بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
عمر(بن حفص بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا،(اُنہوں نے کہا:) اعمش نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ )بن مسعودؓ( کے ساتھی حضرت ابودرداءؓ کے پاس آئے۔ حضرت ابودرداءؓ نے ان کی تلاش کی اور ان کو پالیا اور انہوں نے پوچھا: عبداللہ بن مسعودؓ کی قراءت کے مطابق تم میں سے کون پڑھتا ہے ؟ انہوں نے کہا: ہم سبھی۔ حضرت ابودرداءؓ نے پوچھا: تم میں سے حافظ کون ہے؟ تو انہوں نے علقمہ کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت ابودرداءؓ نے کہا: تم نے عبداللہ بن مسعودؓ کو وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشَى کس طرح پڑھتے ہوئے سنا؟ علقمہ نے کہا:(یوں پڑھتے تھے) وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى۔ حضرت ابودرداءؓ نے کہا: میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے سنا اور یہ لوگ مجھ سے یہ چاہتے ہیں کہ میں یوں پڑھوں: وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤى اللہ کی قسم میں تو اِن کی پیروی نہیں کرنے کا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا انہوں نے سعد بن عبیدہ سے،سعد نے ابوعبدالرحمٰن سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ پھراُنہوں نے یہی حدیث بیان کی۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا،انہوں نے کہا:مجھے عدی نے بتایا، عدی نے کہا:میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپؐ نے عشاء کے وقت دو رکعتوں میں سے ایک رکعت میں سورة وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ پڑھی۔ تَقْوِيْم کے معنی ہیں پیدائش۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، انہوں نے اعمش سے، اعمش نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابو عبد الرحمٰن سلمی سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم بقیع غرقد میں ایک جنازہ (پڑھنے) کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جس کا ٹھکانا جنت میں یا جس کا ٹھکانا آگ میں نہ لکھ دیا گیا ہو۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہؐ! کیا ہم پھر اسی پر اعتماد نہ کر لیں۔ آپؐ نے فرمایا: عمل کرو کیونکہ ہر ایک کے لیے آسانی کی گئی ہے۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی۔ یعنی پس جس نے (خدا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور نیک بات کی تصدیق کی اُسے تو ہم ضرور آسانی (کے مواقع) بہم پہنچائیں گے اور ایسا (شخص) جس نے بخل سے کام لیا اور بے پروائی کا اظہار کیا اور نیک بات کو جھٹلایا۔ اُسے ہم تکلیف ( کا سامان) بہم پہنچائیں گے۔
بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا،شعبہ نے ہم سے بیان کیا انہوں نے سلیمان(اعمش) سے، سلیمان نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے، اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، حضرت علیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، (اُنہوں نے کہا:) آپؐ ایک جنازہ میں تھے۔آپؐ نے ایک لکڑی لی اور زمین کریدنے لگے اور آپؐ نے فرمایا: تم میںسے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جس کا ٹھکانا آگ میں یا جنت میں نہ بنایا گیا ہو۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا پھر ہم (اس پر) بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔آپؐ نے فرمایا: عمل کرو۔ ہر ایک کے لئے آسانی کی گئی ہے۔ (پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی:) جس نے دیا اور بدیوں سے بچا اور بھلی باتوں پر عمل کئے۔ شعبہ نے کہا:اور منصور (بن معتمر) نے بھی مجھے یہی بیان کیا اور میں نے سلیمان کی حدیث کے خلاف اس کو نہیں پایا۔
