بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبید اللہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے، حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت میمونہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ سے چوہے کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا۔ تو آپؐ نے فرمایا: اس کو اور جو اس کے ارد گرد ہے، پھینک دو اور اپنا گھی کھائو۔
Maimūnah (r.a) narrated: ‘Someone enquired of the Messenger of Allāh (sa) regarding a mouse that had fallen into butter. He replied: “Discard both the mouse and the portion of fat around it, then consume the remaining fat”.’
اور اسی اسناد کے ساتھ یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے پانی میں جو بہتا نہ ہو پیشاب نہ کرے کہ پھر اس میں نہائے۔
And the same chain of narrators reports the Prophet (sa) to have said: ‘None of you should urinate in stagnant water which does not flow, as you may then [need to] bathe in it.’
ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے معن نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے حضرت ابن عباس نے حضرت میمونہ سے روایت کرتے ہوئے بتلایا کہ نبی ﷺ سے چوہے کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو اور جو کچھ اس کے آس پاس ہے پھینک دو۔ معن نے کہا کہ مالک نے اس حدیث کو اتنی دفعہ بیان کیا ہے کہ میں شمار نہیں کر سکتا۔ وہ حضرت ابن عباس سے نقل کرتے تھے۔ وہ حضرت میمونہ سے۔
Maimūnah (r.a) narrated that the Prophet (sa) was asked about a situation where a mouse had fallen into some butter. He replied: ‘Discard the mouse and the portion around it.’ Maʿn said that Mālik (rh) reported this narration from Ibn ʿAbbās (r.a) on the authority of Maimūnah (r.a) so many times that he lost count.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: معمر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہر وہ زخم جو مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگتا ہے، قیامت کے دن ہو بہو اپنی اسی شکل میں ہوگا جیسے اس وقت کہ جب وہ زخم لگایا گیا تھا۔ اس سے خون پھوٹ کر نکلتا ہوگا۔ رنگ تو خون کا رنگ ہوگا اور بو مشک کی بو ہوگی۔
(تشریح)Abū Hurairah (r.a) narrated that the Prophet (sa) said: ‘Every injury sustained by a Muslim in the path of Allāh will, on the Day of Resurrection, manifest in the same condition as when it was inflicted, with blood flowing from it, its hue resembling blood and exuding the fragrance of musk.’
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ابو زناد نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الرحمان بن ہرمز اعرج نے ان سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔ حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ فرماتے تھے: ہم آخر میں آنے والے ہیں لیکن آگے بڑھنے والے ہیں۔
Abū Hurairah (r.a) reported that he heard the Messenger of Allāh (sa) say: ‘We [the Muslims] are the last [to come in this world] but will be the first [on the Day of Resurrection].’
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے عمرو بن میمون سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود) سے، انہوں نے کہا: ایک بار رسول اللہ ﷺ سجدہ میں تھے۔ نیز (ابو عبداللہ بخاری) نے کہا: مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا: شریح بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم بن یوسف نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون نے مجھے بتلایا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے ان سے بیان کیا کہ نبی ﷺ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے کچھ ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی اثناء میں وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تم میں سے کون فلاں قبیلے کی اوٹنی کا بچہ دان لائے گا اور محمد کی پیٹھ پر جب وہ سجدہ کرے اس کو رکھ دے گا؟ تو ان لوگوں میں سے جو سب سے زیادہ بدبخت تھا، اُٹھ کھڑا ہوا اور اسے لے آیا اور انتظار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ جب نبی ﷺ نے سجدہ کیا تو اس نے آپ کی پیٹھ پر دونوں کندھوں کے درمیان اسے رکھ دیا اور میں دیکھ رہا تھا اور میں کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ کاش مجھے روکنے کی قوت ہوتی۔ (حضرت ابن مسعود کہتے تھے:) وہ ہنسنے لگے اور ایک دوسرے کے ذمے لگا رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ سجدہ میں پڑے تھے۔ اپنا سر نہیں اُٹھاتے تھے۔ آخر حضرت فاطمہ آپ کے پاس آئیں اور انہوں نے آپ کی پیٹھ سے اس کو اتار کر (ایک طرف) پھینک دیا۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا۔ پھر کہا: اے اللہ! تو ہی قریش سے سمجھ۔ تین بار فرمایا۔ یہ بات ان پر گراں گزری۔ کیونکہ آپ نے ان کے لئے بددعا کی اور (حضرت ابن مسعودؓ) کہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ دعا اس شہر میں مقبول ہوتی ہے۔ پھر آپ نے نام لیا کہ اے اللہ! ابو جہل کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ کو پکڑ، شیبہ بن ربیعہ کو پکڑ، ولید بن عقبہ کو پکڑ، امیہ بن خلف کو پکڑ اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ۔ (عمرو بن میمون نے) ساتویں کو بھی گنا۔ لیکن ہمیں یاد نہیں رہا۔ (حضرت ابن مسعود کہتے تھے:) پس مجھے اس کی قسم ہے کہ جس کے مال ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں نے ان لوگوں کو جن کو رسول اللہ ﷺ نے شمار کیا تھا، دیکھا کہ کنوئیں میں کھڑے ہوئے پڑے تھے۔ یعنی بدر کے کنوئیں میں۔
