بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: جریر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت حذیفہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے تو یہ ( بھی ) دیکھا ہے کہ میں اور نبی ﷺ اکٹھے چلے جارہے تھے۔ آپ بعض لوگوں کے گھورے ( کوڑے کی جگہ ) پر گئے جو کہ ایک باغ کی) دیوار کے پیچھے تھا اور اس طرح کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگے جیسا کہ تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے۔ میں آپ سے ہٹ کر ایک طرف ہو گیا۔ آپ نے مجھے اشارہ سے بلایا اور میں آپ کے پاس آیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ یہاں تک کہ آپ فارغ ہوئے۔
(تشریح)Ḥudhaifah (r.a) narrated: ‘Once, the Prophet (sa) and I were walking together, and he came to the refuse heap of a community situated behind a wall. He stood and urinated as any one of you would. I stepped aside, but he gestured for me to return. I went back to him and stood behind him until he finished.’
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابو وائل سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری پیشاب کی وجہ سے سختی کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بنو اسرائیل کی عادت تھی کہ جب ان میں سے کسی کے کپڑے میں (پیشاب) لگ جاتا تو وہ اس کو کتر ڈالتا۔ حضرت حذیفہ نے کہا: کاش ابو موسیٰ رُک جاتے۔ رسول اللہ ﷺ بعض لوگوں کے گھورے کے پاس آئے اور آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
(تشریح)Abū Wāʾil narrated that Abū Mūsá al-Ashʿarī (r.a) held a strict view regarding the matter of urine. He used to mention that among the Israelites, if anyone’s garment was soiled by urine, they would tear off that part. Ḥudhaifah (r.a) said: ‘I wish he would refrain from [saying] this, for the Messenger of Allāh (sa) came to the refuse heap of a people and urinated while standing.’
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا بھی نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: فاطمہ نے حضرت اسماء سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔ وہ کہتی تھیں: ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا: بھلا بتلائیں کہ ہم میں سے ایک کو کپڑے میں حیض آتا ہے تو وہ کیا کرے۔ فرمایا: اسے کھرچ ڈالے۔ پھر اس کو رگڑے اور پانی سے اس کو دھو ڈالے اور اس میں نماز پڑھے۔
Asmāʾ (r.a) narrated that a woman came to the Prophet (sa) and asked: ‘What should a woman do if she begins menstruating while wearing a garment?’ He replied: ‘She should scrape off [the stained area], then apply water and rub it, and finally wash it thoroughly with water. Then she may pray while wearing it.’
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ابومعاویہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) ہشام بن عروہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: ابوحبيش کی بیٹی فاطمہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ میں ایک عورت ہوں جس کو استحاضہ کی بیماری ہے اور میں پاک ہی نہیں ہوتی۔ کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے اور حیض نہیں ہے۔ پس جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب بند ہو جائے تو خون اپنے بدن سے دھو اور نماز پڑھ لو۔ (ہشام) کہتے تھے: میرے باپ نے یہ حدیث یوں بیان کی۔ پھر ہر نماز کے لئے وضو کر لیا کر، یہاں تک کہ پھر وہی وقت آجائے۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) related that Fāṭimah bint Abū Ḥubaish (r.a) came to the Prophet (sa) and said: ‘O Messenger of Allāh! I am a woman who suffers from istiḥāḍah and I can never be in a state of purity. Should I abandon the Prayer?’ The Messenger of Allāh (sa) replied: ‘No, it is merely bleeding from a blood vessel and not menstruation. Therefore, when your menstrual period begins, refrain from Prayer; and once it concludes, cleanse yourself from the blood and then offer your Prayer.’ Hishām relates that his father reported the following: ‘Then perform ablution for every Prayer until this period returns.’
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ (بن مبارک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون جاری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سلیمان بن یار سے سلیمان نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نبی ﷺ کے کپڑے سے جنابت دھوتی۔ آپ نماز کے لئے نکلتے اور پانی کے دھبے آپ کے کپڑے پر ہوتے۔
ʿĀʾishah (r.a) related: ‘I would wash the impurity from the clothes of the Prophet (sa), and he would then proceed to offer Prayer, with the water marks still visible on his clothes.’