یحيٰ (بن موسیٰ بلخی ) نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا، انہوں نے اعمش سے، اعمش نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابوعبدالرحمٰن سے، اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا ٹھکانا جنت میں یا جس کا ٹھکانا آگ میں نہ لکھ دیا گیا ہو۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا ہم اس پر بھروسہ نہ کریں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، عمل کئے جاؤ کیونکہ ہر ایک کے لئے آسانی کی گئی ہے۔ پھر آپؐ نے یہ آیات پڑھیں۔ یعنی پس جس نے (خد ا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔اور نیک بات کی تصدیق کی۔اُسے تو ہم ضرور آسانی (کے مواقع) بہم پہنچائیں گے۔اور ایسا (شخص) جس نے بخل سے کام لیا اور بے پروائی کا اظہار کیا۔اور نیک بات کو جھٹلایا۔ اُسے ہم تکلیف (کا سامان) بہم پہنچائیں گے۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے منصور سے، منصور نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے، ابوعبدالرحمٰن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا:ہم بقیع الغرقد میں ایک جنازہ میں تھے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور آپؐ بیٹھ گئے اور ہم آپؐ کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپؐ کے پاس چھڑی تھی آپؐ سر جھکا کر اپنی چھڑی سے زمین کریدنے لگے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں اور کوئی بھی ایسا نفس نہیں جسے پیدا کیا گیا مگر ضرور ہی اس کا ٹھکانا جنت میں یا آگ میں لکھ دیا گیا اور ضرور ہی اس کے متعلق یہ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔ ایک شخص بولا: یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے اس نوشتہ پر بھروسہ نہ کریں اور عمل چھوڑ دیں جو ہم میں سے نیک بختوں سے ہوا وہ ضرور ہی نیک بختوں میں جا ملے گا اور جو ہم میں سے بد بختوں سے ہوا وہ بھی ضروربد بختوں کے عمل کی طرف جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: جو تو نیک بخت ہیں تو انہیں ان کاموں کی توفیق دی جائے گی کہ جو نیک بختوں کے ہیں اور جو بد بخت ہیں تو انہیں ان کاموں کی توفیق دی جائے گی جو بد بختوں کے ہیں۔ پھر آپؐ نے یہ آیات پڑھیں۔ یعنی پس جس نے (خد اکی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا،اور نیک بات کی تصدیق کی۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سُلمی سےروایت کی، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں تھے۔ آپؐ نے ایک چیز لی اور اس سے زمین کو کریدنا شروع کیا اور آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جس کا ٹھکانا آگ میں یا جس کا ٹھکانا جنت میں نہ لکھ دیا گیا ہو ۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے اس نوشتہ پر اعتماد نہ کر بیٹھیں اور عمل چھوڑ دیں۔ آپؐ نے فرمایا: عمل کرو کیونکہ ہر ایک کو اس کام کے لئے توفیق دی جائے گی جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا۔ جو اہل سعادت سے ہوا تو اس کو اہل سعادت کے کام کی توفیق دی جائے گی اور جو اہل شقاوت سے ہوا تو اس کو اہل شقاوت کے کاموں کی توفیق دی جائے گی۔ پھر آپؐ نے یہ آیات پڑھیں۔ یعنی پس جس نے (خد ا کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔اور نیک بات کی تصدیق کی۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہَیر نے ہمیں بتایا، کہ اسود بن قیس نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپؐ دو یا تین راتیں ( تہجد کے لئے) نہیں اٹھے ایک عورت آئی وہ کہنے لگی: محمدؐ! میں امید کرتی ہوں کہ تمہارے شیطان نے(نعوذ باللہ) تمہیں چھوڑ دیا ہوگا۔ میں نے اس کو نہیں دیکھا کہ وہ دو یا تین رات سے تمہارے پاس آیا ہو۔تب اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل کیں۔ یعنی چاشت کی قسم ہے اور رات کی قسم ہے جب وہ سکون کی حالت میں ہوجائے تیرے ربّ نے تجھے نہیں چھوڑا اور نہ ہی تجھ سے ناراض ہوا۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر غندر نے ہمیں بتایا، شعبہ نے ہم سے بیان کیا اُنہوں نے اسود بن قیس سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے جندب بَجلی سے سنا کہ ایک عورت کہنے لگی: رسول اللہ ! میں سمجھتی ہوں کہ تیرے دوست نے تیرے پاس آنے میں دیر کر دی ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ نہ تیرے ربّ نے تجھے ترک کیا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے۔
(تشریح)