بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: عون بن ابی جحیفہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ دوپہر کو ہمارے پاس باہر آئے۔ آپ کے لیے پانی لایا گیا تو آپ نے وضو کیا اور ظہر اور عصر کی نماز ہمیں پڑھائی اور آپ کے سامنے پھلدار چھڑی تھی اور عورتیں بھی اس کے پیچھے سے گزرتی تھیں اور گدھا بھی۔
ʿAwn ibn Abū Juḥaifah narrated that he heard his father say: ‘The Messenger of Allāh (sa) came out to us at noon. Water was brought to him, and he performed ablution. Then, he led us in the Ẓuhr and ʿAṣr Prayers. In front of him was a blade-tipped stick, and women and donkeys were passing behind it.’
ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، کہا: شاذان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے عطاء بن ابی میمونہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ جب حاجت کے لیے نکلتے تو میں اور ایک لڑکا آپ کے پیچھے چلے جاتے۔ ہمارے ساتھ پھلدار سونٹی یا چھڑی یا چھوٹی برچھی ہوتی اور ہمارے ساتھ ایک چھاگل ہوتی۔ جب آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوتے تو ہم آپ کو وہ چھاگل پکڑا دیتے۔
(تشریح)Anas ibn Mālik (r.a) narrated: ‘Whenever the Prophet (sa) went to answer the call of nature, a boy and I would follow him. We would have with us a staff or stick, or a small spear, as well as a waterskin. When he finished relieving himself, we would hand him the waterskin.’
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے ابو جحیفہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ دو پہر کو (ہمارے پاس) باہر آئے اور آپ نے بطحاء میں ظہر اور عصر کی نماز دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ نے اپنے سامنے ایک چھوٹی برچھی گاڑی۔ آپ نے وضو کیا تو لوگ آپ کے وضو کا پانی تبرکاً اپنے بدن پر ملنے لگے۔
(تشریح)Abū Juḥaifah narrated: ‘The Messenger of Allāh (sa) came out at midday, and he offered two rakaʿāt each for the Ẓuhr and ʿAṣr Prayers at al-Baṭḥāʾ, with a blade-tipped stick planted in front of him. He performed ablution and people began to rub the water of his ablution on their bodies [seeking blessing from it].’
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: یزید بن ابی عبید نے ہمیں بتلایا۔ کہا کہ میں حضرت سلمہ بن اکوع کے ساتھ آیا کرتا تھا تو وہ اُس ستون کے پاس نماز پڑھا کرتے تھے جو قرآن مجید رکھنے کی جگہ کے قریب ہے۔ اس پر میں نے کہا: ابو مسلم! میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے پاس قصدًا نماز پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ اس کے پاس قصداً نماز پڑھا کرتے تھے۔
Yazīd ibn Abū ʿUbaid narrated: ‘I would come with Salāmah ibn al-Akwaʿ and he would pray by the pillar which is near the place where the Qurʾān is kept. I said: “O Abū Muslim, I see you intentionally offering Prayer by this pillar.” He replied: “Indeed, I have seen the Prophet (sa) intentionally offering Prayer by it”.’
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عمرو بن عامر سے، عمرو نے حضرت انس (بن مالک) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے بڑے بڑے صحابہ سے ملا ہوں۔ وہ مغرب کے وقت ستونوں کی طرف جلدی سے لپک کر جاتے… اور شعبہ نے عمرو سے اور عمرو نے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا: ”یہاں تک کہ نبیﷺ باہر آتے۔“
(تشریح)Anas (r.a) related: ‘I have seen the most eminent Companions of the Prophet (sa) hurrying towards the pillars for the Maghrib Prayer.’ Shuʿbah added from ʿAmr and Anas (r.a): ‘Until the Prophet (sa) came out.’
