بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ (انہوں نے کہا:) ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو وہ ان کے ساتھ ایک بستی میں داخل ہوئے۔ وہاں بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا (راوی نے یہ کہا کہ) جابروں میں سے ایک جابر رہتا تھا۔ اسے بتایا گیا کہ حضرت ابراہیمؑ ایک عورت لے کر آئے ہیں جو نہایت حسین ہے تو بادشاہ نے حضرت ابراہیمؑ سے دریافت کرایا کہ یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: میری بہن۔ پھر حضرت ابراہیمؑ حضرت سارہؑ کے پاس لَوٹ آئے اور کہا: میری بات کو نہ جھٹلانا کیونکہ میں نے ان کو بتایا ہے کہ آپ میری بہن ہیں۔ بخدا زمین پر میرے اور آپ کے سوا اور کوئی مومن نہیں اور انہوں نے حضرت سارہ کو اس کے پاس بھیج دیا۔ وہ بادشاہ حضرت سارہ کے پاس آیا اور وہ اُٹھیں اور وضو کرکے نماز پڑھنے لگیں اور دُعا کی کہ اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور خاوند کے سِوا اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا ہے تو تُو کافر کو مجھ پر قابو نہ دے۔ اس پر وہ پکڑ میں آگیا اور بیہوش ہو کر خراٹے لینے لگا اور زمین پر پائوں مارنے لگا۔ اعرج نے کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا: حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ حضرت سارہ نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو کہا جائے گا کہ اس عورت نے اس کو مار ڈالا ہے۔ تب اس کی غشی دور کردی گئی۔ پھر وہ اُٹھ کر ان کے پاس گیا اور وہ اُٹھیں اور وضو کرکے نماز پڑھنے لگیں اور دُعا کرتی تھیں کہ اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور اپنے خاوند کے سوا اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا ہے تو تو اس کافر کو مجھ پر قابو نہ دے۔ چنانچہ وہ دوبارہ پکڑا گیا اور بیہوش ہو کر خراٹے لینے لگا، اور حالت یہ تھی کہ اپنا پائوں زمین پر مارتا تھا۔ عبدالرحمن نے کہا: ابوسلمہ کہتے تھے کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ حضرت سارہ دعا کرنے لگیں کہ اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو کہا جائے گا کہ اس کو اس عورت نے قتل کردیا ہے۔ دوسری بار بھی اسے چھوڑ دیا گیا یا تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا۔ تب (جابر بادشاہ) کہنے لگا: بخدا تم لوگوں نے میرے پاس شیطان کو بھیجا ہے۔ اسے ابراہیمؑ کے پاس واپس بھیج دو اور اس کو آجر ( یعنی حضرت ہاجرہ) دے دو۔ چنانچہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس واپس آئیں اور کہنے لگیں: آپؑ کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو خوار کیا اور ایک کنیز بھی بطور خادمہ دی۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ سعد بن ابی وقاصؓ اور عبد بن زمعہ ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑے۔ سعدؓ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے۔ اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔ آپؐ اس کی شکل دیکھیں اور عبد بن زمعہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کے بچھونے پر اُن کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی شکل دیکھی تو عتبہ سے کھلی مشابہت پائی اور فرمایا: عبد! وہ تمہارا ہے۔ بچہ اُس کا ہوتا ہے جس کے بچھونے پر پیدا ہو اور بدکار کے لئے پتھر ہیں۔ اے سودہ بنت زمعہ! اس سے پردہ کیا کرو۔ چنانچہ حضرت سودہؓ نے پھر اُسے کبھی نہیں دیکھا۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا۔ غندر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سعد (بن ابراہیم) سے، سعد نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے صہیبؓ سے کہا: اللہ کی ناراضگی سے بچو اور اپنے ماں باپ کے سِوا کسی اور کی طرف منسوب نہ ہو۔ حضرت صہیبؓ نے کہا: مجھے ایسی بات کہنے میں کوئی خوشی نہیں، خواہ مجھے کتنا ہی مال ملے۔ بات دراصل یہ ہے کہ مجھے بچپن میں (رومی لوگ) چُرا لے گئے تھے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت حکیم بن حزامؓ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ مجھے ان کاموں کے متعلق بتائیے، جنہیں میں زمانہ جاہلیت میں نیکی کی خاطر کیا کرتا تھا۔ (راوی کہتا ہے کہ حضرت حکیم بن حزامؓ نے الفاظ) کُنْتُ أَتَحَنَّثُ کہے تھے یا أَتَحَنَّتُ بِھَا کہے۔ یعنی صلہ رحمی، غلاموں کی آزادی اور صدقہ و خیرات؛ کیا ان کا مجھے ثواب ملے گا۔ حضرت حکیم رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آپؓ ان نیکیوں کی وجہ سے اسلام لائے ہیں جو آپؓ پہلے کر چکے ہیں۔
