(بخاری کتاب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل باب قولہ ذریۃ من حملنا مع نوح4712)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنے محامد اور ثناء کے معارف اس طور پر کھولتا ہے کہ مجھ سے قبل کسی اور شخص پر اس طرح نہیں کھولے گئے۔
(ترمذی کتاب ابواب البروالصلۃ باب ما جآء فی الشکر لمن احسن الیک 1954)
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ (یعنی کسی شخص کے احسان کے نتیجہ میں انسان کو اگر کوئی نعمت یا بھلائی حاصل ہو تو جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر لازم ہے وہاں اس محسن شخص کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے)۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر قابل قدر گفتگو (اور تقریر وغیرہ) اگر خدا تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بغیر شروع کی جائے تو وہ برکت سے خالی اور بے اثر ہوتی ہے۔
(مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ 931)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہا اور تینتیس دفعہ الحمدللہ کہا اور تینتیس دفعہ اللہ اکبر کہا تو یہ مل کر ننانوے ہوئے۔ سو کا عدد پورا کرنے کے لئے کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ…… ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اسی کی ہے۔ تمام تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے‘‘۔ اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جائیں گی اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ سورۃ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالفَتْحُ نازل ہونے کے بعد جب بھی نبی ﷺ نماز پڑھتے تو اس میں بکثرت یہ دعا مانگتے۔ اے ہمارے پروردگار! تو پاک ہے ہم تیری حمد کرتے ہیں، اے میرے اللہ! تو مجھے بخش دے۔
نے فرمایا ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا کہ اس نے کانٹے دار ٹہنی پڑی ہوئی پائی۔ اس نے اس کو ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اس نیکی کو بصورت شکریہ قبول فرمایا اور اسے بخش دیا۔
نے فرمایا ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا کہ اس نے کانٹے دار ٹہنی پڑی ہوئی پائی۔ اس نے اس کو ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اس نیکی کو بصورت شکریہ قبول فرمایا اور اسے بخش دیا۔