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: یزید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمرو نے سلیمان بن پیار سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہا کہ میں نے حضرت عائشہ سے سنا۔ نیز ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون نے سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہا کہ میں نے حضرت عائشہ سے منی کے متعلق پوچھا جو کپڑے کو لگ جاتی ہے تو انہوں نے کہا: میں اسے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے دھو دیا کرتی تھی اور آپ نماز کو نکلتے اور دھونے کا نشان آپ کے کپڑے میں ہوتا۔ (یعنی) پانی کے دھبے۔
(تشریح)Sulaimān ibn Yasār (r.a) said: ‘I asked ʿĀʾishah (r.a) about residual semen on clothes. She replied: “I used to remove it from clothes of the Messenger of Allāh (sa), and he would go to Prayer with water marks from washing still visible on them”.’
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل منقری نے بیان کیا، کہا: عبد الواحد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون نے ہمیں بتلایا۔ کہا: میں نے سلیمان بن سیار سے سنا۔ وہ اس کپڑے کے متعلق جس کو جنابت لگ جائے، کہتے تھے کہ حضرت عائشہ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے اس کو دھویا کرتی تھی۔ پھر آپ نماز کو نکلتے اور دھونے کا نشان اس میں ہوتا۔ (یعنی) پانی کے دھبے۔
ʿAmr ibn Maimūn reported: ‘I heard Sulaimān ibn Yasār narrate regarding clothes which had been soiled by semen that ʿĀʾishah (r.a) said: “I would remove it from the clothes of the Messenger of Allāh (sa), and he would go to Prayer with water marks from washing still visible on them”.’
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا: زہیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون بن مہران نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے سلیمان بن یسار سے سلیمان نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ نبی ﷺ کے کپڑے سے منی دھویا کرتی تھیں۔ (کہتی تھیں:) پھر میں اس میں کوئی دھبہ یا کئی دھبے دیکھتی۔
ʿĀʾishah (r.a) narrated that she would clean the clothes of the Prophet (sa) of semen; however, she would notice one or more water marks still remaining on them.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا۔ حماد نے ایوب سے۔ ایوب نے ابو قلابہ سے، ابو قلابہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: گل یا عرَین قبیلہ کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے مدینہ کی ہوا نا موافق پائی تو نبی ﷺ نے انہیں چند اونٹنیوں کے متعلق حکم دیا اور فرمایا: وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ وہ چلے گئے۔ جب تندرست ہو گئے تو انہوں نے نبی ﷺ کے چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ یہ خبر پہلے پہر پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے۔ جب دن چڑھ گیا تو ان کو پکڑ کر لے آئے۔ آپ نے حکم دیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور وہ پتھریلی زمین میں ڈال دیے گئے۔ وہ پانی مانگتے تھے مگر ان کو پانی نہ دیا جاتا تھا۔ ابو قلابہ کہتے تھے: ان لوگوں نے چوری کی اور قتل کیا اور ایمان لانے کے بعد انکار کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔
Anas (r.a) narrated that some people of the tribe of ʿUkl or ʿUrainah arrived at Madīnah but found the climate unsuitable for them. Consequently, the Prophet (sa) ordered them to go to where the [milch] camels were and to drink of their urine and milk, so they departed. After regaining their health, they killed the herdsman of the Prophet (sa) and stole the she-camels. News of this was received early in the morning, prompting the Prophet (sa) to dispatch a group in pursuit. By late morning, they were [caught and] brought before him. The Prophet (sa) gave the order and their hands and feet were cut off. Their eyes were blinded with hot rods and they were left on stony ground. They asked for water but were not given any. Abū Qilābah said: ‘These people have engaged in theft, committed murder, disbelieved after having believed and have waged war against Allāh and His Messenger.’
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوالتیاح یزید بن حمید سے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ پیشتر اس کے کہ مسجد بنائی جاتی بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
(تشریح)Anas (r.a) reported that before the construction of the mosque, the Prophet (sa) used to offer Prayer in the sheep pens.