بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا کہا: عبد الرزاق نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں چلایا۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بے وضوء ہو جائے، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ وضوء نہ کرے۔ ایک شخص نے جو حضرموت کا رہنے والا تھا، پوچھا: ابو ہریرہ! یہ بے وضوء ہونا کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: پھسکی یا پاد۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) reported that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘The Prayer of one who does ḥadath will not be accepted until he performs ablution.’ A man from Ḥaḍramawt inquired: ‘What constitutes ḥadath, O Abū Hurairah?’ He replied: ‘It is the passing of wind silently (fusāʾ) or breaking wind audibly (ḍurāṭ).’
ہم سے یحی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے خالد سے، خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید نے نعیم مجمر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابو ہریرۃ کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا اور انہوں نے وضو کیا اور کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری امت کی پیشانیاں وضو کے آثار سے چمکتی ہوں گی اور ہاتھ پاؤں روشن ہوں گے جبکہ لوگ قیامت کے دن بلائے جائیں گے۔ پس تم میں سے جو بھی اپنی روشنی بڑھا سکے تو چاہیے کہ وہ بڑھائے۔
(تشریح)Nuʿaim al-Mujmir (r.a) narrated: ‘I went up with Abū Hurairah (r.a) to the roof of the Mosque; he then performed ablution and said: “I have heard the Holy Prophet (sa) say: ‘Indeed, on the Day of Judgement, my followers will be summoned with bright faces and glowing limbs, from the effects of ablution.’ Therefore, whoever from among you can increase their brightness should do so”.’
ہم سے علی نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: زہری نے ہمیں بتلایا۔ زہری نے سعید بن مسیب سے اور عباد بن تمیم سے عباد نے اپنے چچا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس آدمی کی شکایت کی جسے یہ خیال ہو جاتا ہے کہ وہ نماز میں کچھ محسوس کرتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ نہ پھرے یا (فرمایا:) نہ مڑے جب تک کہ آواز نہ سنے یا بو نہ پائے۔
(تشریح)ʿAbbād ibn Tamīm reported that his paternal uncle [ʿAbd Allāh ibn Zaid al-Anṣārī] once approached the Messenger of Allāh (sa) with a concern about a man who suspected that he may have passed wind during Prayer. He [the Prophet (sa)] replied: ‘He should not turn away [from the Prayer] – or he [said] should not leave [the Prayer] – unless he hears a sound or perceives an odour.’
ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے عمرو سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: گریب نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ نبی ﷺ سو گئے یہاں تک کہ گہری سانس لینے لگے۔ پھر اس کے بعد آپ نے نماز پڑھی۔ اور کبھی سفیان نے یہ کہا کہ آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ آپ گہری سانس لینے لگے۔ پھر آپ اُٹھے اور نماز پڑھی۔ نیز سفیان نے یہی حدیث ہمیں کئی بار عمرو سے روایت کرتے ہوئے بتلائی۔ عمرو نے گریب سے، گریب نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی خالہ حضرت میمونہ کے پاس ایک رات رہا۔ ہی رات کو سو گئے۔ جب کچھ رات گزر لی نبی کہ اٹھے اور ایک مشکیزہ سے جو کہ لٹکا ہوا تھا، (پانی لے کر) ہلکا سا وضو کیا۔ عمرو اس وضو کو ہلکا اور مختصر بتلاتے تھے۔ آپ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ میں نے بھی اسی طرح وضو کیا جیسا کہ آپ نے وضو کیا تھا اور پھر آ کر آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ اور سفیان نے کبھی یوں کہا کہ آپ کے شمال کی طرف تو آپ نے مجھے ہٹا کر اپنی دائیں طرف کر دیا۔ پھر آپ نے جتنی اللہ نے چاہی نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ لیٹ گئے اور سو گئے۔ یہاں تک کہ آپ گہری سانس لینے لگے۔ پھر مؤذن آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کو نماز کی اطلاع دی تو آپ اُٹھ کر اس کے ساتھ نماز کے لئے گئے اور نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔ ہم نے عمرو سے کہا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ کی آنکھ تو سوتی تھی اور آپ کا دل نہیں سویا کرتا تھا۔ عمرو نے کہا: میں نے عبید بن عمیر کو کہتے سنا کہ انبیاء کی خواب وحی ہوتی ہے اور اس کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی: (إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ یعنی یقیناً میں سوتے میں دیکھا کرتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔
(تشریح)Ibn ʿAbbās (r.a) narrated: ‘The Prophet (sa) slept until he was breathing deeply (nafakha), then he offered his Prayer’ – It is possible the narrator said: ‘He laid down until he was breathing deeply (nafakha),’ – ‘Then he stood up and offered his Prayer’. Ibn ʿAbbās (r.a) relates: ‘I stayed overnight at the house of my maternal aunt, Maimūnah (r.a), and the Prophet (sa) slept during the night. After some of the night had passed, the Messenger of Allāh (sa) rose and performed ablution swiftly from a hanging water-skin – ʿAmr described it as light and short – He then stood up to offer the Prayer. I also performed ablution as he had performed ablution, then I came and stood on his left. He pulled me around and made me [stand] on his right. Then, he offered the Prayer for as long as Allāh willed, following which he lay down and slept until he was breathing deeply. Then, the caller to Prayer (muʾadhdhin) came to him and informed him that it was time for Prayer; so he went with him for Prayer and offered the Prayer and did not perform ablution.’ We said to ʿAmr (r.a): ‘Some say that the eyes of the Messenger of Allāh (sa) would sleep but his heart did not sleep.’ ʿAmr (r.a) said: ‘I have heard ʿUbaid ibn ʿUmair (r.a) saying: “The dreams of the Prophets are revelation”,’ then he recited [the verse]: ‘I have seen in a dream that I am slaughtering you.’ (Sūrat al-Ṣāffāt, 37:103).
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے گریب سے، جو کہ حضرت ابن عباس کے (آزاد کردہ) غلام تھے۔ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید سے روایت کی کہ انہوں نے (حضرت اسامہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپس آئے۔ جب گھاٹی میں پہنچے تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا۔ پھر وضو کیا اور وضو پوری طرح نہ کیا۔ تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ نماز پڑھیں گے؟ فرمایا: نماز تو آگے جا کر پڑھیں گے۔ پھر آپ سوار ہو گئے۔ آپ جب مزدلفہ پہنچے تو آپ نے اتر کر وضو کیا اور پورے طور پر وضو کیا۔ پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد ہر شخص نے اپنا اونٹ اپنے ڈیرے میں بٹھایا۔ پھر عشاء کی نماز کی تکبیر کہی گئی اور آپ نے نماز پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان آپ نے کوئی نماز نہ پڑھی۔
(تشریح)Usāmah ibn Zaid (r.a) narrated: ‘The Messenger of Allāh (sa) returned from ʿArafāt, and when he reached the valley, he descended, relieved himself and then performed ablution, but not a thorough one. I asked: “Shall we pray, O Messenger of Allāh?” He replied: “Prayer will be offered ahead.” So he rode on, and upon reaching Muzdalifah, he dismounted, performed ablution, and made it thorough. Then iqāmah was called and he offered the Maghrib Prayer. Afterwards, everyone settled their camels in their respective places. Then the iqāmah was called for the ʿIshāʾ Prayer and he offered it, without any other Prayer offered between the two.’
