بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے ۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت ابوطلحہؓ مدینہ کے سب انصاریوں سے زیادہ کھجو روں کے درخت رکھتے تھے اور ان کی جائیداد میں سے ان کو سب سے زیادہ پیارا بیرحاء کا باغ تھا اور وہ مسجد کے سامنے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں جایا کرتے تھے اور اس کا عمدہ پانی پیتے۔ جب یہ آیت نازل کی گئی: تم ہرگز نیکی حاصل نہیں کرسکو گے تا وقتیکہ تم اس سے خرچ نہ کرو جو تمہیں پیاری ہے۔ حضرت ابوطلحہؓ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم ہرگز نیکی حاصل نہیں کرسکو گے تا وقتیکہ تم اس سے خرچ نہ کرو جو تمہیں پیاری ہے اور میری جائیدادوں میں سے سب سے پیار ا مجھے بیرحاء ہے اور یہ باغ اللہ کے لئے صدقہ ہے۔ میں اس کے ثواب کی امید رکھتا ہوں اور یہ کہ اللہ کے پاس (میرے لئے) بطور ذخیرہ ہوگا۔ اس لئے یا رسول اللہ ! جہاں اللہ آپ کو مناسب سمجھائے وہاں صرف کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واہ واہ یہ تو بڑا اچھا مال ہے یہ تو بڑا اچھا مال ہے اور میں نے سن لیا ہے جو تم نے کہاہے۔ اور میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اس کو رشتہ داروں میں تقسیم کرو۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا: یا رسول اللہ ! میں یہی کروں گا۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہؓ نے اس مال کو اپنے رشتہ داروں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کیا۔ عبداللہ بن یوسف اور روح بن عبادہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے کہ یہ تو فائدہ دینے والا مال ہے۔ یحيٰ بن یحيٰ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے مالک سے یوں پڑھا ہے: مَالٌ رَايِحٌ یعنی بہت عمدہ مال۔
محمد بن عبداللہ انصاری نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ثمامہ سے، ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت انسؓ نے کہا کہ حضرت ابوطلحہؓ نے وہ باغ حضرت حسانؓ اور حضرت اُبیّ کو دے دیا۔ حالانکہ میں ان کا بہت قریبی رشتہ دار ہوں مگر میرا اُس میں کوئی حصہ نہ رکھا۔
(تشریح)محمد بن یوسف (فریابی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے میسرہ (بن عمار اشجعی) سے، میسرہ نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ؎ کی تفسیر سے متعلق کہا: تم لوگوں کے لئے سب سے بہتر ہو۔ تم لوگوں کو لاتے ہو کہ ان کی گردنوں میں زنجیریں پڑی ہوتی ہیں اور پھر وہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔
ابراہیم بن منذر نے مجھے بتایا کہ ابوضمرہ نے مجھ سے بیان کیا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ یہود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لائے جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپؐ نے ان سے پوچھا: جو تم میں سے زنا کرے تم اس کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اُن کا منہ کالا کرتے ہیں اور اُن کو مارتے ہیں۔ اس پر آپؐ نے پوچھا: کیا تورات میں تم رجم کا حکم نہیں پاتے؟ انہوں نے کہا: ہم تو اس میں ایسا حکم بالکل نہیں پاتے۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے ان سے کہا: تم نے جھوٹ کہا ہے۔ اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو۔ آخر تورات کے ایک بڑے قاری نے جو ان کو پڑھایا کرتا تھا اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھ دیا اور جو اس کے ہاتھ کے آگے اور پیچھے آیتیں تھیں وہ پڑھنے لگا اور رجم کی آیت نہیں پڑھتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے اس کے ہاتھ کو رجم کی آیت سے کھینچ کر ہٹایا اور کہا: یہ کیا ہے؟ جب انہوں نے دیکھا، کہنے لگے: یہ رجم کی آیت ہے۔ چنانچہ آپؐ نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا اور وہ دونوں اس جگہ کے قریب رجم کئے گئے جہاں مسجد کے پاس جنازے رکھے جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے تھے: میں نے اس عورت کے یار کو دیکھا کہ وہ اس پر جھکا جاتا تھااور اس کو پتھروں سے بچاتا تھا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہتے تھے: عمرو (بن دینار) نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہتے تھے: ہمارے متعلق آیت اِذْ هَمَّتْ طَّآىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِيُّهُمَا نازل ہوئی۔ کہتے تھے: ہم دو گروہ تھے، بنو حارثہ اور بنو سلمہ اور ہم یہ پسند نہیں کرتے۔اور سفیان نے ایک دفعہ یوں کہا اور مجھے اس سے خوشی نہیں کہ یہ آیت نہ نازل ہوتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ ان دونوں کا مددگار ہے۔
