بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان (اعمش)سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے ابو الضحیٰ سے سنا۔ وہ مسروق سے بیان کرتےہیں۔ مسروق حضرت خبابؓ (بن ارت) سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: میں زمانۂ جاہلیت میں لوہاری کا کام کرتا تھا۔ اور عاص بن وائل کے ذمہ میرا کچھ قرض تھا۔ کہتے تھے کہ وہ اس کے پاس تقاضا کرنے کے لیے آئے۔ وہ کہنے لگا: جب تک محمد (ﷺ) کا انکار نہ کرو گے میں تجھے ہرگز نہیں دوں گا۔ حضرت خبابؓ نے کہا: اللہ تجھے مار کر زندہ بھی کردے، اللہ کی قسم! تب بھی میں آپؐ کا انکار نہیں کرنے کا۔ اس نے کہا: اچھا پھر مجھے رہنے دو کہ میں مر جاؤں اور پھر زندہ اٹھایا جاؤں پھر جب مجھے مال و اولاد دی جائے گی تو میں تجھے تیرا قرض ادا کر دوں گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی:اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ…کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے بہت سی دولت اور بہت سی اولاد ضرور دی جائے گی۔
(تشریح)یحيٰ (بن موسیٰ بلخی) نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت خبابؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں لوہار آدمی تھا اور عاص بن وائل کے ذمے میرا کچھ قرضہ تھا اس لئے میں اس کے پاس اپنے قرض کا تقاضا کرنے آیا۔ اس نے مجھ سے کہا: تاوقتیکہ تو محمد (ﷺ) کا انکار نہ کرے میں تجھے نہیں دوں گا۔ اُنہوں نے بتایا کہ میں نے کہا: اگر تو مر بھی جائے اور پھر زندہ اُٹھایا جائے تب بھی میں آپؐ کا انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: اچھا میں موت کے بعد اگر زندہ اُٹھایا جاؤں گا تو پھر میں ضرور تجھے ادا کر دوں گا، جب میں اپنے مال و اولاد کی طرف (دوبارہ) لوٹوں گا۔ حضرت خبابؓ کہتے تھے کہ تب یہ آیت نازل ہوئی : اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ… یعنی کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے بہت سی دولت اور اولاد ضرور دی جائے گی۔کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمٰن سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے اس قول کو محفوظ رکھیں گے اور اس کے عذاب کو لمبا کردیں گے۔ اور جس (چیز) پر وہ فخر کر رہا ہے اس کے ہم وارث ہو جائیں گے۔ اور وہ ہمارے پاس اکیلا ہی آئے گا۔
(تشریح)صلت بن محمد نے ہمیں بتایا۔ مہدی بن میمون نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: آدمؑ و موسیٰؑ آپس میں ملے۔ تو موسیٰؑ ،آدمؑ سے کہنے لگے: آپ ہی وہ (آدم) ہیں جنہوں نے لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا اور اُنہیں جنت سے نکالا۔ آدمؑ نے موسیٰؑ سے کہا: آپؑ ہی وہ (موسیٰؑ) ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لئے چنا اور اپنی ذات کے لئے مخصوص فرمایا اور آپؑ پر تورات نازل کی؟ موسیٰؑ نے کہا: ہاں۔ آدمؑ نے کہا: تو پھر آپ نے (تورات میں) یہ موجود پایا ہے کہ یہ بات ( جو آپ نے مجھ سے کہی ہے) میرے لئے (ازل سے) مقدر ہوچکی تھی پیشتر اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے پیدا کرتا۔ موسیٰؑ نے کہا: ہاں۔ چنانچہ آدمؑ نے موسیٰؑ کو اس دلیل سے لاجواب کر دیا۔ الْیَمّ کے معنی ہیں سمندر۔
یعقوب بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ روح (بن عبادہ) نے ہمیں بتایا، شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبشر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور یہود عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے، آپؐ نے اُن سے پوچھا تو وہ کہنے لگے: یہ وہ دن ہے جس میں حضرت موسیٰؑ فرعون پر غالب آئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ان سے زیادہ موسیٰؑ سے تعلق رکھنے والے ہیں اس لئے تم بھی اس دن روزہ رکھو۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب بن نجار نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے،حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: موسیٰؑ نے آدمؑ سے بحث کی اور ان سے کہا: آپ وہی ہیں جنہوں نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو جنت سے نکال دیا تھا اور اُن کو مشقت میں ڈال دیا۔ آپؐ نے فرمایا: آدمؑ نے کہا: موسیٰؑ آپ وہی ہیں جن کو اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لئے چنا، کیا آپؑ مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں کہ جس کو اللہ نے پیشتر اس کے کہ وہ مجھے پیدا کرے میرے متعلق لکھ دیا تھا یا (فرمایا:) پیشتر اس کے کہ وہ مجھ کو پیدا کرے میرے لئے مقدر کردیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمؑ نے (اس دلیل سے) موسیٰ ؑ کو لاجواب کردیا۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابواسحاق سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا۔ وہ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ)سے روایت کرتے تھے اُنہوں نے کہا: سورۃ بنی اسرائیل،کہف، مریم ، طٰہٰ اور انبیاء یہ پہلی عمدہ سورتوں میں سے ہیں اور یہ میری پرانی یاد کی ہوئی ہیں۔ اور قتادہ نے کہا: جُذٰذًاکے معنی ہیں اس نے اُنہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور حسن نے کہا: فِيْ فَلَكٍ کے معنی ہیں ہر ستارہ اپنے اپنے دائرہ میں اسی طرح گھوم رہا ہے جس طرح چرخے کی پِھرکی۔ يَسْبَحُوْنَ کے معنی چکر لگاتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: نَفَشَتْ کے معنی ہیں رات کو چرگئے۔ يُصْحَبُوْنَ کے معنی ہیں: بچالئے جائیں گے۔ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۔ (حضرت ابن عباسؓ نے) کہا: تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور عکرمہ نے کہا: حَصَبُ جَهَنَّم:حبشی زبان میں جلانے کی لکڑی کو کہتے ہیں ان کے ماسوا اَوروں نے کہا: اَحَسُّوْا یعنی اُنہیں اس کی توقع تھی۔ یہ أَحْسَسْتُ سے ہے (یعنی میں نے آہٹ پائی) خٰمِدِيْنَکے معنی ہیں بجھے ہوئے۔ حَصِيدٌ کے معنی ہیں جڑ سے اُکھڑا ہوا۔ یہ لفظ مفردتثنیہ اور جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ۠ سے مراد ہے وہ تھکتے نہیں اور اسی سے لفظ حَسِيْرٌ ہے (تھکا ماندہ) اور ( کہتے ہیں:) حَسَرْتُ بَعِيرِي (میں نے اپنے اونٹ کو تھکا دیا۔) عَمِيْق بمعنی دور دراز۔ نُكِسُوْا کے معنی ہیں اُلٹا دئیے گئے۔ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ کے معنی ہیں زرہیں بنانے کا فن۔ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ یعنی اپنا الگ الگ راستہ اختیار کرلیا۔ الْحَسِيس، الْحِسُّ، الْجَرْسُ اور الْهَمْسُ یہ سب الفاظ ایک ہی معنوں میں ہیں یعنی بہت دھیمی آواز، آہٹ۔ اٰذَنّٰكَ کے معنی ہیں ہم نے تجھے آگاہ کردیا۔ جب تم کسی کو آگاہ کردو تو عربی میں کہتے ہیں اٰذَنْتُكُمْ یعنی میں نے تمہیں آگاہ کردیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ آگاہی میں تم اور وہ برابر ہو۔تم نے دھوکہ نہیں دیا۔ اور مجاہدؒ نے کہا: لَعَلَّكُمْ تُسْـَٔلُوْنَ سے مراد ہے کہ شاید تمہیں سمجھ آجائے۔ (تُسْـَٔلُوْنَ تُفْهَمُونَکے معنوں میں ہے۔) ارْتَضٰى کے معنی ہیں پسند کیا۔ التَّمَاثِيْلُ کے معنی ہیں بت۔ السِّجِلِّ کے معنی ہیں کاغذ۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے مغیرہ بن نعمان سے جونخع قبیلے کے بوڑھے آدمی تھے، مغیرہ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اللہ کے سامنے تمہیں اکٹھا کرکے لے جایا جائے گا ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ ہوگے۔ اسی طرح جس طرح کہ ہم نے پہلی پیدائش شروع کی تھی ہم تمہیں دوبارہ پیدا کریں گے۔ یہ وعدہ ہم نے اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ ہم ضرور ایسا ہی کرنے والے ہیں۔ پھر جو شخص قیامت کے روز پہلے پہل پہنایا جائے گا ابراہیمؑ ہوں گے۔ دیکھو سنو میری اُمت میں سے بعض لوگ حاضر کئے جائیں گے۔ پھر اُنہیں پکڑ کر بائیں طرف لے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا: اے میرے ربّ ! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ کہا جائے گا: تم نہیں جانتے اِنہوں نے تمہارے بعد کیا نئی نئی باتیں کیں تو میں اسی طرح کہوں گا جس طرح اس نیک بندے نے کہا تھا: وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا…یعنی اور جب تک میں اُن میں (موجود) رہا میں اُن کا نگران رہا مگر جب تو نے میری روح قبض کر لی تو تُو ہی اُن پر نگران تھا (میں نہ تھا) اور تو ہر چیز پر نگران ہے۔ تب کہا جائے گا کہ یہ لوگ جب سے تم اِن سے جدا ہوئے ہو اپنی ایڑیوں کے بل ہی پھرے رہے۔
