بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 76 hadith
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا یحیٰ بن سعید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ابو تیاح نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے حضرت انس سے، حضرت انس نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: آسانی کرو سختی نہ کرو اور خوشی کی باتیں سنایا کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔
(تشریح)Anas (r.a) narrated from the Prophet (sa) that he said: ‘Make things easy [for people] and do not complicate them. Give [them] good news and do not repel them [from religion].’
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا۔ نے کہا کہ جریر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابو وائل سے روایت کی۔ انہوں نے کہا حضرت عبداللہ لوگوں کو ہر جمعرات نصیحت کیا کرتے تھے تو انہیں ایک آدمی نے کہا کہ اے ابو عبدالرحمن میں تو چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں ہر روز نصیحت کیا کریں۔ انہوں نے کہا: دیکھو مجھے تو یہ بات تمہیں اس سے بد دل کردوں اور میں نصیحت میں روکتی ہے (اور یہ) کہ میں نا پسند کرتا ہوں کہ ویسے ہی خیال رکھتا ہوں جیسا کہ نبی ﷺ اس میں ہمارا خیال رکھتے تھے۔ اس ڈر سے کہ کہیں ہم اُکتا نہ جائیں۔
(تشریح)Abū Wāʾil narrated: ‘ʿAbd Allāh (r.a) [ibn Masʿūd] used to exhort people every Thursday. One day, a man said to him: “O Abū ʿAbd al-Raḥmān! I wish that you would exhort us every day.” He said: “What keeps me from doing so is that I do not wish to bore you, I take care in exhorting you just as the Prophet (sa) did with us, out of fear that we might grow weary”.’
ہم سے سعید بن غفیر نے بیان کیا، کہا: وہب نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس ابن شہاب سے روایت کی۔ کہتے تھے کہ حمید بن عبدالرحمن نے کہا: میں نے حضرت معاویہ کو تقریر کرتے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: اللہ جس شخص کی بہتری چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ ہی دیتا ہے اور ہمیشہ یہ امت اللہ کے حکم پر قائم رہے گی۔ اس کے مخالف اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر آ جائے۔
(تشریح)Ḥumaid ibn ʿAbd al-Raḥmān said: ‘I heard Muʿāwiyah delivering a sermon, saying: “I heard the Prophet (sa) say: ‘One whom Allāh desires good for, He grants him understanding of religion. I am simply a distributor; it is Allāh Who gives. As long as this Ummah continues to adhere to the commandments of Allāh, they will not be harmed by those who oppose them, until the arrival of Allāh’s decree’.”’
ہم سے علی (بن عبد اللہ) نے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ وہ کہتے تھے کہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ (مکہ سے) مدین تک گیا۔ میں نے ان کو سوائے ایک حدیث کے رسول اللہ ﷺ سے اور کوئی حدیث روایت کرتے نہیں سنا۔ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے پاس تھے۔ آپ کے پاس کھجور کا ایک بھہ لایا گیا آپ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کی مثال مسلمان کی سی ہے۔ اس پر میں نے چاہا کہ کہوں: وہ کھجور ہے۔ مگر میں دیکھتا تھا کہ میں لوگوں میں سے سب سے چھوٹی عمر کا ہوں۔ اس لئے میں خاموش رہا۔ آخر نبی صلی اللہ ہم نے فرمایا: وہ کھجور ہے۔
(تشریح)Mujāhid narrated: ‘I accompanied Ibn ʿUmar (r.a) to Madīnah and did not hear him narrate any ḥadīth from the Messenger of Allāh (sa) except one. He said: “We were in the company of the Prophet (sa) when the spathe [of a date-tree] was brought to him. He said: ‘Indeed, among the trees there is one which resembles a Muslim.’ I wished to say it was the date-tree, but being the youngest amongst them, I remained silent. Then the Prophet (sa) said: “It is the date-tree”.’
ہم سے حمیدی نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا جو بات زُہری نے ہمیں بتلائی تھی، اسماعیل بن ابی خالد نے مجھ سے اس کے برعکس کچھ اور بیان کیا۔ اسماعیل کہتے تھے: میں نے قیس ن ابی حازم سے سنا۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے سنا وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: صرف دو ہی باتوں میں رشک کرنا جائز ہے۔ ایک تو وہ شخص جسے اللہ مال دے۔ پھر اس کو بر محل بے دریغ خرچ کرنے کی طاقت دے اور ایک وہ شخص جس کو اللہ نے حکمت دی تو وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہو (اور عمل کرتا ہو) اور اوروں کو بھی سکھاتا ہو۔
(تشریح)ʿAbd Allāh ibn Masʿūd (r.a) said that the Prophet (sa) said: ‘There should be no envy except in two [cases]: a man to whom Allāh has granted wealth and he is empowered to spend it in the right way, and a man to whom Allāh has granted wisdom, so he judges by it and teaches it to others.’