ہم سے محمد بن عبد الرحیم نے بیان کیا۔ کہا: ابو سلمہ خزاعی منصور بن سلمہ نے ہمیں خبر دی۔ کہا: بلال کے لیے یعنی سلیمان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابن عباس کے متعلق کہا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنا منہ دھویا، اس طرح کہ پانی کا ایک چلو لے کر اس سے کلی کی اور ناک میں پانی لیا۔ پھر پانی کا ایک چلو لیا اور یوں کیا کہ اس کو اپنے دوسرے ہاتھ سے ملایا اور اس سے اپنا منہ دھویا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لیا اور اس سے اپنا دایاں ہاتھ دھویا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لیا اور اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا ایک چلو لیا اور اس کو اپنے دائیں پاؤں پر چھڑک کر اس کو دھویا۔ پھر ایک اور پانی کا چلو لیا اور اس سے دھویا، یعنی اپنے بائیں پاؤں کو۔ پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: اس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا۔
(تشریح)ʿAṭāʾ ibn Yasār (r.a) narrated regarding Ibn ʿAbbās (r.a) that he once performed ablution and washed his face by taking a handful of water, and with it, he rinsed his mouth and nostrils. He then took another handful of water and did the following: he joined this hand with the other and washed his face with them both. Then he took a handful of water and washed his right hand with it; then he took a handful of water and washed his left hand with it. Then, he passed his wet hands over his head; then he took a handful of water and poured it over his right foot until it was washed; then he took another handful [of water] and washed his left foot with it. Afterwards, he said: ‘This is how I saw the Messenger of Allāh (sa) performing ablution.’
ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: جریر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے سالم بن ابی جعد سے، سالم نے گریب سے، گریب نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ اور حضرت ابن عباس (اس روایت کو) نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے اور یہ کہے کہ (میں) اللہ کے نام کے ساتھ (شروع کرتا ہوں) اے میرے اللہ! ہمیں شیطان سے بچائے رکھیو اور شیطان کو اس (بچہ) سے دُور رکھیو جو تو ہمیں دے۔ تو ان کے باہمی تعلق سے ایسے بچے کے پیدا ہونے کا فیصلہ کیا جاوے گا کہ جس کو شیطان ضرر نہ دے سکے گا۔
(تشریح)Ibn ʿAbbās (r.a) attributes to the Prophet (sa) the following words: ‘When any of you approaches his wife, let him say: “In the name of Allāh, O Allāh! Keep us away from Satan and keep Satan away from what You grant us”. If a child is decreed for them, Satan will not harm it.’
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبد العزیز بن صہیب سے روایت کی۔ کہا کہ میں نے حضرت انس سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ جب بیت الخلاء جاتے تو فرماتے: اے اللہ! میں گندگی اور گندی باتوں سے تیری پناہ لیتا ہوں۔ ابن عرعرہ نے بھی شعبہ سے یہی روایت کی اور غندر نے شعبہ سے یہ الفاظ بیان کئے: جب آپ بیت الخلاء میں آتے۔ اور موسیٰ نے حماد سے یہ الفاظ بیان کیے : جب آپ داخل ہوتے۔ اور سعید بن زید نے کہا: عبد العزیز نے ہم سے یہ الفاظ بیان کئے: جب آپ داخل ہونے کا ارادہ کرتے۔
(تشریح)Anas (r.a) narrated that whenever the Prophet (sa) went to the toilet, he would supplicate: ‘O Allāh! I seek refuge with you from all apparent impurities (khubth) and hidden impurities (khabāʾith).’
ہم سے عبد اللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہاشم بن قاسم نے ہم سے بیان کیا۔ کہا: ورقہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبید اللہ بن ابی یزید سے۔ عبید اللہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ بیت الخلاء میں گئے تو میں نے آپ کے لئے وضو کا پانی رکھا۔ آپ نے پوچھا: یہ کس نے رکھا ہے؟ تو آپ کو بتلایا گیا۔ اس پر آپ نے دعا کی: اے اللہ! اسے دین کی سمجھ دیجیو۔
Ibn ʿAbbās (r.a) related: ‘Once the Prophet (sa) entered the toilet, and I had placed water there for ablution. He inquired: “Who placed this?” When informed, he prayed: “O Allāh, grant him a thorough understanding of the faith”.’
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: ابو ذئب کے بیٹے نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: زہری نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، عطاء نے حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لئے جائے تو وہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرے اور نہ اس کی طرف اپنی پیٹھ کرے۔ مشرق کی طرف منہ کر دیا مغرب کی طرف۔
(تشریح)Abū Ayyūb al-Anṣārī (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘When relieving oneself, one should neither face the Qiblah nor turn away from it; instead, they should face either east or west.’