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: جویریہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ حضرت اسامہ بن زید، حضرت عثمان بن طلحہ اور حضرت بلال کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ آپ وہاں بہت دیر ٹھہرے رہے۔ پھر آپ نکلے۔ میں لوگوں میں سے پہلا تھا جو آپ کے بعد داخل ہوا۔ میں نے حضرت بلال سے پوچھا کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا: اگلے دو ستونوں کے درمیان۔
Ibn ʿUmar (r.a) said: ‘The Prophet (sa), Usāmah ibn Zaid, ʿUthmān ibn Ṭalḥah and Bilāl (r.a) entered the Kaʿbah. He [the Prophet (sa)] remained there for an extended period of time and then came out. I was the first among the people to enter after him, so I asked Bilal (r.a): “Where did he pray?” He replied: “Between the front two pillars”.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ، حضرت اسامہ بن زید، حضرت بلال اور حضرت عثمان بن طلحہ حجبی کعبہ میں داخل ہوئے۔ (حضرت عثمان نے) اس کا دروازہ بند کر دیا اور آپ اس میں ٹھہرے رہے۔ جب آپ نکلے تو میں نے حضرت بلال سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ ایک ستون کو اپنی بائیں طرف رکھا اور ایک ستون کو دائیں طرف اور تین عمودوں کو اپنے پیچھے۔ اور بیت اللہ اس وقت چھ ستونوں پر تھا۔ پھر آپ نے نماز پڑھی اور اسماعیل نے ہم سے کہا: مالک نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ آپ نے دو ستونوں کو اپنی دائیں طرف رکھا۔
(تشریح)ʿAbd Allāh ibn ʿUmar (r.a) reported that the Messenger of Allāh (sa), Usāmah ibn Zaid, Bilāl and ʿUthmān ibn Ṭalḥah al-Ḥajabī (r.a) entered the Kaʿbah. He [ʿUthmān (r.a)] closed its door and he [the Prophet (sa)] remained there for some time. I asked Bilāl (r.a) when he came out: ‘What did the Prophet (sa) do?’ He replied: ‘He kept a pillar to his left and a pillar to his right and three pillars behind him. The Kaʿbah had six pillars at that time. Then, he offered his Prayer.’ And Ismāʿīl told us that Mālik said: ‘Two pillars to his right.’
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا: ابو ضمرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت عبداللہ جب کعبہ میں داخل ہوتے تو داخل ہوتے وقت سیدھے سامنے کو جاتے اور دروازے کو اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھتے اور چلے جاتے، یہاں تک کہ اُن کے اور اس دیوار کے درمیان جو کہ ان کے منہ کے سامنے ہوتی تقریباً تین ہاتھ رہ جاتے؛ وہاں نماز پڑھتے۔ اس جگہ کا قصدًا رخ کرتے جس کے متعلق حضرت بلال نے انہیں خبر دی تھی کہ نبیؐ نے وہاں نماز پڑھی تھی۔ کہتے تھے کہ ہم میں سے کسی پر کوئی حرج نہیں کہ بیت اللہ میں جس طرف چاہے نماز پڑھے۔
(تشریح)Nāfiʿ related that when ʿAbd Allāh (r.a) entered the Kaʿbah, he would proceed straight ahead upon entering and would keep the door behind his back. He would walk until there were about three cubits between him and the wall in front of him. There, he would pray, aiming at the spot where Bilāl had informed that the Prophet (sa) prayed in. He said: ‘There is no harm for any one of us to pray wherever he wishes inside the Kaʿbah.’
ہم سے محمد بن ابو بکر مقدمی (بصری) نے بیان کیا، (کہا) معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمر نے نبیﷺ کے متعلق بیان کیا کہ آپ اپنی سواری کو اپنے سامنے چوڑائی میں بٹھا لیتے اور پھر اس کے مقابل نماز پڑھتے۔ میں نے کہا: بھلا بتلائیں تو سہی جب سواری کھڑی ہو جاتی (تو کیا کرتے؟) انہوں نے کہا: کجاوے کو لیتے اور اُسے ٹھیک کر کے سامنے رکھ لیتے۔ پھر اس کی پچھلی لکڑی کی طرف یا کہا اس کے پچھلے سرے کی طرف نماز پڑھتے۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
Ibn ʿUmar (r.a) narrated regarding the Prophet (sa) that he would make his she-camel sit sideways in front of him and pray towards it. ‘I [ʿUbaid Allāh ibn Ḥafṣ] asked [Nāfiʿ]: “Enlighten me, what would he do if the riding-camel suddenly moved?” He replied: “He would take the camel-saddle, set it up correctly, and place it in front. Then, he would pray towards its back part” – or he said “towards its end” – ‘And Ibn ʿUmar (r.a) would do the same.’
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: جریر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: کیا تم نے ہمیں کتّے اور گدھے کے برابر کر دیا ہے؟ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں چار پائی پر لیٹی ہوتی اور نبی ﷺ آتے اور چار پائی کے درمیان میں کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے اور میں اسے ناپسند کرتی کہ آپ کے سامنے رہوں تو میں چار پائی کے پاؤں کی طرف سے سرک کر اپنے لحاف میں سے آہستہ سے نکل جاتی۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) said: ‘Have you equated us with dogs and donkeys? I have found myself lying in bed and the Prophet (sa) would come and stand at the middle of the bed and offer his Prayer. I disliked remaining in front of him, so I used to slip towards the foot of the bed until I slipped out from under my quilt.’