مجھ سے محمد بن غر یہ زہری نے بیان کیا، کہا: یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے صالح (یعنی ابن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی (کہ انہوں نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عبد اللہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے (ان کو) بتلایا کہ وہ اور حُر بن قیس بن حصن فزاری حضرت موسی کے ساتھی کے بارے میں آپس میں جھگڑ پڑے۔ حضرت ابن عباس کہتے تھے: وہ خضر تھے۔ اتنے میں اُن کے پاس سے حضرت ابی بن کعب گزرے تو حضرت ابن عباس نے ان کو بلایا اور کہا کہ میں نے اور میرے اس ساتھی نے حضرت موسی کے اس ساتھی کے متعلق جس کی ملاقات کرنے کے لئے حضرت موسی نے راستہ دریافت کیا تھا، آپس میں اختلاف کیا ہے۔ کیا آپ نے نبی علی سے اس کے متعلق کچھ ذکر سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: حضرت موسی بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے۔ اسی اثناء میں آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کہ کیا آپ کسی کو جانتے ہیں جو آپ سے بڑھ کر عالم ہو۔ حضرت موسی نے جواب دیا: نہیں۔ اس پر الله نے حضرت موسی کو وحی کی: ہاں۔ ہمارا بندہ خضر (تم سے بڑھ کر عالم ہے) حضرت موسی نے ان تک پہنچے کا راستہ دریافت کیا۔ اللہ نے ان کے لئے مچھلی بطور نشان مقرر کر دی اور ان سے کہا گیا کہ جب تم پچھلی کھو بیٹھو تو واپس لوٹ آؤ۔ پھر تم جلدی ہی اس سے مل جاؤ گے اور حضرت موسی مچھلی کے اس نشان کے پیچھے پیچھے جو سمندر میں تھا؛ جاتے تھے۔ حضرت موسی کو ان کے نوجوان نے کہا: دیکھا آپ نے؟ ہم نے جب اس چٹان کے پاس آرام کیا تو میں مچھلی کو بھول گیا اور مجھے شیطان نے ہی بھلا دیا۔ حضرت موسی نے کہا: یہی تو وہ ہے جو ہم تلاش کر رہے تھے۔ اس پر وہ دونوں اپنے قدموں کے کھوج ڈھونڈتے واپس لوٹے اور خضر کو پا لیا۔ پھر ان کا وہی حال ہوا، جو اللہ عز وجل نے اپنی کتاب میں بیان کیا۔
(تشریح)Ibn ʿAbbās (r.a) narrated that he differed with al-Ḥurr ibn Qais ibn Ḥiṣn al-Fazārī about the companion of Moses. Ibn ʿAbbās said that it was al-Khaḍir. Ubayy ibn Kaʿb (r.a) happened to pass by, and Ibn ʿAbbās (r.a) called him and said: ‘I have differed with this friend of mine about the companion of Moses whom Moses sought to meet. Have you heard the Prophet (sa) mentioning anything about this matter?’ He said: ‘Yes, I heard the Messenger of Allāh (sa) saying: “Once when Moses (as) was sitting amongst the chiefs of the Israelites, a man came to him and asked: ‘Do you know anyone who is more learned than you?’ Moses (as) replied: ‘No.’ So Allāh revealed to Moses (as): ‘Certainly [there is]. Our servant al-Khaḍir [is more learned than you].’ Moses (as) sought directions to meet him. So, Allāh made the fish a sign for him, and it was said to him: ‘When you lose the fish, go back [to where you lost it] and you will encounter him [al-Khaḍir].’ So, he followed the signs of the fish in the sea. The young companion of Moses (as) said to him: ‘Did you see, when we betook ourselves to the rock for rest, and I forgot the fish – and none but Satan caused me to forget to mention it to you’ (Sūrat al-Kahf, 18:64). He said: ‘That is what we have been seeking.’ So, they both returned, retracing their footsteps (Sūrat al-Kahf, 18:65). Then they found al-Khaḍir and their story has been narrated by Allāh, the Mighty, the Majestic, in His Book’.”’
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عبد الوارث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: خالد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے گلے لگایا اور فرمایا: اے اللہ! اسے کتاب کا علم دے۔
(تشریح)Ibn ʿAbbās (r.a) narrated: ‘The Messenger of Allāh (sa) embraced me and supplicated: “O Allāh, grant him knowledge of the Book”.’
ہم سے اسماعیل بن ابی اولیس نے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ سے، عبید اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا اور اس وقت میں ابھی بلوغت کے قریب ہی پہنچا تھا اور رسول اللہ ﷺ منی میں بغیر کسی اوٹ کے نماز پڑھ رہے تھے تو میں صف کے کچھ حصہ کے سامنے سے گزرا اور میں نے گدھی کھلی چھوڑ دی کہ وہ کرتی رہے اور صف میں شامل ہو گیا اور میرا یہ فعل بُرا نہیں منایا گیا۔
ʿAbd Allāh ibn ʿAbbās (r.a) reported: ‘I came riding on a she-donkey, and at that time I was nearing the age of maturity. The Messenger of Allāh (sa) was offering Prayer at Miná with no wall in front of him. So I passed in front of some of the rows [of worshippers], sent the she-donkey to graze, and joined the row. No one disapproved of this.’
