی۔ اللہ نے اس پر سمندر کا بہاؤ روک دیا۔ یہاں تک کہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس مچھلی کا نشان پتھر پر موجود ہو۔ (ابن جریج کہتے تھے:) عمرو (بن دینار) نے مجھ سے یوں کہا: پتھر پر نشان اس طرح تھا۔ اور (یہ بات بتاتے ہوئے) اپنے دونوں انگوٹھوں اور دونوں انگلیوں سے جو انگوٹھوں کے ساتھ ہیں ملا کر حلقہ بنایا۔ (پھر روایت شروع کر دی کہ موسیٰؑ نے کہا:) ہمیں یقیناً اپنے اس سفر کی وجہ سے تھکان ہو گئی ہے۔ (نوجوان نے) کہا: اللہ نے آپؑ کی تھکان دور کر دی ہے۔ یہ الفاظ سعید سے مروی نہیں ہیں۔ (آخر) غلام نے موسیٰؑ سے واقعہ بیان کیا اور وہ دونوں وہیں سے واپس ہوئے اور خضر کو پالیا۔ (ابن جریج کہتے تھے کہ) عثمان بن ابی سلیمان نے مجھ سے کہا: سمندر کے عین وسط میں سبز چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ سعید بن جبیر نے یہ الفاظ کہے: اپنا کپڑا اُوڑھے ہوئے تھے۔ اس کپڑے کا ایک سرا اپنے پاؤں کے نیچے لیا ہوا تھا اور دوسرا سرا اپنے سر کے نیچے ۔ موسیٰؑ نے ان کو سلام کہا۔ (یعنی سلامتی کی دعا دی) انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: کیا ملک میں سلامتی ہے؟ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں موسیٰؑ ہوں۔ خضر نے کہا: بنی اسرائیل کا موسیٰ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ خضر نے کہا: آپ کی غرض کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں اس لئے آیا ہوں کہ جو راستی کی باتیں آپ کو سکھائی گئی ہیں ان میں سے کچھ مجھے بھی سکھائیں۔ خضر نے کہا: موسیٰؑ! تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تورات تمہارے ہاتھوں میں ہے اور وحی تم پر نازل ہوتی ہے۔ مجھے ایک علم (دیا گیا) ہے جو تمہارے لائق نہیں کہ تم اس کو جانو اور تمہیں ایک علم (دیا گیا) ہے جو مجھے لائق نہیں کہ میں اسے سیکھوں۔ اتنے میں ایک پرندے نے سمندر سے اپنی چونچ میں پانی لیا۔ خضر کہنے لگے: اللہ کی قسم! میرا اَور تمہارا علم بمقابل علم الٰہی اتنا ہی ہے جتنا کہ اس پرندے نے سمندر سے اپنی چونچ میں لیا ہے۔ جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں نے وہاں اور چھوٹی چھوٹی کشتیاں دیکھیں جو ایک کنارے کے لو گوں کو دوسرے کنارے کے لوگوں کے پاس لے جاتی تھیں۔ کشتی والوں نے خضر کو پہچان لیا۔ آپس میں کہنے لگے: یہ اللہ کے نیک بندے ہیں۔ (یعلیٰ بن مسلم نے) کہا: ہم نے سعید سے پوچھا، ان کی اس سے مراد خضر تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (کشتی والوں نے کہا:) ہم کرایہ لے کر ان کو سوار نہیں کریں گے۔ (پھر) خضر نے اس کشتی کو پھاڑ دیا (اور شگاف میں) ایک میخ گاڑ دی۔ موسیٰ نے کہا: کیا آپ نے اس لیے شگاف کیا ہے کہ آپ اس کے اندر (بیٹھ کر جانے) والوں کو غرق کر دیں۔ آپ نے یقیناً (یہ) ایک ناپسندیدہ کام کیا ہے۔ مجاہدؒ نے کہا: مُنْكَرًا (یعنی اوپرا یا بُرا)۔ (خضر نے) کہا: کیا میں نے (تجھے) نہیں کہا تھا کہ تُو میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکے گا۔ یہ پہلی بات بھول کر ہوگئی ہے اور درمیانی بات شرطیہ تھی اور تیسری قصداً۔ موسیٰ نے کہا: (کہ اِس دفعہ) آپ مجھ پر گرفت نہ کریں کیونکہ میں (آپ کی ہدایت کو) بھول گیا تھا۔ اور آپ میری (اِس) بات کی وجہ سے مجھ پر سختی نہ کریں۔ (پھر) وہ دونوں ایک لڑکے سے ملے۔ خضر نے اس کو مارڈالا۔ یعلیٰ نے کہا: سعید کہتے تھے: خضر نے کچھ لڑکوں کو کھیلتے دیکھا تو ایک خوبصورت لڑکے کو پکڑا جو کافر تھا۔ اسے لٹایا اور چھری سے اُسے ذبح کردیا۔ موسیٰؑ نے کہا: کیا آپ نے بغیر کسی نفس کے عوض ایک پاکیزہ نفس کو مار ڈالا ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا؟ اور حضرت ابن عباسؓ نے اس آیت میں لفظ زَکِیَّۃً کو زَاکِیَۃً پڑھا ہے بمعنی مُسْلِمَۃً۔ جیسے تم کہتے ہو غُلامًا زَکِیًّا، یعنی پاک لڑکا۔ وہ دونوں چل پڑے اور انہوں نے ایک دیوار پائی جو گرنا چاہتی تھی۔ اُس نے اسے درست کردیا۔ سعید نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے دکھایا کہ اس طرح سیدھا کردیا۔ (یعنی خضر نے) اپنا ہاتھ اُٹھایا اور (ہاتھ کے اشارے سے) وہ دیوار سیدھی ہوگئی۔ یعلیٰ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ سعید نے (یوں) کہا کہ خضر نے اس دیوار پر ہاتھ پھیرا تو وہ سیدھی ہوگئی۔ (موسیٰؑ نے کہا:) اگر آپ چاہتے تو یقیناً اس کی کچھ (نہ کچھ) اُجرت لے سکتے تھے۔ سعید نے کہا: مزدوری، جس سے ہم کھانا کھاتے۔ وَكَانَ وَرَاءَهُمْ سے مراد یہ ہے کہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا۔ حضرت ابن عباسؓ نے (وَرَاءَهُمْکی جگہ) أَمَامَهُمْ مَلِكٌ پڑھا ہے۔ (ابن جریج کہتے تھے کہ) راویوں کا خیال ہے کہ سعید کے سوا کسی اور نے یوں نقل کیا ہے: وہ بادشاہ ہُدَد بن بُدَد تھا اور جو لڑکا قتل کیا گیا تھا لوگ کہتے تھے کہ اس کا نام جیسور تھا۔ (پھر کہا:) ایک (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبر دستی چھین لیتا تھا۔ اور میں نے چاہا کہ جب یہ کشتی اس کے پانی سے گزرے گی تو وہ اس کے ناقص ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑ دے گا۔ جب یہ لوگ آگے گزر جائیں گے تو وہ اسے درست کرلیں گے اور اس سے فائدہ اُٹھاتے رہیں گے۔ ان راویوں میں سے بعض کہتے (عمدۃ القاری جزء صفحہ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ ہیں کہ انہوں نے(اس کشتی کا سوراخ) گچ سے بند کیا اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ تارکول سے (بند کیا۔) اس لڑکے کے ماں باپ مومن تھے اور وہ خود کافر تھا۔ اس پر ہم ڈرے کہ ایسا نہ ہو (بڑے ہو کر) وہ ان پر سر کشی اور کفر کا الزام لگوا دے۔ یعنی اس کی محبت انہیں اس کے دین کی پیروی کرنے پر آمادہ نہ کر دے، پس ہم نے چاہا کہ ان کا ربّ ان کو اس (لڑکے) سے پاکیزگی اور رحم وانصاف کے لحاظ سے بہتر (لڑکا بدل کر) دے دے۔ موسیٰؑ نے یہی اعتراض کیا تھا کہ آپ نے ایک پاک لڑکا قتل کردیا ہے۔ اور اَقْرَبَ رُحْمًاجو قرآن میں ہے، اس کے معنی ہیں کہ ماں باپ اس دوسرے لڑکے پر پہلے لڑکے سے بھی زیادہ مہربان ہوں گے جسے خضر نے قتل کردیا۔ سعید کے سوا کسی اَور راوی نے یہ سمجھا ہےکہ انہیں اس لڑکے کے بدلے میں ایک لڑکی دی گئی۔ (اور ابن جریج نے کہا:) داؤد بن ابی عاصم راوی جو ہیں انہوں نے کئی شخصوں سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ لڑکی تھی۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے مجھ سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) سفیان بن عیینہ نے مجھے بتایا کہ عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا: نوف بکالی کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل کے موسیٰؑ خضر والے موسیٰؑ نہیں تھے۔ (حضرت ابن عباس نے یہ سن کر) کہا: ا للہ کے دشمن نے غلط کہا ہے۔ حضرت اُبَیّ بن کعبؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ آپؐ نے فرمایا: موسیٰؑ بنی اسرائیل سے خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور ان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون سب سے بڑھ کر عالم ہے۔ انہوں نے کہا: میں۔ اللہ نے ان پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ انہوں نے علم کو اللہ کی طرف کیوں نہیں لوٹایا۔ اور انہیں وحی کی (کہ تم نہیں) بلکہ ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ (موسیٰؑ نے) کہا: اے میرے ربّ! اس کے پاس کیسے پہنچا جائے؟ فرمایا: ٹوکری میں ایک مچھلی لے لو (اور چلے جاؤ) جہاں تم اس مچھلی کو کھو دو تو اُس کے پیچھے چلے جانا (وہ بندہ مل جائے گا) (حضرت ابن عباسؓ) کہتے تھے: موسیٰؑ روانہ ہوگئے اور ان کے ساتھ اُن کا نوجوان یوشع بن نون بھی تھا اور ان کے ساتھ وہ مچھلی تھی۔ جب چٹان کے پاس پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ کہتے تھے کہ موسیٰؑ اپنا سر ٹیک کر سوگئے۔ سفیان (بن عیینہ) نے کہا: عمرو (بن دینار) کے سوا دوسرے راوی کی روایت میں (یوں) ہے کہ انہوں نے کہا: اس چٹان کے دامن میں ایک چشمہ تھا جسے آب حیات کہتے ہیں۔ جو چیز اس پانی میں پڑتی وہ زندہ ہوجاتی۔ اس چشمے کے پانی سے کچھ پانی اس مچھلی پربھی پڑا۔ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے تھے کہ وہ حرکت کرنے لگی ا ور اس ٹوکری سے کھسک کر سمندر میں چلی گئی۔ جب موسیٰؑ جاگے تو انہوں نے اپنے نوجوان سے کہا: ہمارا ناشتہ ہمارے پاس لاؤ۔ جیسا کہ آیت میں ہے۔ کہتے تھے: او ر موسیٰؑ نے اس وقت ہی تھکان محسوس کی جب وہ اس جگہ سے آگے نکل گئے جہاں جانے کا انہیں حکم ہوا تھا۔ موسیٰؑ سے ان کے نوجوان یوشع بن نون نے کہا: بتایئے (اب کیا ہو گا) جب ہم (آرام کے لیے) اس چٹان پر ٹھہرے تو میں مچھلی (کا خیال) بھول گیا۔ انہوں نے کہا: اس پر وہ دونوں اپنے قدموں کا کھوج لیتے ہوئے وہاں سے لَوٹے اور انہوں نے سمندر میں مچھلی کی گزرگاہ کو محراب کی شکل میں پایا۔ جس سے موسیٰؑ کے ساتھی کو تعجب ہوا۔ اور (یہ شکل) مچھلی کا راستہ بن گئی۔ کہتے تھے: جب وہ دونوں اس چٹان کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کپڑا اُوڑھے ہوئے ہے۔ موسیٰؑ نے اسے سلام کیا تو اُس نے کہا: تمہارے ملک میں سلامتی کہاں؟ انہوں نے (جواب میں) کہا: میں موسیٰؑ ہوں۔ اس شخص نے پوچھا: کیا بنی اسرائیل کا موسیٰؑ ؟ انہوں نے کہا: ہاں (موسیٰؑ نے) کہا کیا میں اس (مقصد کے) لیے آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں کہ جو علم آپ کو عطا ہوا ہے اُس میں سے کچھ رُشد (کی باتیں) مجھے بھی سکھائیں؟ خضر نے ان سے کہا: موسیٰؑ! علم الٰہی میں سے تمہیں ایک ایسا علم حاصل ہے جو اللہ ہی نے تمہیں سکھایا ہے میں اسے نہیں جانتا اور مجھے بھی علم الٰہی سے ایک ایسا علم حاصل ہے جو اللہ ہی نے مجھے سکھایا ہے تو اس کو نہیں جانتا (موسیٰؑ نے) کہا: نہیں، بلکہ میں آپ کے ساتھ ساتھ رہوں گا۔ خضر نے کہا: اچھا اگر تمہیں میرے ساتھ ہی رہنا ہے تو مجھ سے کسی بات کی بابت نہ پوچھنا یہاں تک کہ میں خود ہی اس کی نسبت تم سے بیان کروں۔ اس پر وہ دونوں سمندر کے کنارے کنارے چل پڑے۔ اتنے میں ایک کشتی ان کے پاس سے گزری۔ خضر پہچانے گئے اور کشتی والوں نے ان کو اپنی کشتی میں بغیر کرایہ لینے کے سوار کرلیا۔ کہتے ہیں: بغیر اَجر کے۔ وہ دونوں کشتی میں سوار ہوگئے۔ کہتے تھے: کشتی کے کنارے ایک چڑیا آبیٹھی اور اس نے اپنی چونچ سمندر میں ڈبوئی ۔ خضر نے موسیٰؑ سے کہا: تمہارا علم اور میرا علم اور تمام مخلوقات کا علم اللہ کے علم کے مقابل میں اتنا ہی ہے جتنا کہ اس چڑیا نے اپنی چونچ ڈبو کر (سمندر سے) لیا ہے۔ کہتے تھے: ابھی تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ موسیٰؑ یکایک گھبرا گئے، جب (دیکھا کہ) خضر نے لپک کر ایک تیشہ لیا اور کشتی میں شگاف کردیا ہے۔ موسیٰؑ نے ان سے کہا: ان لوگوں نے بغیر کرایہ لئے ہمیں سوار کیا تھا، آپ ان کی کشتی کی طرف لپکے ہیں اور اس میں شگاف کردیاہے کہ اس کے اندر (بیٹھ کر جانے) والوں کو غرق کردیں۔ آپ نے یقیناً (یہ) ایک ناپسندیدہ کام کیا ہے۔…… پھر وہ دونوں چل پڑے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک لڑکا ہے جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ خضر نے اس کا سر پکڑا اَور اسے کاٹ ڈالا۔ موسیٰؑ نے ان سے کہا: کیا (یہ سچ نہیں کہ) آپ نے (اس وقت) ایک پاکباز (اور بے گناہ) شخص کو بغیر کسی (کے خون) کے بدلہ کے (ناحق ہی) مار ڈالا ہے۔ آپ نے یقیناً (یہ) بہت بُرا کام کیا ہے۔ (خضر نے) کہا: کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا (کہ) تو میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکے گا۔ اس قول تک کہ اُنہوں نے اُنہیں (اپنے) مہمان بنانے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے اس (بستی) میں ایک ایسی دیوار پائی جو گرنے کو تھی۔ تو خضر نے اپنے ہاتھ سے اس طرح (اشارہ) کیا اور اسے سیدھا کردیا۔ موسیٰؑ ان سے کہنے لگے: ہم اس بستی میں آئے تھے تو ان لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا اور نہ ہمیں کھانے کو کچھ دیا۔ اگر آپ چاہتے تو یقیناً اس کی کچھ (نہ کچھ) اُجرت لے سکتے تھے۔ (خضر نے) کہا: یہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان جدائی (کا وقت) ہے۔ جس بات پر تُوصبر نہیں کر سکا، میں ابھی تجھے اس کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمیں خواہش ہی رہی کہ کاش موسیٰؑ صبر کرتے تا ان دونوں کا حال ہمیں بتادیا جاتا۔ سعید نے کہا: حضرت ابن عباسؓ یوں پڑھتے تھے کہ اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ اور (یہ جو) لڑکے (کا واقعہ ہے تو اِس) کی حقیقت یہ ہے کہ وہ کافر تھا۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ محمد بن جعفر نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن مرہ) سے، عمرو نے مصعب (بن سعد بن ابی وقاص) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ (حضرت سعد بن ابی وقاصؓ) سے پوچھا: آیت قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًا سے مراد حروری لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، یہ یہودو نصاریٰ ہیں۔ یہود اس لئے کہ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصاریٰ اس لئے کہ انہوں نے جنت سے انکار کیا اور یہ کہا کہ وہاں نہ کسی قسم کا کھانا ہوگا نہ پینا۔ اور حروری تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کا عہد پختہ کرنے کے بعد توڑدیا۔ اور حضرت سعدؓ ان کا نام فَاسِقِیْنَ رکھتے تھے یعنی بدعہد۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا (کہا:) سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ مغیرہ (بن عبدالرحمٰن) نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے کہا کہ ابوزناد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: قیامت کے روز ایک بڑا شخص جو موٹا تازہ ہوگا آئے گا۔ وہ اللہ کے نزدیک پرِ پشہ کے برابر بھی وزن نہ رکھے گا اور آپؐ نے فرمایا: (یہ آیت) پڑھو: قیامت کے دن ہم انہیں کچھ بھی وقعت نہیں دیں گے۔ اور یحيٰ بن بُکَیر سے بھی مروی ہے۔انہوں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے، مغیرہ نے ابوزناد سے اسی طرح روایت کی ہے۔