(تشریح)عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اعمش نے ہم سے بیان کہ ابوصالح نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: نبی کریمﷺنے فرمایا: اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا: اے آدم ! وہ کہیں گے تیرے حضور حاضرہوں اے ہمارے ربّ ! اور تیری خدمت میں ہوں۔ بلند آواز سے پکار کر آدم سے کہا جائے گا کہ اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ تو اپنی ذریت سے آگ میں جھونکنے کے لئے ایک گروہ نکال۔ آدم کہیں گے: میرے ربّ ! آگ میں جھونکنے کے لئے گروہ کتنا ہو۔ فرمایا: ہر ہزار آدمیوں میں سے مَیں سمجھتا ہوں (حضرت ابو سعیدؓ نے) کہا: نو سو ننانوے۔تو اس وقت حالت یہ ہوگی کہ حاملہ اپنا حمل گرادے گی اور بچہ بوڑھا ہو جائے گا اور تو لوگوں کو مدہوش دیکھے گا وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب نہایت سخت ہو گا۔ یہ بات سن کر لوگوں پر شاق گزرا یہاں تک کہ ان کے چہرے متغیر ہوگئے۔نبیﷺنے فرمایا کہ یاجوج ماجوج میں سے نو سو ننانوے ہوں گے اور تم میں سے ایک۔ اور لوگوں میں تمہاری نسبت اتنی ہوگی جتنی کہ سفید بیل میں سیاہ بال ہوتا ہے یا فرمایا: سیاہ بیل میں سفید بال اور میں امید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں تم چوتھائی حصہ ہوگے۔ ہم نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: جنتیوں کا ایک تہائی حصہ۔ پھر ہم نے اللہ اکبر کہا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: جنتیوں کا نصف حصہ۔ پھر ہم نے اللہ اکبر کہا۔ ابواسامہ نے اعمش سے روایت کرتے ہوئے صرف اتنی ہی آیت پڑھی: تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى یعنی اور تو لوگوں کو مدہوش دیکھے گا بحالیکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے۔اور کہا ہر ہزار میں نو سو ننانوے۔ اور جریر اور عیسیٰ بن یونس اور ابومعاویہ نے اس کو یوں نقل کیا ہے: سَكْرٰى وَ مَا هُمْ بِسَكْرٰى۔
(تشریح)ابراہیم بن حارث نے مجھے بتایا کہ یحيٰ بن ابی بُکَیر نے ہم سے بیان کیا،(کہا) اسرائیل نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے ابوحصین سے، ابوحصین نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ سے یہ مراد ہے کہ کوئی شخص مدینہ میں آتا اور اگر اس کی بیوی لڑکا جنتی اور اس کی گھوڑی بچہ دیتی تب وہ کہتا یہ دین بہت اچھا ہے، اور اگر اس کی بیوی بچہ نہ جنتی اور نہ گھوڑی بچھیرا جنتی تو کہتا یہ بُرا دین ہے۔
(تشریح)حجاج بن منہال نے ہمیں بتایا کہ ہشیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا) ابوہاشم نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے ابومجلز (لاحق) سے، ابومجلز نے قیس بن عباد سے، قیس نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ آیت هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ کے بارے میں قسم کھا کر بیان کرتے تھے کہ یہ آیت حضرت حمزہؓ اور اُن کے دو ساتھیوں (حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہ بن حارثؓ) و عتبہ اور اس کے دو ساتھیوں (شیبہ اور ولید) کی نسبت اس دن نازل ہوئی کہ جس دن وہ جنگ بدر میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے لئے نکلے۔ سفیان (ثوری) نے بھی یہ بات ابوہاشم سے روایت کی۔ اور عثمان (بن ابی شیبہ) نے جریر سے، جریر نے منصور سے، منصور نے ابوہاشم سے، ابوہاشم نے ابومجلز سے ان کا یہ قول (اس بارے میں) نقل کیا ہے۔