بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
قبیصہ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم (بن سلیمان) سے، عاصم نے شعبی سے، شعبی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: آخری آیت جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی سود کی آیت ہے۔
(تشریح)محمد نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ بن محمد) نفیلی نے ہم سے بیان کیا کہ مسکین (بن بکیر حرانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے خالد حذاء سے، خالد نے مروان اصفر سے، مروان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے اور وہ حضرت (عبداللہ) ابن عمرؓ ہیں روایت کی کہ آیت وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ منسوخ کردی گئی تھی۔
(تشریح)اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا۔ روح (بن عبادہ) نے ہمیں خبردی کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے، خالد نے مروان اصفر سے، مروان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا۔ (مروان) کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں وہ حضرت ابن عمر ؓ ہیں۔ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ جو آیت ہے وہ کہتے تھے: اس کو اس آیت نے جو اس کے بعد ہے منسوخ کردیا۔(یعنی لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا)
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ابراہیم تستری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی ہےجس کی بعض (آیتیں تو) محکم آیتیں ہیں جو اس کتاب کی جڑ ہیں اور کچھ اور(ہیں جو) متشابہ ہیں۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ تو فتنہ کی غرض سے اور اس (کتاب) کو (اس کی حقیقت سے) پھیر دینے کے لئے ان (آیات) کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جو اس (کتاب) میں سے متشابہ ہیں حالانکہ اس کی تفسیر کو سوائے اللہ کے اور علم میں کامل دستگاہ رکھنے والوں کے(کہ) جو کہتے ہیں (کہ) ہم اس ( کلام) پر ایمان رکھتے ہیں (اور جو کہتے ہیں کہ یہ) سب ہمارے ربّ کی طرف سے ہی ہے کوئی نہیں جانتا اور عقلمندوں کے سوا کوئی بھی نصیحت حاصل نہیں کرتا۔ فرماتی تھیں: یہ پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (عائشہؓ!) جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو قرآن کی ایسی آیات کے پیچھے لگتے ہیں جو متشابہ ہوں تو وہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) کیا ہے۔ یعنی ان سے بچو۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو ضرور تکلیف دیتا ہے۔ اس لئے وہ شیطان کی تکلیف دینے کی وجہ سے چلا کرروتا ہے۔ سوائے مریم اور اس کے بیٹے کے۔ یہ روایت بیان کرکے حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: میں اسے اور اس کی ذریت کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں رکھتی ہوں۔
(تشریح)حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے خواہ مخواہ (جھوٹی) قسم کھائی جس کے ذریعہ سے وہ ایک مسلمان شخص کا مال لینا چاہتا ہے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق سے یہ آیت نازل کی: جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں ان لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا اور قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک ٹھہرائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔ ابووائل کہتے تھے: اتنے میں حضرت اشعث بن قیس (کندیؓ) بھی آگئے اور کہنے لگے: ابوعبدالرحمٰنؓ تم سے کیا بیان کررہے ہیں؟ ہم نے کہا: ایسا ایسا ۔ انہوں نے کہا: یہ آیت میرے متعلق نازل کی گئی ۔ میرا ایک کنواں تھا میرے چچا زاد بھائی کی زمین میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری شہادت پیش ہو ورنہ اس سے قسم لی جائے گی۔ میں نے کہا:یا رسول اللہ ! تب تو وہ قسم کھا جائے گا۔ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یونہی قسم کھاتا ہےجس کے ذریعہ سے وہ مسلمان شخص کا مال مارنا چاہتا ہے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے خواہ مخواہ (جھوٹی) قسم کھائی جس کے ذریعہ سے وہ ایک مسلمان شخص کا مال لینا چاہتا ہے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق سے یہ آیت نازل کی: جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں ان لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا اور قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک ٹھہرائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔ ابووائل کہتے تھے: اتنے میں حضرت اشعث بن قیس (کندیؓ) بھی آگئے اور کہنے لگے: ابوعبدالرحمٰنؓ تم سے کیا بیان کررہے ہیں؟ ہم نے کہا: ایسا ایسا ۔ انہوں نے کہا: یہ آیت میرے متعلق نازل کی گئی ۔ میرا ایک کنواں تھا میرے چچا زاد بھائی کی زمین میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری شہادت پیش ہو ورنہ اس سے قسم لی جائے گی۔ میں نے کہا:یا رسول اللہ ! تب تو وہ قسم کھا جائے گا۔ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یونہی قسم کھاتا ہےجس کے ذریعہ سے وہ مسلمان شخص کا مال مارنا چاہتا ہے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔
علی نے جو کہ ابوہاشم کے بیٹے ہیں ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ہشیم سے سنا کہ عوام بن حوشب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم بن عبدالرحمٰن سے، ابراہیم نے حضرت عبدللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ ایک شخص نے بازار میں تجارتی سامان رکھا اور اس کے متعلق قسمیں کھانے لگا کہ فلاں نے اس کا اتنا کچھ مول دیا تھا جو کہ نہیں دیا گیا تھا تا کہ وہ کسی مسلمان شخص کو اس میں پھنسا لے۔ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں ان لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا اور قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک ٹھہرائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔
نصر بن علی بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن داؤد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی کہ دو عورتیں ایک گھر میں یا کوٹھڑی میں بیٹھی (موزہ) سی رہی تھیں۔ (اتنے میں) ان میں سے ایک باہر نکلی اور اس کی ہتھیلی میں (موزہ سینے کا) سُوا چبھ گیا۔ اس نے دوسری پر دعویٰ کیا۔ یہ مقدمہ (حضرت عبداللہ) بن عباسؓ کے سامنے پیش ہوا۔ حضرت ابن عباسؓ نے (یہ سن کر) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے ہر دعویٰ پر دلایا جاتا تو بہت سے لوگوں کے خون اور مال یونہی ضائع ہوجاتے۔ اس عورت کو اللہ کے نام سے نصیحت کرو اور اس کو یہ آیت پڑھ کر سناؤ: اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ۔انہوں نے اس کو نصیحت کی اور اس نے اقرار کرلیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم مدعا علیہ پر ہوتی ہے۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن یوسف) سے، ہشام نے معمر سے روایت کی۔اور عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا، کہا: حضرت ابن عباسؓ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: ابوسفیان نے مجھ سے بالمشافہ بات کی، کہا: میں اس میعادی صلح کے دوران جو میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان تھی چلا گیا، کہا: اس اثنا میں کہ مَیں شام میں تھا، نبی ﷺ کا ایک خط ہرقل کے پاس لایا گیا، کہا: اور دحیہ کلبیؓ وہ خط لائے اور انہوں نے وہ بصریٰ کے سردار کے سپرد کیا اور بصریٰ کے سردار نے ہرقل کو پہنچا دیا، کہا: ہرقل نے پوچھا: کیا اس شخص کی قوم میں سے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے کوئی یہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ ابوسفیان نے کہا: چنانچہ قریش کے چند لوگوں سمیت مجھے بلایا گیا۔ ہم ہرقل کے پاس آئے تو ہمیں اس کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ ہرقل نے پوچھا: تم میں سے کون اس شخص کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابوسفیان نے بیان کیا کہ میں نے کہا: میں ہوں۔ تب انہوں نے مجھے اس کے سامنے بٹھایا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھایا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلایا اور اس سے کہا: ان لوگوں سے کہو کہ میں اس سے اس شخص کے متعلق جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے پوچھنے لگا ہوں۔ اگر اس نے مجھ سے جھوٹ کہا تو تم اس کو جھٹلا دینا۔ ابوسفیان کہتے تھے : اللہ کی قسم! اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میرے ساتھی میرے متعلق جھوٹ کا چرچا کریں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے پوچھوتم میں اس کا خاندان کیسا ہے؟ کہتے تھے، میں نے کہا: وہ ہم میں خاندانی ہے۔ ہرقل نے پوچھا: کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ کہتے تھے، میں نے کہا: نہیں۔ کہنے لگا: تو کیا پیشتر اس کے کہ وہ دعویٰ کرتا جو اس نے کیا تم اسے جھوٹ سے متہم کرتے تھے؟ میں نے کہا: نہیں۔اس نے پوچھا: کیا لوگوں میں سے بڑے بڑے اس کی پیروی کرتے ہیں، یا اُن میں سےکمزور؟ کہتے تھے، میں نے کہا: (بڑے نہیں) بلکہ ان میں سے کمزور۔ پوچھا:کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟ کہتے تھے، میں نے کہا: نہیں، بڑھ رہے ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا ان میں سے کوئی اپنے دین سے اس میں داخل ہونے کے بعد دین سے نفرت کرنے کی وجہ سے مرتد بھی ہوتا ہے؟ کہتے تھے، میں نے کہا: نہیں۔ اس نے پوچھا: کیا تم نے اس سے جنگ بھی کی؟ کہتے تھے، میں نے کہا: ہاں۔ اس نے پوچھا: پھر اس سے تمہاری لڑائی کیسی رہی؟ کہتے تھے، میں نے کہا: لڑائی ہمارے اور اس کے درمیان ڈول کی طرح ہے۔ کبھی اسے ہم سے نقصان پہنچتا ہے، کبھی ہم اس سے نقصان اُٹھاتے ہیں۔ پوچھا: کیا وہ عہد شکنی بھی کرتا ہے؟ کہتے تھے، میں نے کہا: نہیں۔ اور اب ہم اس کی طرف سے ایک میعادی صلح میں ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اس میں وہ کیا کچھ کرنے والا ہے۔ ابوسفیان کہتے تھے: اللہ کی قسم! کسی بات نے موقع نہیں دیا کہ اس میں اپنی طرف سے کچھ کہوں سوائے اس بات کے۔ اس نے پوچھا: کیا کسی نے اس سے پہلے یہ دعویٰ کیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر اس کے بعد اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے کہہ میں نے تم سے اس کے خاندان سے متعلق پوچھا تھا کہ وہ تم میں کیسا ہے؟ تو تم نے کہا ہے کہ وہ ہم میں خاندانی ہے اور رسول بھی اس طرح اپنی قوم کے شریف خاندانوں ہی میں سے ہوتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا: کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ تو تم نے کہا: نہیں ۔ میں نے خیال کیا: اگر اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ ہوا ہو تو میں سمجھتا کہ ایک ایسا شخص ہے جو اپنے باپ دادوں کی بادشاہت کا خواہاں ہے اور میں نے تم سے اس کے پیرؤوں کی بابت پوچھاتھا: کیا وہ لوگوں میں سے کمزور ہیں یا ان میں سے بڑے بڑے لوگ؟ تو تم نے کہا: نہیں، ان میں سے کمزور اور یہی لوگ رسولوں کے پیرو ہوتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا: کیا جو اس نے دعویٰ کیا ہے اس دعویٰ کرنے سے پہلے تم اس کو جھوٹ سے متہم کرتے تھے؟ تم نے کہا: نہیں۔ میں اس سے سمجھ گیا کہ وہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ لوگوں پر تو جھوٹ ترک کرے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے اور میں نے تم سے پوچھا: کیا ان میں سے کوئی اپنے دین سے اس میں داخل ہونے کے بعد اس دین سے نفرت کرنے کی وجہ سے مرتد بھی ہوتا ہے؟ تم نے کہا: نہیں، اور ایمان کی یہی حالت ہوتی ہے جب وہ دلوں کی بشاشت میں سما جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا: کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں تو تم نےکہا: بڑھ رہے ہیں اور ایمان کا یہی حال ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ کمال کو پہنچ جائے اور میں نے تم سے پوچھا تھا: کیا تم نے کبھی اس سے لڑائی بھی کی؟ تم نے کہا کہ ہم نے اس سے جنگ کی اور جنگ تمہارے اور اس کے درمیان ڈول کی طرح ہے۔ کبھی وہ تم سے نقصان اُٹھاتا ہے اور کبھی تم اس سے نقصان اٹھاتے ہو اور رسولوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے مگر آخر انجام انہی کا ہوتا ہے اور پھر میں نے تم سے پوچھا: کیا وہ عہد شکنی کرتا ہے؟ تم نے کہا: نہیں۔ اسی طرح رسولوں کا حال ہوتا ہے کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھا: کیا اس سے پہلے کسی نے یہ دعویٰ کیا؟ تم نے کہا: نہیں۔ میں نے خیال کیا کہ اگر اس سے پہلے کوئی یہ دعویٰ کرتا تو میں سمجھتا ایک شخص ہے کہ جس نے ایسی بات کی تقلید کی ہے جو اس سے پہلے بھی کہی گئی۔ ابوسفیان کہتے تھے: اس کے بعد اس نے پوچھا: وہ کس بات کا تمہیں حکم دیتا ہے؟ کہتے تھے، میں نے کہا:وہ ہمیں نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے اور صلہ رحمی کرنے اور بدیوں سے بچنے کا حکم کرتا ہے۔ ہرقل کہنے لگا: جو کچھ تم نے اس کے بارے میں کہا ہے اگر یہ سچ ہے تو یقیناً وہ نبی ہے اور میں جانتا تھا کہ وہ آنے والا ہے مگر میں یہ خیال نہیں کرتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا اور اگر میں جانتا کہ میں اس کے پاس صحیح سالم پہنچ جاؤں گا تو میں ضرور اس کی ملاقات پسند کرتا اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے پاؤں دھوتا اور ضرور ضرور اس کی بادشاہت اس زمین تک پہنچ جائے گی جو میرے پاؤں کے نیچے ہے۔ ابوسفیان کہتے تھے: پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا اور اس کو پڑھا تو اس میں یہ مضمون تھا: (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔(پڑھتا ہوں) محمدؐ کی طرف سے جو اللہ کا رسول ہے، ہرقل کی طرف جو رومیوں کا سردار ہے۔ جس نے ہدایت (صحیح راستے) کی پیروی کی، اس پر سلامتی ہو۔ اما بعد میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول کرلوسلامتی میں رہو گے اور اسلام قبول کرو، اللہ تمہیں دوہرا اَجر دے گا۔ اگر تم پھر گئے تو یاد رکھو رعایا کا وبال بھی تم پر پڑے گا اور تو کہہ: اے اہل کتاب(کم سے کم) ایک ایسی بات کی طرف تو آ جاؤ جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان برابر ہے(اور وہ یہ ہے) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اُس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم اللہ کو چھوڑ کرآپس میں ایک دوسرے کو ربّ بنایا کریں۔ پھر اگر وہ پھر جائیں تو ان سے کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرمانبردار ہیں۔ جب ہرقل اس خط کے پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند ہوئیں اور شور بہت ہوا اور ہمارے متعلق حکم دیا گیا اور ہم نکال دئیے گئے۔ ابوسفیان کہتے تھے: جب ہم نکلے میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابو کبشہ کے بیٹے کی تو دھاک بیٹھ گئی ہے۔ اس سے تو اَب بنو اَصفر کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔ میں اس وقت سے رسول اللہﷺ کے سلسلے کی نسبت یقین کئے رہا کہ وہ ضرور غالب ہوگا۔ یہاں تک کہ یہ دن آیا اللہ نے مجھ کو اسلام میں داخل کیا۔ زہری کہتے تھے : ہرقل نے رومیوں کے بڑے بڑے سرداروں کو بلایا۔ ان کو اپنے ایک محل میں جمع کیا اور کہنے لگا: رومی لوگو ! کیا تمہیں کامیابی اور سیدھے راستے پر آخری زمانے تک رہنے کی خواہش ہے اور یہ کہ تمہاری بادشاہت قائم رہے۔ کہتے تھے: یہ سن کر وہ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے مگر انہوں نے ان کو بند پایا۔ ہرقل نے کہا: ان کو میرے پاس لے آؤ۔ ان کو بلایا اور کہنے لگا: میں نے تو صرف یہ آزمایا تھا کہ تم اپنے دین پر مضبوط بھی ہو۔ سو میں نے تم سے یہ بات دیکھ لی ہے جو میں چاہتا تھا۔ یہ سن کر انہوں نے اس کے سامنے سجدہ کیا اور اس سے خوش ہوگئے۔
(تشریح)