(تشریح)زُہیر بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا، کہا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ صالح (بن کیسان) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ابن شہاب نے مجھ سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے ان کو خبر دی، (کہا:) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو آپؐ نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ انہوں نے کہا کہ وہ تو مردار ہے۔ آپؐ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا ہی حرام ہے۔
(تشریح)قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے (سعید) بن مسیب سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قریب ہے کہ ابن مریمؑ ضرور تم میں نازل ہوں۔ وہ بطور حکم عادل ہوں گے جو صلیب توڑ ڈالیں گے اور سؤر قتل کریں گے اور جنگ موقوف کریں گے اور مال کی اس قدر بہتات ہوگی کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔
(تشریح)(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ ہم سے سفیان (بن عیینہ) نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ طائوس نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت عمرؓ کو اطلاع پہنچی کہ فلاں نے شراب بیچی ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فلاں کو ہلاک کرے۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ یہود کو تباہ کرے۔ ان پر چربیاں حرام کی گئی تھیں تو انہوں نے وہ پگھلائیں اور بیچیں۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا کہ یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبر دی۔ (انہوں نے کہا:) سعید بن مسیب سے میں نے سنا۔ وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ یہود کو تباہ کرے ان پر چربیاں حرام کی گئی تھیں تو انہوں نے وہ بیچیں اور ان کی قیمتیں کھائیں۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: قَاتَلَُھُمُ اللّٰہُ اللہ کی ان پر لعنت ہو۔ قُتِلَ اس پر لعنت کی گئی۔ الْخَرَّاصُوْنَ جھوٹ بولنے والے۔
(تشریح)عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہم کو بتایا کہ عوف نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سعید بن ابی الحسن (بصری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا۔ اتنے میں ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: ابوالعباسؓ ! میں ایک انسان ہوں، میری روزی صرف میرے ہاتھ کی کاریگری سے پیدا ہوتی ہے اور میں یہ تصویریں بناتا ہوں۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: میں تم سے وہی بات بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی۔ میں نے آپؐ سے سنا، فرماتے تھے: جس نے کوئی تصویر بنائی تو اللہ تعالیٰ اُسے سزا دے گا کہ اس میں رُوح بھی ڈالے اور وہ اس میں کبھی نہ ڈال سکے گا۔ (یہ سن کر) اُس شخص کا سانس پھول گیا، (دَم رُکنے لگا) اور اُس کا چہرہ زرد ہوگیا۔ (حضرت ابن عباسؓ نے) کہا: افسوس تجھ پر؛ اگر تو نہیں مانتا اور تم نے تصویر بنانی ہی ہے تو درخت کی تصویر بنائو۔ ہر اُس شئے کی تصویر بنا جس میں روح نہیں۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس سے یہی ایک (حدیث) سنی ہے۔
(تشریح)مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحی سے، ابوالضحی نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب سورئہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو نبی ﷺ باہر آئے اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام قرار دی گئی ہے۔
(تشریح)