بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عبد الوارث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: یونس نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حمید بن ہلال سے، حمید نے ابو صالح سے روایت کی کہ حضرت ابو سعید نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا۔۔۔ نیز ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا: سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں بتلایا۔ کہا: حمید بن ہلال عدوی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابو صالح سمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو سعید خدری کو جمعہ کے دن دیکھا کہ وہ ایک چیز کی طرف (منہ کئے ہوئے) نماز پڑھ رہے ہیں جس نے اُن کو لوگوں سے اوٹ میں کیا ہوا ہے۔ بنی ابی معیط میں سے ایک نوجوان نے چاہا کہ آپ کے سامنے سے گزرے تو حضرت ابو سعید نے اُس کو ہٹایا۔ اس نوجوان نے دیکھا تو سوائے ان کے سامنے سے گزرنے کے کہیں گزرنے کی جگہ نہ پائی۔ پھر اس نے دوبارہ گزرنا چاہا تو حضرت ابو سعید نے پہلے کی نسبت سختی سے اس کو ہٹایا تو وہ حضرت ابو سعید کو بُرا بھلا کہنے لگا۔ پھر وہ مروان کے پاس گیا اور جو تکلیف اُسے حضرت ابو سعید سے پہنچی تھی، اس کی ان کے پاس شکایت کی۔ حضرت ابو سعید اس کے پیچھے ہی مروان کے پاس اندر پہنچ گئے۔ مروان نے ان سے کہا: ابو سعید! آپ کا اور آپ کے بھتیجے کا کیا معاملہ ہے؟ حضرت ابو سعید نے جواب دیا۔ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی ایسی چیز کی طرف نماز پڑھے جو اسے لوگوں سے اوٹ میں کر دے اور کوئی شخص اس کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو وہ اسے ہٹائے۔ اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، کیونکہ وہ شیطان ہے۔
(تشریح)Abū Ṣāliḥ al-Sammān narrated: ‘I saw Abū Saʿīd al-Khudrī (r.a) offering Prayer on a Friday facing something that served as a screen (sutrah) between him and the people. A young man from Banī Abū Muʿaiṭ wanted to cross in front of him, but Abū Saʿīd (r.a) pressed him back at the chest to stop him. The young man looked around but did not find access anywhere except in front of him. He again attempted to pass but Abū Saʿīd (r.a) repelled him more firmly than before. The young man insulted Abū Saʿīd (r.a) and then went to Marwān and complained to him about his encounter with Abū Saʿīd (r.a). Abū Saʿīd (r.a) followed him to Marwān. He asked him: “O Abū Saʿīd! What is the affair between you and the son of your brother?” He replied: “I have heard the Prophet (sa) say: ‘When any of you prays towards something that serves as a screen between him and the people and someone wants to pass by in front of him, he should stop him. If he persists, repel him more firmly, for he is satan’.”’
ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عمر بن عبید اللہ کے مولى ابو نضر سے، ابو نضر نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ حضرت زید بن خالد نے اس کو حضرت ابو جہیم کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے پوچھے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا تھا۔ اس پر حضرت ابو جہیم نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو علم ہو کہ اس پر کیا گناہ ہے تو چالیس۔۔۔ کھڑا رہتا یہ اس کے لیے بہتر ہوتا بہ نسبت اس کے کہ وہ آگے سے گزر جائے۔ ابو نضر نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ آیا آپ نے چالیس دن یا مہینے یا سال فرمایا۔
(تشریح)Busr ibn Saʿīd reported that Zaid ibn Khālid sent him to Abū Juhaim (r.a) to ask him what he had heard from the Messenger of Allāh (sa) concerning one who passes in front of someone engaged in Prayer. Abū Juhaim (r.a) replied that the Messenger of Allāh (sa) said: ‘If a person who passes in front of a worshipper realised the magnitude of his sin, he would surely [prefer to] stand [waiting] for 40. That would be better for him than passing in front.’ Abū al-Naḍr said: ‘I do not know whether he said 40 days, months or years.’
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا کہ ہمیں علی بن مسہر نے اعمش سے اور اعمش نے مسلم یعنی صبیح کے بیٹے سے۔ انہوں نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے بتلایا کہ حضرت عائشہ کے پاس اُن چیزوں کا ذکر کیا گیا جو نماز کو توڑتی ہیں تو لوگوں نے کہا کہ اُسے کتا اور گدھا اور عورت توڑتے ہیں۔ تو حضرت عائشہ نے کہا: تم نے تو ہمیں کہتے بنا دیا۔ میں نے خود نبی علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان ہوتی اور چار پائی پر لیٹی ہوتی اور مجھے کوئی حاجت ہوتی تو میں ناپسند کرتی کہ آپ کے سامنے ہوں۔ اس لیے میں آہستگی سے سرک کر نکل جاتی۔ اور (علی بن مسہر نے) اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ سے اسی طرح روایت نقل کی۔
(تشریح)Masrūq related on the authority of ʿĀʾishah (r.a) that the things which invalidated Prayer were mentioned before her. It was said: ‘It is annulled by a dog, a donkey, and a woman.’ She said: ‘You have made us [women] dogs. I myself have seen the Prophet (sa) praying and I would be lying in bed between him and the Qiblah. If I needed anything, I would carefully slip away as I disliked to remain in front of him.’
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: بسیجی نے ہمیں بتلایا۔ کہا: ہشام نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا۔ کہتی تھیں کہ نبی ﷺ نماز پڑھتے اور میں آپ کے بستر پر چوڑائی میں لیٹے ہوئے سوئی ہوتی اور جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے جگا دیتے تو میں بھی وتر پڑھتی۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) reported that the Prophet (sa) used to say his Prayer while she was asleep, lying across [the width] of his bed. When he wanted to offer Witr Prayer, he woke her up and she would also offer the Witr Prayer.
