بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، کہتے تھے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (سورۂ یوسف کی اس آیت کو یوں) پڑھا: حَتّٰۤى اِذَا اسْتَيْـَٔسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا ۔ (یعنی كُذِبُوْا کی دال کو) مخفف کرکے اور اس آیت کے وہی معنی کئے جو اس آیت کے ہیں: حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ۔ پھر میں عروہ بن زبیرسے ملا اور ان سے یہ ذکر کیا۔
عروہ نے کہا: حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: معاذاللہ، اللہ کی قسم! اللہ نے اپنے رسول سے کبھی کوئی وعدہ نہیں کیا کہ آپؐ کو یقین ہوتا کہ وہ آپؐ کے فوت ہونے سے پہلے ضرور پورا ہوکررہے گا۔ بلکہ رسولوں کی آزمائش ہمیشہ ہوتی رہی، یہاں تک کہ وہ ڈرے کہ وہ جو اُن کے ساتھ ہیں کہیں اُن کو جھوٹا نہ سمجھیں اور(حضرت عائشہؓ) اس آیت کو یوں پڑھتی تھیں: وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا ذال کی تشدید سے۔
(تشریح)اور عبدالصمد (بن عبدالوارث) سے مروی ہے۔( انہوں نے کہا:) میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایوب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی سے جماع کرے۔ اس حدیث کو محمد بن یحيٰ بن سعید نے بھی بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا کہ (محمد) بن منکدر سے روایت ہے۔(انہوں نے کہا:) میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: یہود لوگ خیال کرتے تھے کہ مرد اگر عورت کے پیچھے کی طرف سے جماع کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔ اس لئے یہ آیت نازل ہوئی: تمہاری عورتیں تمہارے لئے ایک کھیتی ہیں اس لئے تم اپنی کھیتی میں آؤ جس طرح چاہو ۔
اسحاق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ نضر بن شُمَیل نے ہمیں خبردی کہ (عبداللہ) بن عون نے ہمیں بتایا۔ نافع سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب قرآن پڑھتے تو جب تک اس سے فارغ نہ ہولیتے بات نہ کرتے۔ میں نے ایک دن اُن سے قرآن کا سبق لیا۔ انہوں نے سورۂ بقرہ پڑھی۔ یہاں تک کہ جب اس آیت (نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ) پر پہنچے (مجھے) کہنے لگے: تم جانتے ہو یہ آیت کس کے بارے میں اُتری؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: فلاں فلاں بات سے متعلق اُتری۔ پھر وہ پڑھنے لگ گئے۔
عبیداللہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعامر عقدی نے ہمیں بتایا کہ عباد بن راشد نے ہم سے بیان کیا کہ حسن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت معقل بن یسارؓ نے مجھ سے بیان کیا، کہتے تھے: میری ایک بہن تھی جس کے نکاح کی نسبت مجھے پیغام آنے لگے۔اور ابراہیم (بنطہمان) نے کہا: یونس سے روایت ہے۔ یونس نے حسن سے یوں نقل کیا: حضرت معقل بن یسارؓ نے مجھ سے بیان کیا۔ابو معمر نے ہمیں بتایا: عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا کہ یونس نے ہمیں بتایا۔ حسن سے روایت ہے کہ حضرت معقل بن یسارؓ کی بہن کو اس کے خاوند نے طلاق دی اور اسے چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی۔ پھر اس نے اس سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا۔ لیکن حضرت معقلؓ نے نہ مانا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: انہیں نہ روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کریں۔
(تشریح)امیہ بن بسطام نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُریع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حبیب (بن شہید) سے، حبیب نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی کہ(حضرت عبداللہ) بن زبیرؓ نے کہا: میں نے حضرت عثمان بن عفانؓ سے وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا سے متعلق پوچھا۔(ابن زبیرؓ نے) کہا: اس کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا ہے۔ پھر آپؓ نے اس کو لکھوایا کیوں ہےیا رہنے کیوں دیا ہے؟ (حضرت عثمانؓ نے) فرمایا: میرے بھتیجے! میں قرآن سے کچھ بھی اس کی اپنی جگہ سے نہیں بدلوں گا۔