(تشریح)عمر بن حفص بن غیاث نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ (کہا:) اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ ابوصالح نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے روز) موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو! وہ گردنیں اٹھائیں گے اور دیکھیں گے۔ پکارنے والا کہے گا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں یہ موت ہے اور ان میں سے ہر شخص اس کو دیکھ چکا ہو گا۔ پھر وہ پکارے گا: اے آگ والو! تو وہ بھی گردنیں اٹھائیں گے اور دیکھیں گے۔ وہ (اُن سے) کہے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں یہ موت ہے اور اُن میں سےہر شخص اُسے دیکھ چکا ہوگا۔ پھر وہ مینڈھا ذبح کردیا جائے گا۔ پھر (پکارنے والا) کہے گا: اے جنتیو! اب ہمیشہ کے لئے رہنا ہوگا کوئی موت نہ ہوگی اور اے آگ والو ! ہمیشہ کے لئے رہنا ہوگا کوئی موت نہ ہوگی۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ… یعنی اور اُن کو حسرت کے دن سے خوف دلا۔ جب ہر بات کا فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ غفلت میں ہوں گے۔ اور یہ جو غفلت میں ہوں گے وہ دنیا کے لوگ ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
(تشریح)ابونعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا کہ عمر بن ذر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ سعید بن جبیر سے، سعید حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل سے پوچھا۔ آپ جو ہم سے ملاقات کرنے آتے ہیں اس سے زیادہ بار ملاقات کیوں نہیں کرتے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا…اور ہم نہیں اُترتے مگر تیرے ربّ کے حکم سے۔ اس کا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے ۔
(تشریح)(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ (مسلم بن صبیح) سے، ابوالضحیٰ نے مسروق (بن اجدع) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت خبابؓ (بن ارت) سے سنا۔ حضرت خبابؓ نے کہا: میں عاص بن وائل سہمی کے پاس آیا کہ اس سے اپنے ایک حق کا تقاضا کروں۔ اس نے کہا: جب تک محمد ﷺ کا انکار نہیں کرو گے میں تجھے نہیں دوں گا۔ میں نے کہا: اگر تو مر کر اٹھایا جائے تب بھی میں انکار نہیں کروں گا۔ وہ کہنے لگا: اچھا میں موت کے بعد اٹھایا جاؤں گا۔ میں نے کہا: ہاں۔ وہ بولا: تو پھر میرے لئے وہاں بھی مال و اولاد ہوگی وہیں جاکر تیرا قرضہ چکاؤں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ…کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے بہت سی دولت اور بہت سی اولاد ضرور دی جائے گی۔ یہ بات (سفیان) ثوری، شعبہ، حفص، ابومعاویہ اور وکیع نے بھی اعمش سے روایت کی۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت خبابؓ (بن ارت) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں مکہ میں لوہاری کا پیشہ کرتا تھا اور میں نے عاص بن وائل سہمی کے لئے ایک تلوار بنائی۔ پھر اس کے پاس قیمت کا تقاضا کرنے آیا۔ وہ کہنے لگا: جب تک تم محمد(ﷺ) کا انکار نہیں کرو گے میں تمہیں نہیں دوں گا میں نے کہا: اللہ تمہیں مار کر پھر زندہ بھی کر دے تو بھی میں محمد ﷺ کا انکار نہیں کرنے کا۔ اس نے کہا: جب اللہ مجھے مارکر پھر اٹھائے گا اور مجھے مال و اولاد ملے گی (تو اس وقت تم کو دے دوں گا) اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی: اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ… یعنی کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے بہت سی دولت اور اولاد ضرور دی جائے گی۔ کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمٰن سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔ ( سفیان ثوری نے) کہا: (عہد کے معنی ہیں) پختہ اقرار (عبیداللہ) اشجعی نے سفیان (ثوری) سے روایت کرتے ہوئے تلوار کا ذکر نہیں کیا اور نہ یہ کہ (عہد کے معنی ہیں) پختہ اقرار۔
(تشریح)