بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ يحيٰ(بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے، اسماعیل نے حارث بن شُبَیْل سے، حارث نے ابوعمرو (سعد بن إیاس) شیبانی سے، انہوں نے حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نمازمیں باتیں کیا کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اپنی ضرورت کے بارے میں بات کرلیا کرتا تھا۔ آخر یہ آیت نازل ہوئی: تم(تمام) نمازوں کااور (خصوصاً)درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو اور اللہ کے فرمانبردار ہوکر کھڑے ہوجاؤ۔ تب ہمیں خاموشی کا حکم دیا گیا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب نماز خوف سے متعلق پوچھا جاتا تو کہتے امام آگے ہو اور کچھ لوگ (اس کے پیچھے ہوں) اور امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور ان میں سے کچھ لوگ ان کے اور دشمنوں کے درمیان رہیں، وہ نماز نہ پڑھیں۔ وہ لوگ جو امام کے ساتھ ہیں جب ایک رکعت پڑھ لیں تو وہ ہٹ کر ان لوگوں کی جگہ آجائیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اور سلام نہ پھیریں اور جن لوگو ں نے نماز نہیں پڑھی وہ آگے بڑھیں اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں۔ پھر امام نماز سے فارغ ہو جائے اور وہ دورکعتیں پڑھ چکا ہوگا۔ تو ان دو گروہوں میں سے ہر ایک کھڑا ہو کر اپنے طور پر امام کے فارغ ہونے کے بعد ایک ایک رکعت پڑھ لے۔ اس طرح (ان دو گروہوں میں سے) ہر ایک دو دو رکعتیں پڑھ لے گا۔ اگر اس سے بڑھ کر خوف ہو تو اپنے قدموں پر کھڑے کھڑے پیدل ہی یا سوار ہونے کی حالت میں پڑھ لیں، ان کا منہ قبلہ کی طرف ہو یا نہ ہو۔ مالک نے کہا: نافع کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی روایت کرتے ہوئے یہ ذکر کیا۔
(تشریح)عبداللہ بن ابی الاسود نے مجھے بتایا۔ حمید بن اسود اور یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا۔ اُن دونوں نے کہا:حبیب بن شہید نے ابن ابی ملیکہ سے بیان کرتے ہوئےہم سے کہا: حضرت (عبداللہ) ابن زبیرؓ کہتے تھے: میں نے حضرت عثمانؓ سے اس آیت کی بابت پوچھا جو سورة البقرۃ میں ہے: وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا…غَيْرَ اِخْرَاجٍ کہ اس آیت کو دوسری نے منسوخ کیا ہے تو آپؓ نے اس کو (مصحف میں) کیوں لکھوایا؟ حضرت عثمانؓ نے فرمایا: اس کو رہنے دو۔ اے میرے بھتیجے! میں قرآن مجید میں سے کچھ بھی اس کی جگہ سے نہیں بدلوں گا۔ حمید نے کہا: یا انہوں نے کچھ ایسا ہی کہا۔
(تشریح)احمد بن صالح نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ) بن وہب نے ہم سے بیان کیا کہ یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ اور سعید (بن مسیب) سے، ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر ابراہیمؑ کو شک ہوتا تو) ابراہیم سے بڑھ کر ہمیں زیادہ شک ہونا چاہیے۔ جبکہ انہوں نے یہ دعا کی: اے میرے ربّ ! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کیا کرتا ہے۔ اس (کے ربّ) نے کہا: کیا تمہیں یقین نہیں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس لئے کہ میرا دل مطمئن ہوجائے۔
(تشریح)ابراہیم (بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ابن جریج سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا:) میں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے سنا۔ وہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے تھے۔ (ابن جریج نے) کہا اور میں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ کے بھائی سے سنا۔ وہ عبیدبن عمیر سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نےکہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے پوچھا: اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ کی بابت تم کیا سمجھتے ہو کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی یعنی کیا تم میں سے کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ ناراض ہوگئے۔ کہنے لگے: تم کہو ہم جانتے ہیں یا ہم نہیں جانتے۔ تب حضرت ابن عباسؓ نے کہا: امیرا لمؤمنین! اس آیت کی نسبت میرے دل میں ایک بات ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میرے بھتیجے کہو اور اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھو۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: یہ عمل کی ایک مثال بیان کی گئی ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: کس عمل کی؟ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: کسی عمل کی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ اس مالدار شخص کی مثال ہے جو اللہ عزو جل کی اطاعت میں عمل کرتا ہے۔ پھر اللہ نے اس کے پاس شیطان کو بھیجا اور اس نے نافرمانیاں کرنی شروع کردیں۔ یہاں تک کہ اس نے سارے اعمال غرق کر دئے۔ فَصُرْهُنَّ (کے معانی ہیں):ان کو کاٹ دے۔
(تشریح)(سعید) ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: شریک بن ابی نمر نے مجھ سے بیان کیا کہ عطاء بن یسار اور عبدالرحمٰن بن ابی عَمرہ انصاری دونوں نے کہا کہ ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جس کو ایک کھجور یا دو کھجوریں لوٹا دیں اور نہ وہ جس کو ایک لقمہ یا دو لقمے لوٹا دیں۔ بلکہ مسکین تو وہ شخص ہے جو سوال کرنے سے بچتا رہے اور اگر تم چاہو (قرآن میں) پڑھو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ قول: وہ لوگوں سے پیچھے پڑ کر نہیںمانگتے۔
(تشریح)بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے روایت کی کہ میں نے ابوالضحیٰ سے سنا۔ وہ مسروق سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ مسروق نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: جب سورة البقرۃ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول ﷺ باہر آئے اور اُن آیات کو مسجد میں پڑھ کر سنایا اور آپؐ نے شراب کی خریدو فروخت بھی حرام کردی۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابوالضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپؓ فرماتی تھیں: جب سورة البقرۃ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کو مسجد میں پڑھ کر سنایا اور آپؐ نے شراب کی خرید و فروخت بھی حرام کردی۔
(تشریح)اور محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے کہا:سفیان سے مروی ہے۔ انہوں نے منصور اور اعمش سے، ان دونوں نے ابوالضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ فرماتی تھیں: جب سورة البقرۃ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہمارے سامنے وہ پڑھیں۔ پھر آپؐ نے شراب کی تجارت بھی حرام کی۔