اسحاق(بن راہویہ) نے ہمیں بتایا۔ رَوح (بن عبادہ) نے ہم سے بیان کیا کہ شبل(بن عباد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے )عبداللہ( ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ…(میں جس عدت کا ذکر ہے) یہ وہ عدت ہے جو عورت کے لیے اپنے خاوند کے رشتہ داروں کے پاس گزارنا ضروری تھی اس لیے اللہ نے یہ آیت نازل کی: اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔ وہ اپنی بیویوں کے حق میں ایک سال تک فائدہ پہنچانے یعنی اُن کو (گھروں سے) نہ نکالنے کی وصیت کر جائیں، لیکن اگر وہ (خود بخود) چلی جائیں تو وہ اپنے متعلق جو پسندیدہ بات کریں اُس کا تمہیں کوئی گناہ نہیں۔ مجاہد نے کہا: اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) عورت کے لئے سال پورا کر دیا ہے سات مہینوں اور بیس راتوں کی وصیت کر کے۔ اگر چاہے تو اس وصیت کے مطابق رہے اور اگر چاہے تو چلی جائے اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس قول سے مراد ہے کہ ان کو نہ نکالا جائے اور اگر وہ خود نکلیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں، مگر عدت جتنی ہے وہ عورت پر واجب ہے۔ (شبل نے کہا کہ ابن ابی نجیح نے) مجاہد سے یہی روایت کی۔اور عطاء کہتے تھے: حضرت ابن عباسؓ نے کہا: اس آیت نے عورت کی وہ عدت (کی سابقہ رسم) منسوخ کردی جو وہ اپنے گھروالوں کے پاس پورا کرتی تھی۔ اب جہاں چاہے عدت پوری کرے اور یہی ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو نہ نکالاجائے۔عطاء کہتے تھے: اگر وہ چاہے تو اپنے گھروالوں کے پاس عدت گزارے اور اپنی وصیت کے مطابق رہے اور اگر چاہے، نکل جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:تم پر کوئی گناہ نہیں، اس امر میں جو انہوں نے کیا۔ عطاء کہتے تھے: اس کے بعد میراث کا حکم نازل ہوا اَور اس نے سکونت کے دستور کو منسوخ کیا۔ اس لئے اب جہاں چاہے عدت گزارے اور اس کے لئے خاوند کے گھر میں رہنا ضروری نہیں۔اور محمد بن یوسف(فریابی) سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) ورقاء (بن عمر) نے ابن ابی نجیح سے بروایت مجاہد ہمیں یہی بتایا۔ اور ابن ابی نجیح سے یہی مروی ہے کہ انہوں نے عطاء سے، عطاء نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: اس آیت نے عورت کی اس عدت کو منسوخ کردیا جو وہ اپنے گھر والوں میں گزارا کرتی تھی۔ اب جہاں چاہے عدت گزارے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے: نہ نکالا جائے۔
حبان (بن موسیٰ السلمی) نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عون نے ہمیں بتایا کہ محمد بن سیرین سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں ایک مجلس میں بیٹھا جہاں بڑے بڑے انصاری تھے اور ان میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی تھے۔ میں نے عبداللہ بن عتبہ کی اس حدیث کا ذکر کیا جو حضرت سُبَیعہ بنت حارثؓ سے متعلق ہے۔ عبدالرحمٰن نے کہا: لیکن عبداللہ بن عتبہ کے چچا تو یوں نہیں کہتے تھے۔ میں نے کہا: میں تو پھر بڑا ہی دلیر ہوں اگر میں نے ایسے شخص کی بابت جھوٹ کہا ہے جو کوفہ کے ایک کونے میں رہتا ہے اور انہوں نے اپنی آواز بلند کی۔ محمد بن سیرین کہتے تھے: یہ کہہ کر میں باہر چلا گیا اور پھر مالک بن عامر یا مالک بن عوف سے ملا۔ میں نے پوچھا کہ حضرت ابن مسعودؓ کا کیا قول تھا؟ اس عورت کے بارے میں جس کا خاوند وفات پا (کر اُس کو چھوڑ) جائے اور وہ حاملہ ہو۔ انہوں نے کہا حضرت ابن مسعودؓ کہتے تھے: تم حاملہ پر سختی تو کرتے ہو اور اس کے لیے آسانی نہیں کرتے۔ حالانکہ عورتوں کے متعلق چھوٹی سورۃ (یعنی سورۃ الطلاق) تو لمبی (یعنی سورۃ البقرۃ) کے بعد اُتری۔ اور ایوب (سختیانی) نے محمد (بن سیرین) سے یوں نقل کیا کہ میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نےمجھے بتایا کہ یزید نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن حسان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے عبیدہ(بن عمرو) سے، عبیدہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور عبدالرحمٰن (بن بشر بن حکم) نے مجھ سے بیان کیا کہ يحيٰ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایاکہ ہشام نے کہا: محمد (بن سیرین) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیدہ (بن عمرو سلمانی) سے، عبیدہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے ایام میں فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج بھی ڈوب گیا۔ اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو یا اُن کے پیٹوں کو آگ سے بھرے۔ يحيٰ(راوی) نے (بُيُوتَهُمْ یا أَجْوَافَهُمْ کے متعلق) شک کیا( کہ یہ لفظ فرمایا یا وہ۔)
(تشریح)