(تشریح)ʿAbd Allāh ibn Masʿūd (r.a) narrated: ‘While the Messenger of Allāh (sa) was prostrating – or offering his Prayer near the Kaʿbah – and Abū Jahl and his companions were sitting [nearby], they said to each other: “Which one of you will bring the contents of a she-camel’s stomach of such and such tribe, and place it on the back of Muḥammad when he prostrates?” So one of them, the most wretched, went out and brought it. He waited until the Prophet (sa) went down into prostration, and then placed it on his back between his shoulders. I witnessed this but was powerless to intervene, and I wished I could have stopped it.’ He continued: ‘They began to laugh and jest among themselves, while the Messenger of Allāh (sa) remained in prostration, unable to lift his head. Eventually, Fāṭimah (r.a) [the daughter of the Prophet (sa)] came and removed it from his back. He then raised his head and prayed: “O Allāh, seize the Quraish” three times. This invocation proved to be difficult for them when he prayed against them. These people knew that prayers offered in the city [of Makkah] were accepted. Then he mentioned their names, saying: “O Allāh, punish Abū Jahl, ʿUtbah ibn Rabīʿah, Shaibah ibn Rabīʿah and al-Walīd ibn ʿUtbah, Umayyah ibn Khalaf and ʿUqbah ibn Abū Muʿaiṭ.” He also mentioned a seventh name, but we do not recall it. By the One in Whose hand is my life! I saw those whom the Messenger of Allāh (sa) had named lying dead in the well of Badr.’
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انس سے روایت کی۔ کہا نبی ﷺ نے اپنے کپڑے میں تھوکا۔ (ابوعبداللہ نے کہا کہ) ابن ابی مریم نے یہ حدیث لمبی بیان کی۔ انہوں نے کہا: بن ایوب نے ہمیں بتایا۔ سیمی نے کہا: حمید نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس سے سنا۔ حضرت انس نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
(تشریح)Anas (r.a) narrated that the Prophet (sa) spat in his cloth. Abū ʿAbd Allāh [al-Bukhārī] said: ‘Ibn Abī Maryam related this ḥadīth at length.’ He said that Yaḥyá ibn Ayyūb informed him that Ḥumaid related to him that he had heard from Anas (r.a), who narrated from the Prophet (sa).
ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: زہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ سے، حضرت عائشہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہر ایک پینے کی چیز جو نشہ لائے حرام ہے۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated from the Prophet (sa) that he said: ‘Any drink that can cause intoxication is forbidden.’
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: سفیان بن عیینہ نے ابو حازم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا۔ لوگوں نے ان سے پوچھا تھا۔ اس وقت میرے اور ان کے درمیان اور کوئی نہ تھا۔ کس چیز سے نبی ﷺ کے زخم کا علاج کیا گیا؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کے متعلق مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا۔ حضرت علی اپنی ڈھال لاتے تھے جس میں پانی ہوتا اور حضرت فاطمہ آپ کے چہرے سے خون دھوتی تھیں۔ پھر چٹائی لی گئی اور اسے جلایا گیا اور اس سے آپ کا زخم بھرا گیا۔
(تشریح)Abū Ḥāzim related that he heard Sahl ibn Saʿd al-Sāʿidī saying, when there was no one other than the two of them, that people asked him: ‘What were the wounds of the Prophet (sa) treated with?’ He replied: ‘There is no one alive who knows better about it than me. ʿAlī (r.a) would bring water in his shield and Fāṭimah (r.a) would wash the blood from his face. Then a [straw] mat was burnt and with it were filled his wounds.’
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے غیلان بن جریر سے، غیلان نے ابو بردہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ کہا: میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے مسواک کر رہے ہیں۔ مسواک آپ کے منہ میں تھی۔ آپ اُغ اُغ کی آواز نکال رہے تھے، جیسے آپ قے کرنے پر آمادہ ہیں۔
Abū Burdah narrated from his father that he said: ‘I went to the Prophet (sa) and found him brushing his teeth with the siwāk in his hand, and making a “Uh, Uh” sound, as though he was retching, while the siwāk was in his mouth.’