(تشریح)حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ معمر نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: سالم نے مجھے بتایا کہ ان کے باپ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کی آخری رکعت میں رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو انہوں نے آپؐ کو یوں دعا کرتے سنا: اے اللہ! فلاں اور فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور رکھیو۔ یہ آپؐ نے سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ (یعنی سن لی اللہ نے اس شخص کی جس نے اس کی حمد کی۔ اے ہمارے ربّ سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں۔) کے بعد کہا۔ اس لئے اللہ نے یہ آیت نازل کی: تیرااس معاملہ میں کچھ (دخل) نہیں۔ چاہے تو انہیں عفو و رحم سے معاف کرے یا انہیں سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ اسحاق بن راشد نے بھی یہ حدیث زہری سے روایت کی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن مسیب اور ابی سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کے خلاف دعا یا کسی کے لئے دعا کا ارادہ کرتے تو بسا اوقات رکوع کے بعد جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ (یعنی سن لی اللہ نے اس شخص کی جس نے اس کی حمد کی۔ اے اللہ اے ہمارے ربّ سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں۔) کہہ چکتے تو بحالت قیام دعا کرتے، کہتے: اے اللہ ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ ! مضر کو سختی سے لتاڑ اور ان کے سالوں کو یوسف کے سالوں کی طرح بنا۔ یہ دعا بلند آواز سے کرتے اور اپنی کسی نماز میں یعنی صبح کی نماز میں عرب کے بعض قبیلوں کا نام لے کر یوں کہتے تھے: اے اللہ! فلاں اور فلاں قبیلہ کو رحمت سے دور رکھیو۔ آخر اللہ نے یہ آیت نازل کی: تیرا اِس معاملہ میں کچھ (دخل) نہیں۔
(تشریح)عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر نے ہمیں بتایا۔ ابواسحاق نے ہم سے بیان کیا،کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا، کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اُحد کے دن پیادہ فوج پر حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کو سردار مقرر کیا اور یہ شکست کھا کر بھاگے چلے آئے۔ تو یہ وہ ہے (جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کہ رسول ان کے پچھلے حصہ میں (کھڑا) انہیں بلا رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوائے بارہ آدمیوں کے کوئی باقی نہ رہا تھا۔
(تشریح)اسحاق بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن ابو یعقوب (بغدادی) نے مجھے بتایا کہ حسین بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) حضرت انسؓ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابوطلحہؓ کہتے تھے: ہم پر اونگھ طاری ہوگئی جبکہ ہم اُحد کے دن اپنی اپنی جگہ صفوں میں تھے۔ کہتے تھے: میری تلوار میرے ہاتھ سے گرنے لگی۔ میں اس کو پکڑتا اوروہ گر پڑتی اور میں پھر اس کو پکڑلیتا۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا۔ میں سمجھتا ہوں انہوں نے یہ کہا کہ ابوبکر (بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حصین (عثمان بن عاصم) سے، انہوں نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ ’’اللہ ہی ہمارے لیے کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔‘‘ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا جس وقت وہ آگ میں ڈالے گئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی کہا تھا جس وقت لوگوں نے کہا: ان لوگوں نے تمہارے لئے بڑی تیاری کی ہے اس لئے ان سے ڈرو ۔ تو اس بات نے ان کو ایمان میں اور بڑھا دیا اور انہوں نے کہا: اللہ ہی ہمارے لیے کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