بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
اسحاق بن منصور نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن بکر سہمی نے ہمیں خبر دی کہ حمید نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب حضرت زینبؓ بنت جحش کا رخصتانہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمہ کیا اور لوگوں کو روٹی اور گوشت پیٹ بھر کر کھلایا۔ پھر آپؐ امہات المومنین کے حجروں کی طرف گئے جیسا کہ آپؐ رخصتانے کی صبح میں کیا کرتے تھے یعنی ان کے پاس جاکر انہیں سلام کہتے اور ان کے لئے دعا فرماتے۔ وہ بھی آپؐ کو سلام کہتیں اور آپؐ کے لئے دعا کرتیں۔ جب آپؐ اپنے گھر میں لوٹے تو آپؐ نے دو آدمی دیکھے کہ ان کی باتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ جب آپؐ نے ان کو دیکھا تو گھر سے واپس چلے گئے۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے لوٹ گئے ہیں تو وہ جلدی سے اٹھ کر چلے گئے۔ میں نہیں جانتا کہ میں نے آپؐ کو ان کے جانے کی خبر دی یا کسی اور نے۔ (یہ سن کر) آپؐ واپس آئے اور گھر میں گئے اور میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ نے حجاب کی آیت نازل کی۔اور ابن ابی مریم نے کہا کہ یحيٰ (بن ایوب) نے ہمیں بتایا، (کہا:) حمید نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت انسؓ سے سنا۔ حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے یہ بات مرفوعاً بیان کی۔
زکریا بن یحيٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے, ہشام نے اپنے باپ سے, ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: پردہ کا حکم ہونے کے بعد حضرت سودہؓ اپنی حاجت کے لئے باہر گئیں اور وہ جسیم عورت تھیں جو انہیں جانتا اس سے پوشیدہ نہ رہتیں۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے ان کو دیکھ لیا او ر کہا دیکھو سودہؓ ! اللہ کی قسم! آپ ہم سے چھپ نہیں سکتیں۔ اب دیکھیں آپ کیونکر نکلیں گی۔ کہتی تھیں: یہ سن کر حضرت سودہؓ لوٹ آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے اس وقت رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ آپؐ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی۔ حضرت سودہؓ اندر آئیں اور انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! میں کسی حاجت کے لئے باہر گئی تھی تو عمرؓ نے مجھ سے یوں کہا۔ کہتی تھیں: اللہ نے آپؐ پر وحی کی ۔ جب (حالت وحی) آپؐ سے موقوف ہوئی اور وہ ہڈی آپؐ کے ہاتھ میں تھی، آپؐ نے اسے نہیں رکھا اور فرمایا: تم (عورتوں) کو تو اجازت دے دی گئی ہے کہ اپنی ضرورت کے لئے نکلا کریں۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد افلح نے جو ابوالقعیس کا بھائی (میرا رضاعی چچا) تھا میرے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے کہا: میں انہیں اجازت نہیں دوں گی جب تک کہ ان کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں کیونکہ ان کے بھائی ابوالقعیس نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا بلکہ ابوالقعیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! افلح ابوالقعیس کے بھائی نے مجھ سے اجازت طلب کی تھی تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی تاوقتیکہ میں آپؐ سے اجازت لے لوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے چچا کو اجازت دینے سے تمہیں کس نے منع کیا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا بلکہ ابوالقعیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ہائے تم نے یہ کیا کیا، اسے اندر آنے کی اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں۔ عروہ نے کہا: اس لئے حضرت عائشہؓ کہا کرتی تھیں: رضاعت کی وجہ سے وہ (رشتہ) حرام سمجھو جو نسب کی وجہ سے حرام سمجھتے ہو۔
(تشریح)سعید بن یحيٰ نے مجھے بتایا کہ میرے باپ (یحيٰ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مسعر (بن کدام) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم (بن عتیبہ) سے، حکم نے (عبدالرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آپؐ سے کہا گیا: یارسول اللہ! آپؐ کے لئے سلامتی کی دعا کرنا تو ہم نے سمجھ لیا آپؐ کے لئے رحمت کی دعا کیسے کیا کریں؟ آپؐ نے فرمایا: یوں کہو: اے اللہ محمدؐ اور آل محمدؐ کو خاص الخاص رحمت سے نواز جیسا کہ تو نے (ابراہیم اور)آل ابراہیم کو نوازا۔ یقیناً توبہت ہی خوبیوں والا (اور) بڑی شان والا ہے۔ محمدؐ اور آل محمدؐ کو برکتیں عطا کر جیسا کہ تو نے (ابراہیم اور) آل ابراہیم کو برکتیں عطا کیں۔ یقیناً توبہت ہی خوبیوں والا (اور) بڑی شان والا ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ لیث (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا, کہا: (یزید) ابن ھاد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن خباب سے، ابن خباب نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ہم نے کہا: یارسول اللہ! یہ تو ہوئی سلامتی کی دعا، ہم آپؐ کے لئے رحمت کی دعا کیسے کیا کریں؟ آپؐ نے فرمایا: یوں کہو: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ… یعنی اے اللہ! محمدؐ جو تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے، کو خاص الخاص رحمت سے نواز، جیسا کہ تو نے آل ابراہیمؑ کو رحمت سے نوازا۔ اور محمدؐ اور آل محمدؐ کو برکتیں عطا کر جیسا کہ تو نے ابراہیمؑ کو برکتیں عطا کیں۔ ابوصالح نے لیث سے یوں نقل کیا ہے: عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ. ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ (عبدالعزیز) بن ابی حازم اور (عبد العزیز بن محمد) دراوردی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید(بن ہاد) سے روایت کی کہ انہوں نے یوں کہا: كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ.
اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ روح بن عبادہ نے ہمیں خبردی کہ عوف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسن (بصری)، محمد (بن سیرین) اور خلاس (بن عمرو) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ بڑے شرمیلے آدمی تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا… اے وہ جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کی طرح نہ ہو جنہوں نے موسیٰ کو دکھ دئیے اور پھر اللہ نے اسے ان باتوں سے بَری کر دیا جو انہوں نے کہی تھیں اور وہ اللہ کے نزدیک وجیہہ (عالی مرتبہ) تھا۔
(تشریح)(عبیداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن دینار) نے ہم سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: میں نے عکرمہ کو کہتے سنا۔ میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔وہ کہتے تھے: نبیﷺ نے فرمایا: جب اللہ آسمان میں کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو ملائکہ اس فیصلے سے مرعوب ہونے کی وجہ سے کانپتے ہیں۔ (یعنی ان پر کپکپی طاری ہوتی ہے) اور یہ کیفیت ہوتی ہے جیسے زنجیر کو صاف چٹان پر مارنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں: تمہارے ربّ نے کیا کہا ہے؟ جس سے پوچھتے ہیں وہ کہتا ہے حق بات ہی فرمائی ہے اور وہ بہت بلند مرتبہ اور عالیشان ذات ہے، تب چوری سے سننے والا بات سن لیتا ہے۔ اور چوری سے سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔ اور سفیان نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے (اسے) بیان کیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو اس طرح کھولا کہ ایک دوسرے کے اوپر تھی۔ پھر وہ کوئی ایک کلمہ سن لیتا ہے اور وہ اسے اپنے سے نیچے والے ساتھی کو پہنچا دیتا ہے۔ پھر وہ دوسرا اُسے اپنے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ ساحر یا کاہن کی زبان پر آ جاتا ہے۔ کبھی تو شہاب اسے پہنچانے سے پہلے پکڑ لیتا ہے اور کبھی وہ پکڑے جانے سے پہلے پہنچا لیتا ہے۔ تو وہ(کاہن) سو جھوٹ اس کے ساتھ ملا کر بولتا ہے۔ (پھر اگر اُس کی تصدیق ہوتی ہے) تو کہا جاتا ہے: کیا اس نے ہمیں فلاں فلاں دن ایسا ایسا نہیں کہا تھا۔ پس اُس کلمہ کی وجہ سے جو اُس نے آسمان سے سنا تھا، اُس کی تصدیق ہوتی ہے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ محمد بن خازم نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ سے، عمرو نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک دن صفا پہاڑ پر چڑھے، آپؐ نے يَا صَبَاحَاهْ پکارا۔ یہ پکار سن کر قریش کے لوگ آپؐ کے پاس اکٹھے ہو گئے۔ پوچھنے لگے: تمہیں کیا ہوا ہے؟آپؐ نے فرمایا: بتلاؤ تو سہی اگر میں تم کو یہ خبردوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام کو چھاپہ مارے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور۔ آپؐ نے فرمایا: پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں۔ ابولہب نے یہ سن کر کہا: بُرا ہو تیرا۔کیا اس بات کے لئے تم نے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:تَبَّتْ اَبِيْ لَهَبٍ …
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم تیمی سے، تیمی نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں سورج ڈوبنے کے وقت مسجد میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپؐ نے فرمایا: ابوذرؓ! کیا تم جانتے ہو کہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ جاتا ہے، آخر جاکر عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے۔ یہی ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور آفتاب اپنے جائے قرار کی طرف چلا جا رہا ہے۔ عزیز علیم (خالق) کی یہی تقدیر ہے۔
حمیدی نے ہمیں بتایا کہ وکیع نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم تیمی سے، تیمی نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوذرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے قول وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّلَّهَا کی بابت پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کا جائے قرار عرش کے نیچے ہے۔
(تشریح)