بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 113 hadith
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا: سلیمان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا بھی بن سعید نے مجھ سے بیان کیا۔ (یکی نے) کہا: بشیر بن سیار نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے کہا: سوید بن نعمان نے مجھے بتلایا۔ کہا: جس سال خیبر فتح ہوا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے۔ جب ہم صہباء میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نماز پڑھ چکے تو کھانے منگوائے۔ سوائے ستو کے اور کچھ نہ لایا گیا۔ ہم نے کھایا پیا۔ پھر نبی سے مغرب کے لئے اُٹھے اور کلی کی اور پھر اس کے بعد آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔
(تشریح)Suwaid ibn al-Nuʿmān (r.a) related: ‘We departed with the Messenger of Allāh (sa) in the year that Khaibar was conquered. When we reached al-Ṣahbāʾ, the Messenger of Allāh (sa) led us in the ʿAṣr Prayer. When he had completed the Prayer, he asked for some food but nothing was available except for some sawīq. We ate and drank. Then the Prophet (sa) rose for the Maghrib Prayer and rinsed his mouth. Then, he led us in the Maghrib Prayer without repeating the ablution.’
ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا: جریر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ مدینہ یا مکہ کے باغوں میں سے ایک باغ کی دیوار کے پاس سے گزرے تو آپ نے دو آدمیوں کی آواز سنی، جن کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جار ہا تھا۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: انہیں عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔ پھر فرمایا: بلکہ ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا۔ پھر آپ نے ایک کھجور کی شاخ منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کئے اور ہر ایک قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ آپ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! آپ نے یہ کیوں کیا؟ فرمایا: شاید ان سے یہ عذاب ہلکا کر دیا جائے جب تک کہ یہ خشک نہ ہو جائیں۔ یا (یہ کہا: ) حتی کہ یہ خشک ہو جائیں۔
(تشریح)Ibn ʿAbbās (r.a) narrated that once the Prophet (sa) was passing by a garden either in Madīnah or Makkah, when he heard the lamentations of two men being chastised in their graves. The Prophet (sa) said: ‘These two individuals are being punished, yet not for a grave sin.’ He continued: ‘Indeed, one of them failed to shield himself from his own urine, while the other habitually slandered others.’ Then, he asked for a branch of a date tree, snapped it into two pieces and placed one piece on each grave. He was asked: ‘O Messenger of Allāh, why have you done this?’ He replied: ‘Perhaps their torment will be alleviated as long as these two pieces of wood do not dry up.’
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: اسماعيل بن ابراہیم نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے کہا: روح بن قاسم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عطاء بن ابی میمونہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ جب حاجت کے لئے جنگل کو جاتے تو میں آپ کے لئے پانی لاتا اور آپ اس سے استنجاء کرتے۔
(تشریح)Anas ibn Mālik (r.a) narrated: ‘When the Prophet (sa) would go out to the wilderness to answer the call of nature, I would bring him water and he would wash himself with it.’
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: محمد بن خازم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: اعمش نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے نبی ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: انہیں تو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔ ان میں سے ایک تو پیشاب سے بچاؤ نہیں کیا کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا۔ پھر آپ نے کھجور کی تازہ شاخ لی اور درمیان سے اس کو دو ٹکڑے کر کے ہر ایک قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: شاید ان سے تخفیف کی جائے، جب تک یہ نہ سوکھیں۔ محمد بن مثنی نے کہا: وکیع نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ (اعمش نے) کہا: میں نے مجاہد سے اسی طرح سنا ہے۔
Ibn ʿAbbās (r.a) narrated that the Prophet (sa) passed by two graves and said: ‘Verily, these two are being punished, yet not for a major sin: one of them failed to shield himself from his own urine, while the other habitually slandered others.’ Then he took a branch of a date-palm tree, split it into halves and placed one on each grave. People asked: ‘O Messenger of Allāh! Why have you done this?’ He replied: ‘Perhaps their torment will be alleviated, so long as these two do not wither.’
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہمام نے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) اسحاق نے حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ نبی ﷺ نے ایک بدوی کو مسجد میں پیشاب کرتے دیکھا تو آپ نے فرمایا: اسے رہنے دو۔ یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اُسے وہاں بہا دیا۔
(تشریح)Anas ibn Mālik (r.a) related that the Prophet (sa) observed a desert Arab urinating in the mosque. He instructed: ‘Leave him be.’ Once the man finished, he called for water and poured it over the affected area.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا: شعیب نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا: انہوں نے کہا: عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ بن مسعود نے مجھے بتلایا کہ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: ایک بدوی اٹھا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ لوگوں نے اسے برا بھلا کہا۔ اس پر نبی ﷺ نے ان سے کہا: اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی کا بہا دو۔ سجل کا لفظ (کہا) یا ذَنوب کا اور تم صرف اس لئے مبعوث کئے گئے ہو کہ آسانی کرنے والے بنو اور تم سختی کرنے کے لئے مبعوث نہیں کئے گئے۔
Abū Hurairah (r.a) narrated that once a Bedouin stood up and started urinating in the Mosque. The people moved to intervene, but the Prophet (sa) instructed them: ‘Let him be and pour a bucket or pot of water over the area, for you have been sent to make things easy, not to make them difficult.’
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: یحی بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔ وہ نبیؐ کے متعلق روایت کرتے تھے۔
ʿAbdān reported to us, saying: ʿAbd Allāh informed us, saying: Yaḥyá ibn Saʿīd reported to us, saying: “I heard Anas ibn Mālik narrating from the Prophet (sa)”.’
ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ ہے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ ام المومنین سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا۔
ʿĀʾishah (r.a), Mother of the Believers, narrated that a boy was brought to the Prophet (sa) and he [the boy] urinated on his [the Prophet’s] clothes. The Prophet (sa) requested some water and poured it over the affected area.
ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ سے، عبد الله نے محسن کی بیٹی حضرت ام قیس سے روایت کی کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو کہ جو کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھایا۔ اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ نے پانی منگوایا اور اس پر چھڑک دیا اور اسے نہ دھویا۔
(تشریح)Umm Qais bint Miḥṣan (r.a) related that she brought her small boy, who had not yet started eating food, to the Messenger of Allāh (sa). He sat him on his lap, and the boy urinated on the Messenger of Allāh’s clothes. Upon this, the Prophet (sa) called for water and sprinkled it over [the soiled area] but did not wash it.
ہم سے آدم نے بیان کیا، (کہا: ) شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو وائل سے، انہوں نے حضرت حذیفہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے نبی ﷺ ایک قوم سے گھورے (یعنی کوڑے کی جگہ) پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ پھر پانی منگوایا تو میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا اور آپ نے وضو کیا۔
(تشریح)Ḥudhaifah (r.a) narrated: ‘The Prophet (sa) went to the refuse area of a community and urinated while standing. Afterwards, he requested water, which I brought, and he performed ablution.’