بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
عمروبن علی (فلاس) نے مجھے بتایا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا کہ سلیمان (اعمش) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے ابو معمر (عبداللہ ازدی) سے، ابو معمر نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ آیت اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِيْلَةَ سے مراد یہ ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ جنّوں میں سے بعض لوگوں کی عبادت کیا کرتے تھے پھر وہ (جن) لوگ تو مسلمان ہوگئے مگر (انسانوں میں سے) وہ لوگ (جو ان کے پرستار تھے) اپنے دین پر ہی اڑے رہے۔اشجعی (عبیداللہ بن عبیدالرحمٰن ان کا اصل نام ہے) نے سفیان (ثوری) سے ، سفیان نے اعمش سے روایت کرتے ہوئے اتنا زائد بیان کیا: تو (انہیں) کہہ (کہ) جن لوگوں کے متعلق تمہارا دعویٰ ہے انہیں پکارو۔
(تشریح)اسماعیل بن ابان نے ہم سے بیان کیا۔ ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے ہمیں بتایا۔ آدم بن علی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے (حضرت عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہتے تھے کہ قیامت کے روز لوگ ٹولیاں ٹولیاں ہوں گے۔ ہر ایک امت اپنے نبی کے پیچھے ہولے گی۔ وہ کہیں گے: اے فلاں! ہماری سفارش کر۔ یہاں تک کہ آخر میں سفارش کی نوبت نبی
طلق بن غنام نے ہم سے بیان کیا کہ زائدہ (بن قدامہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ فرماتی تھیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
(تشریح)بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے، سلیمان نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے ابو معمر سے، ابو معمر نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اس آیت الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ… یعنی جنہیں وہ پکارتے ہیں وہ بھی اپنے ربّ کے قرب کے لئے کوئی ذریعہ تلاش کرتے ہیں، کے بارے میں بتایا (کہ اس سے مراد یہ ہے) کہ جنّوں میں سے کچھ لوگوں کی پرستش کی جاتی تھی پھر وہ مسلمان ہوگئے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جس رؤیا کا ذکر آیت وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ میں ہے وہ آنکھ کا نظارہ تھا جو رسول اللہ ﷺ کو اُس رات دکھلایا گیا جس میں آپؐ کو اسراء ہوا۔ اور وہ درخت جسے قرآن میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: وہ تھوہر کا درخت ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عبدالرزاق (بن ہمام) نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ (عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن عوف) اور (سعید) ابن مسیب سے، ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: باجماعت نماز پڑھنے والے کی فضیلت اکیلے شخص کی نماز پر پچیس درجے بڑھ کر ہے اور صبح کی نماز میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ (یہ حدیث بیان کرکے) حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: اور صبح کے وقت (قرآن) کے پڑھنے کو بھی (لازم سمجھ)۔ صبح کے وقت (قرآن) کا پڑھنا یقیناً (اللہ کے حضور میں ایک) مقبول عمل ہے ۔
(تشریح)علی بن عیاش نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب بن ابی حمزہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ (انصاری) رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اذان سن کر کہے: اے اللہ جو اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کا ربّ ہے۔ محمد ﷺ کو ہر وسیلہ اور ہر قسم کی برتری عطا فرما اور اُن کو اس مقام محمود پر کھڑا کر دے جس کا تو نے اُن سے وعدہ فرمایا ہے۔ تو قیامت کے روز میری سفارش اس کے لئے لازم ہوجائے گی۔اس حدیث کو حمزہ بن عبداللہ نے بھی اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے۔
(تشریح)حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے ابی معمر سے، ابی معمر نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ (فتح کے روز) مکہ میں داخل ہوئے، اس وقت بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بُت تھے۔ ایک لکڑی سے جو آپؐ کے ہاتھ میں تھی آپؐ اُن کو ٹھکرانے لگے اور فرمانے لگے: حق آگیا ہے اور باطل بھاگ گیا ہے اور باطل تو ہے ہی بھاگ جانے والا۔حق آگیا ہے۔ اب باطل نہ نئے سرے سے نمودار ہو گا اور نہ لَوٹے گا۔
(تشریح)عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم (نخعی) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک کھیتی میں تھااور آپؐ کھجور کی چھڑی سے سہارا لئے کھڑے تھے کہ اتنے میں کچھ یہودی گزرے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ان (محمد ﷺ) سے روح کی نسبت پوچھیں، تو (ان میں سے) کسی نے کہا کہ تمہیں اس کا خیال کیسے آیا (کہ ان سے یہ بات پوچھی جائے) اور بعض نے کہا: کہیں وہ تم سے ایسی بات نہ کہہ دیں کہ جو تم بُرا مناؤ۔ آخر انہوں نے کہا کہ ان (محمد ﷺ) سے پوچھ لیں۔ چنانچہ انہوں نے آپؐ سے روح کی بابت پوچھا۔ نبی ﷺ خاموش رہے، انہیں جواب نہ دیا۔ میں سمجھا کہ آپؐ کو وحی ہورہی ہے،تو میں اپنی جگہ کھڑا ہو گیا۔ جب وحی نازل ہوچکی تو آپؐ نے فرمایا: اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ تو کہہ کہ روح میرے ربّ کے امر سے وجود پذیر ہے اور تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔ ( کہ اس کی حقیقت سمجھ سکو)
(تشریح)یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ ہشیم (بن بشیر) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا) ابوبشر نے ہمیں خبر دی کہ سعید بن جبیر سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے قول وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا (یعنی تو اپنی نماز بلند آواز سے نہ پڑھ اور نہ بالکل خاموشی سے) کی نسبت فرمایا کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ پوشیدہ طور پر مکہ میں رہتے تھے۔ جس وقت آپؐ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے، قرآن پڑھنے میں اپنی آواز بلند کرتے۔ اور جب مشرک سنتے تو قرآن کو گالیاں دیتے اور اس ذات کو بھی جس نے یہ نازل کیا اور اس کو بھی جو لے کر آیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے کہا کہ اپنی نماز بلند آواز سے نہ پڑھ۔ یعنی اپنی قراءت کو اونچا نہ کرو مبادا مشرک سن پائیں اور قرآن کو گالیاں دیں۔ اور نہ اس میں اپنے ساتھیوں سے آواز اتنی دھیمی کر کہ تو ان کو سنا نہ سکے۔ اور اس کی درمیانی راہ اختیار کر۔