ہم سے عبید اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: ہمیں مالک نے عمر بن عبید اللہ کے مولیٰ ابو نضر سے، انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے، ابو سلمہ نے نبی ﷺ کی بیوی حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کہتی تھیں: میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سویا کرتی تھی اور میری دونوں ٹانگیں آپ کے قبلہ میں ہوتیں۔ جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے دبا دیتے اور میں اپنی ٹانگوں کو سکیڑ لیتی اور جب کھڑے ہوتے تو اُن کو پھیلا دیتی۔ کہتی تھیں کہ ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
(تشریح)The wife of the Prophet (sa), ʿĀʾishah (r.a) narrated: ‘I would sleep in front of the Messenger of Allāh (sa) and both my legs would be in front of him. When he prostrated, he gently nudged me and I withdrew my legs, and when he stood, I stretched them out.’ She continued: ‘In those days, there were no lamps in houses.’
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے ہمیں بتلایا۔ کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ نیز اعمش نے کہا: اور مسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ مسروق سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت عائشہ سے نقل کیا کہ اُن کے پاس جو چیزیں نماز کو توڑتی ہیں ان کا ذکر کیا گیا؛ کتا اور گدھا اور عورت۔ تو انہوں نے کہا تم نے ہم کو کتوں اور گدھوں جیسا بنا دیا ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے خود نبی ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا اور میں چار پائی پر آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوئی ہوتی۔ مجھے کوئی حاجت پیش آتی تو میں بیٹھنا نا پسند کرتی، مبادا کہ نبی ﷺ کو تکلیف دوں۔ اس لیے میں چار پائی کے پاؤں کی طرف سے کھسک جاتی۔
ʿĀʾishah (r.a) narrated that the things which invalidate the Prayer were mentioned before her; a dog, a donkey and a woman. She said: ‘You have compared us to donkeys and dogs. By Allāh! I myself have seen the Prophet (sa) praying and I would be lying on the bed between him and the Qiblah. If I was in need of something, I disliked sitting and troubling the Prophet (sa), so I would slip away by the feet of the bed.’
ہم سے اسحاق (بن ابراہیم) نے بیان کیا، کہا: یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتلایا۔ کہا: میرے بھائی ابن شہاب کے بیٹے نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے چچا سے نماز کے متعلق پوچھا کہ کیا کوئی چیز اسے توڑ دیتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: اُسے کوئی چیز نہیں توڑتی۔ عروہ بن زبیر نے مجھے بتلایا کہ نبی ﷺ کی بیوی حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اُٹھ کر نماز پڑھتے اور میں آپ کی بیوی کے بستر پر آپ کے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں پڑی ہوتی۔
(تشریح)Ibn Shihāb related that he asked his paternal uncle if there is anything that invalidates the Prayer, and he replied: ‘Nothing invalidates it.’ ʿUrwah ibn al-Zubair reported that the wife of the Prophet (sa), ʿĀʾishah (r.a) said: ‘The Messenger of Allāh (sa) would get up and pray at night, while I would be lying sideways on the bed of his wife, between him and the Qiblah.’
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: ہمیں مالک نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر سے، عامر نے عمرو بن سلیم زرقی سے، انہوں نے حضرت ابو قتادہ انصاری سے روایت کرتے ہوئے بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے اور حضرت امامہ کو اُٹھائے ہوئے ہوتے جو کہ آپ کی صاحبزادی حضرت زینب کی بیٹی تھیں جو ابو العاص بن ربیعہ بن عبدالشمس سے تھیں۔ جب آپ سجدہ کرتے تو اُسے نیچے رکھ دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اُسے اٹھا لیتے۔
(تشریح)Abū Qatādah al-Anṣārī (r.a) narrated that the Messenger of Allāh (sa) would offer Prayer while carrying Umāmah, who was the daughter of his daughter Zainab (r.a) and [her husband] Abū al-ʿĀṣ ibn Rabīʿah ibn ʿAbd Shams. When he prostrated, he put her down, and when he stood, he lifted her up.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا: ہمیں بشیم نے شیبانی سے، شیبانی نے عبد اللہ بن شداد بن ہاد سے روایت کرتے ہوئے بتلایا۔ کہا: میری خالہ حضرت میمونہ حارث کی بیٹی نے مجھے بتلایا۔ کہتی تھیں کہ میرا بستر نبی ﷺ کی نماز گاہ کے قریب ہوتا۔ بسا اوقات آپ کا کپڑا مجھ پر پڑتا اور میں اپنے بستر میں ہوتی۔
Maimūnah (r.a) narrated: ‘My bed was near the praying place of the Prophet (sa). Often, his clothes fell on me while I was on my bed.’
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، کہا: عبدالواحد ابن زیاد نے ہمیں بتلایا۔ کہا: شیبانی سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن شداد نے ہمیں بتلایا۔ کہا: میں نے حضرت میمونہ کو کہتے سنا کہ نبی ﷺ نماز پڑھا کرتے تھے اور میں آپ کے قریب آپ کے پہلو میں سوئی ہوتی۔ جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے آپ کا کپڑا لگتا۔ حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔ اور مسدد نے خالد سے روایت کرتے ہوئے یہ زائد کیا، کہا: ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا: "حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔"
(تشریح)Maimūnah (r.a) said: ‘The Prophet (sa) would pray while I would be asleep beside him. When he performed sujūd, his clothes would brush against me, while I was passing through my menses.’