بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: خارجہ بن زید بن ثابت نے مجھے بتایا کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے کہا: جب ہم نے قرآن کریم کو کتابوں کی شکل میں لکھنا شروع کیا تو سورۃ الاحزاب کی ایک آیت مجھے نہ ملی جو میں رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے اکثر سنا کرتا تھا۔ مجھے یہ آیت کسی کے پاس نہ ملی سوائے خزیمہ انصاریؓ کے۔ وہی جن کی شہادت رسول اللہ ﷺ نے دوشخصوں کی شہادت کے برابر قرار دی ہے (اور وہ آیت یہ ہے:) مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ یعنی مومنوں میں سے ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچا کردیا ہے۔
(تشریح)مسدد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن سعید قطان) سے، یحيٰ نے حمید (طویل) سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ کے پاس بھلے بُرے (آدمی) آتے ہیں تو اگر آپؐ امہات المؤمنین کو پردہ کرنے کے لئے فرمائیں (تو مناسب ہوگا۔) پھر اللہ نے حجاب کی آیت نازل کی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھے خبردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ اُن کے پاس آئے ، جب اللہ نے آپؐ کو حکم دیا کہ آپؐ اپنی بیویوں کو اختیار دیں اور رسول اللہ ﷺ نے (اس بارے میں) مجھ سے ہی شروع کیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم سے ایک بات کا ذکر کرنے لگا ہوں۔ جب تک تم اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کرلو اس میں جلدی نہ کرنا۔ تم پر کوئی مضائقہ نہیں (آزادی سے جو چاہو فیصلہ کرو) اور آپؐ کو علم تھا کہ میرے ماں باپ ایسے نہیں ہیں کہ وہ آپؐ سے علیحدہ ہونے کا مجھے مشورہ دیں۔ کہتی تھیں کہ آپؐ نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ … پوری دو آیتیں۔ میں نے آپؐ سے پوچھا: میں اپنے ماں باپ سے اس کے متعلق کیا مشورہ لوں، میں تو اللہ اور اس کا رسول اور دارِآخرت ہی چاہتی ہوں۔
(تشریح)اور لیث نے کہا: یونس نے مجھ سے کہا: ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کہتی تھیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم ہوا کہ آپؐ اپنی ازواج کو اختیار دیں تو آپؐ نے مجھ سے ہی شروع کیا اور فرمایا: میں تم سے ایک بات ذکر کرنے لگا ہوں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کرلو اس میں جلدی نہ کرنا ۔ کوئی مضائقہ نہیں (جو چاہو فیصلہ کرو۔) کہتی تھیں: آپؐ کو یہ علم تھا کہ میرے ماں باپ ایسے نہیں کہ آپؐ سے جدا ہونے کا مجھے مشورہ دیں۔ کہتی تھیں: یہ کہہ کر آپؐ نے فرمایا: اللہ جل ثناءہ فرماتا ہے: يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاوَزِيْنَتَهَا… اَجْرًاعَظِيْمًا۔ کہتی تھیں: میں نے کہا: اس میں کونسی بات ہے کہ جس کے متعلق میں ماں باپ سے مشورہ کروں میں تو اللہ، اس کا رسول اور دارِآخرت ہی چاہتی ہوں۔ کہتی تھیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری ازواج نے بھی وہی جواب دیا جو میں نے دیا تھا۔ (لیث کی طرح) موسیٰ بن اعین نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے زہری سے یہ بات روایت کی۔ انہوں نے کہا ابوسلمہ نے مجھے بتایا۔ اور عبدالرزاق اور ابوسفیان معمری نے معمرسے، معمر نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے نقل کیا۔
(تشریح)زکریا بن یحيٰ نے ہمیں بتایا کہ ابواُسامہ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے ہمیں بتایا، کہا: ان کے باپ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی تھیں: میں ان عورتوں سے غیرت کھاتی تھی جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا اور میں کہتی: کیا عورت اپنے آپ کو پیش کرے؟ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: تُرْجِيْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُـْٔوِيْۤ اِلَيْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ۔ یعنی ان (بیویوں) میں سے جسے تو چاہے مہلت دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھے اور ان میں سے جنہیں چاہے تو الگ کردے تجھ پر کوئی مضائقہ نہیں۔ میں نے کہا: میں دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپؐ کی خواہش جلدی سے پورا کردیتا ہے
حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ عاصم احول نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معاذہ سے، معاذہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آیت تُرْجِيْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُـْٔوِيْۤ اِلَيْكَ مَنْ تَشَآءُ… نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی زوجہ کی باری کے دن اجازت مانگا کرتے تھے۔ (معاذہ کہتے تھے:) میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا: آپ کیا کہا کرتی تھیں ؟ کہتی تھی: میں آپؐ سے یہ کہتی: اگر میں نے ہی اس کا فیصلہ کرنا ہے تو پھر یارسول اللہ! میں نہیں چاہتی کہ میں کسی دوسری کو آپؐ کے لئے مقدم کروں۔ (عبداللہ بن مبارک کی طرح) یہ بات عباد بن عباد نے بھی بیان کی۔ انہوں نے عاصم سے سنی۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ رقاشی نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ابومجلز نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحشؓ سے شادی کی۔ تو لوگوں کو دعوت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا اور پھر وہ بیٹھے باتیں کرنے لگے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اٹھنا چاہتے ہیں مگر لوگ نہ اٹھے۔ جب آپؐ نے یہ دیکھا تو آپؐ کھڑے ہوگئے۔ جب آپؐ کھڑے ہوئے تو لوگ اٹھ کر چلے گئے اور تینآدمی بیٹھے رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے کہ اندر جائیں مگر کیا دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ بیٹھے ہیں۔ آخر وہ اٹھ کر چلے گئے اور میں بھی چلا اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبردی کہ وہ چلے گئے ہیں آپؐ آئے اور اندر گئے۔ میں بھی اندر جانے لگا تو نبیﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا ۔ پھر اللہ نے یہ وحی نازل کی: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ ۔ یعنی اے وے جو ایمان لائے ہو نبی کے گھروں میں مت جاؤ…
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کی کہ حضرت انس بن مالکؓ نے کہا: میں اس آیت کی بابت تمام لوگوں سے بڑھ کر جانتا ہوں یعنی حجاب کی آیت(کے متعلق)۔ جب حضرت زینبؓ (بوقت رخصتانہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجی گئیں تو وہ آپؐ کے ساتھ ہی گھر میں تھیں۔ آپؐ نے کھانا تیار کروایا اور لوگوں کو دعوت دی۔ وہ (کھانا کھا کر) بیٹھے رہے، باتیں کرتے رہے۔ نبی ﷺ باہر جاتے اور پھر واپس آتے مگر دیکھتے کہ وہ بیٹھے باتیں کررہے ہیں۔ پھراللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی:يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ… مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ تک۔ یعنی اے وے جو ایمان لائے ہو نبی کے گھروں میں مت جاؤ بجز اس کے کہ کھانے کے لئے اندر آنے کی تمہیں اجازت دی جائے۔ اس کے پکنے کا انتظار نہ کرتے رہو۔ لیکن جب تمہیں بلایا جائے تو اس وقت اندر آؤ۔ جب تم کھا چکو تو منتشر ہوجاؤ اور باتوں میں مزہ لینے نہ لگ جاؤ۔ یہ بات نبیؐ کو تکلیف دیتی ہے اور وہ تم سے (اس کے اظہار پر) شرماتا ہے اور اللہ حق سے نہیں شرماتا۔ اور اگر ان (بیویوں) سے کوئی سامان مانگنا ہو تو پسِ پردہ مانگو۔چنانچہ پردہ ڈال دیا گیا اور لوگ اٹھ کر چلے گئے۔
ابومعمر نے ہمیں بتایا کہ عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا ۔ عبدالعزیز بن صہیب نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحشؓ سے شادی کی تو روٹی اور گوشت سے ولیمہ کیا گیا اور کھانے پر بلانے کے لیے مجھے بھیجا۔ کچھ لوگ آتے اور وہ کھا کر چلے جاتے پھر کچھ لوگ آتے اور وہ کھاکر چلے جاتے۔ میں نے سب کو بلایا یہاں تک کہ میں نے کسی کو نہ پایا کہ جسے بلاتا۔ میں نے کہا: یانبی اللہ! میں کوئی شخص نہیں پاتا جسے بلاؤں۔ آپؐ نے فرمایا: کھانا اٹھا لو۔ اور تین شخص گھر میں رہ گئے جو باتیں کررہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور حضرت عائشہؓ کے حجرے کی طرف گئے اور فرمایا: اے اہل بیت ! تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت۔ حضرت عائشہؓ نے(جواب میں) کہا: آپؐ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت۔ آپؐ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ہے؟ اللہ آپؐ کو مبارک کرے ۔غرض آپؐ اسی طرح اپنی تمام ازواج کے حجروں میں یکے بعد دیگرے گئے ان سے وہی بات کہتے جو حضرت عائشہؓ سے کہی۔ وہ ازواج بھی وہی جواب دیتیں جو حضرت عائشہؓ نے دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی تین آدمی گھر میں باتیں کررہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی شرمیلے تھے آپؐ پھر حضرت عائشہؓ کے حجرے کی طرف چلے گئے۔ میں نہیں جانتا آیا میں نے آپؐ کو خبر دی یا کسی اور نے کہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپؐ واپس آئے۔ جب آپؐ نے دروازے کی دہلیز میں ایک پاؤں رکھا دوسرا ابھی باہر تھا تو آپؐ نے پردہ میرے اور اپنے درمیان ڈال دیا اور حجاب کی آیت نازل ہوئی۔