مجھ سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ابو مسیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: محمد بن حرب نے مجھے بتلایا۔ (انہوں نے کہا: ) زبیدی نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے زہری سے۔ زہری نے محمود ابن ربیع سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ مجھے نبی ﷺ کی ایک گھی یاد ہے جو آپ نے ایک ڈول سے (پانی لے کر) میرے منہ پر ڈالی تھی اور میں اس وقت پانچ سال کا تھا۔
(تشریح)Maḥmūd ibn al-Rabīʿ narrated: ‘I remember that when I was five years old, the Prophet (sa) once threw a mouthful of water from a bucket onto my face.’
ہم سے ابوالقاسم خالد بن نخلی نے جو مص کے قاضی تھے * بیان کیا، کہا: محمد بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: اوزاعی کہتے تھے زہری نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبید اللہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ انہوں نے اور حر بن قیس بن حصن فزاری نے آپس میں حضرت موسیٰ کے ساتھی کے بارے میں اختلاف کیا۔ ان کے پاس سے حضرت أبي بن کعب گزرے تو حضرت ابن عباس نے انہیں بلایا اور کہا: میں نے اور میرے اس ساتھی نے آپس میں حضرت موسیٰ کے اس ساتھی کے متعلق اختلاف کیا، جس کی ملاقات کرنے کے لئے حضرت موسی نے راستہ دریافت کیا تھا۔ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا حال بیان کرتے سنا؟ حضرت اُبی نے کہا: ہاں۔ میں نے نبی ﷺ کو اس کا حال بیان کرتے سنا۔ آپ نے فرمایا: ایک بار حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے کہ اس اثناء میں ان کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے پوچھا: کیا آپ کسی کو جانتے ہیں جو آپ سے بڑھ کر عالم ہو؟ حضرت موسٰی نے کہا: نہیں۔ اس پر اللہ عزوجل نے حضرت موسی کو وحی کی : ہاں، ہمارا بندہ خضر (تم سے بڑھ کر عالم ہے) تب انہوں نے اس سے ملنے کا راستہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مچھلی کو بطور نشان کے مقرر کیا اور ان سے کہا: جب تم مچھلی کھو بیٹھو تو لوٹ آؤ۔ تم جلد ہی اس سے مل جاؤ گے۔ حضرت موسیٰ یہ مچھلی کے نشان کے پیچھے پیچھے جو سمندر میں تھا، جاتے تھے۔ حضرت موسیٰ کے نوجوان نے حضرت موسیٰ سے کہا دیکھا آپ نے! جب ہم نے چٹان کے پاس آرام کیا تھا تو میں مچھلی کو بھول گیا اور مجھے شیطان نے ہی آپ کو یاد دلانا بھلا دیا۔ حضرت موسی نے کہا: یہی تو وہ تھا جس کو ہم تلاش کر رہے تھے۔ تب وہ دونوں اپنے قدموں کے کھوج ڈھونڈتے واپس لوٹے۔ خضر اُن کو مل گئے۔ پھر ان کا وہی حال ہوا جو اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کیا۔
(تشریح)Ibn ʿAbbās (r.a) narrated that he differed with al-Ḥurr ibn Qais ibn Ḥiṣn al-Fazārī about the companion of Moses. Ubayy ibn Kaʿb (r.a) passed by them and Ibn ʿAbbās (r.a) called him and said: ‘I have differed with this friend of mine about the companion of Moses whom he sought the way to meet. Have you heard the Messenger of Allāh (sa) mentioning his story?’ Ubayy said: ‘Yes, I heard the Prophet (sa) mentioning his story, saying: “Once when Moses was sitting amongst the chiefs of the Israelites, a man came to him and asked: ‘Do you know anyone who is more learned than you?’ Moses (as) replied: “No.” So Allāh the Mighty, the Majestic, revealed to Moses: ‘Certainly, Our servant al-Khaḍir [is more learned than you].’ So, he [Moses (as)] asked for the way to meet him. So, Allāh made the fish a sign for him, and it was said to him: “When you lose the fish, go back and you will encounter him [al-Khaḍir].” So Moses (as) followed the signs of the fish in the sea. The servant of Moses (as) said to him: ‘Did you see, when we betook ourselves to the rock for rest, I forgot the fish, and none but Satan caused me to forget to mention it to you” (18:64). Moses (as) said: “That is what we have been seeking.” So, they both returned, retracing their footsteps (18:65). Then they found al-Khaḍir and their story has been narrated by Allāh in His Book [the Holy Qurʾān]”.’