بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 24 hadith
حضرت ابو بکرہؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ اپنی اس شکل پر (جس شکل پر وہ تھا) چکر کھا کر آگیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا سال بارہ مہینے (کا) ہے۔ ان میں سے چار حرمت والے ہیں تین تو متواتر ہیں ذو القعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور رجب مضر کا مہینہ ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ خاموش رہے یہانتک کہ ہم نے سمجھا کہ آپؐ اس کو کوئی دوسرا نام دیں گے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ کونسا علاقہ ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ خاموش رہے اور ہم نے خیال کیا کہ آپؐ اس کو کوئی اور نام دیں گے۔ آپؐ نے فرمایا کیا یہ وہ (حرمت والا) علاقہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اور یہ کونسا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ خاموش ہوگئے یہانتک کہ ہم نے سمجھا کہ آپؐ اس کو کوئی دوسرا نام دیں گے۔ آپؐ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا یقینا تمہارے خون اور تمہارے مالـــ راوی محمد کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپؐ نے فرمایا اور تمہاری عزتیں ـــ تمہارے لئے قابل احترام ہیں تمہارے اِس دن کی حرمت کی طرح، تمہارے اِس علاقہ میں، تمہارے اِس مہینہ میں اور جلد تم اپنے رب سے ملو گے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارہ میں پوچھے گا۔ پس میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا یا گمراہ نہ ہوجانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں۔ سنو! چاہئے کہ (یہ پیغام) حاضر غائب کو پہنچا دے۔ ہوسکتا ہے کہ جن کو یہ (پیغام) پہنچایا جائے وہ اس سے زیادہ محفوظ کرنے والا ہو جس نے اس کو (خود) سنا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا سنو! کیا میں نے پہنچا دیا!!
ابو نضرہ ؓ بیان کرتے ہیں مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضور کا وہ خطبہ حجتہ الوداع سنا جو آپﷺ نے ایام منی میں دیا تھا۔ کہ آپﷺ نے اپنے اس خطبہ میں فرمایا اے لوگو! تمہارا خدا ایک ہے۔ تمہارا باپ ایک ہے یاد رکھو کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی سرخ و سفید رنگ والے کو کسی سیاہ رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو کسی سرخ و سفید رنگ والے پر کسی طرح کی کوئی فضیلت نہیں۔ ہاں تقویٰ اور صلاحیت وجہ ترجیح اور فضیلت ہے۔ کیا میں نے یہ اہم پیغام پہنچا دیا لوگوں نے (بلند آواز سے) عرض کیا ہاں اللہ کے رسول نے یہ پیغام حق اچھی طرح پہنچا دیا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواب دیا (ایام حج کا) بڑا محترم دن ہے۔ پھر آپﷺ نے پوچھا یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ (ذوالحجہ کا) بڑا محترم مہینہ ہے۔ پھر پوچھا یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا۔ یہ (مکہ کا) بڑا محترم شہر ہے۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا تمہاری جانیں تمہارے اموال (راوی کو یاد نہیں کہ آپﷺ نے آبرو کا ذکر بھی فرمایا یا نہیں) اسی طرح قابل عزت اور حرمت والے ہیں جس طرح یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرمت والے ہیں (یعنی جس طرح ان کی بے حرمتی کا تم خیال بھی نہیں کر سکتے اسی طرح لوگوں کی جانوں اور ان کے مالوں اور ان کی آبرووں کی بے حرمتی بھی ناجائز ہے)۔ پھر آپﷺ نے پوچھا۔ کیا میں نے یہ اہم پیغام پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا ہاں اللہ کے رسول نے سب کچھ پہنچا دیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تو جو موجود ہیں وہ ان تک بھی اس پیغام کو پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور دھوکہ دینے کے لئے قیمت نہ بڑھاؤ اور نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو نہ ہی ایک دوسرے سے بے رُخی کرو اور تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ ہی اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے نہ ہی اس کی تحقیر کرتا ہے۔ اور آپؐ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا تقویٰ یہاں ہے۔ آدمی کے لئے یہی شرّ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ ہر مسلمان کا خون، اس کا مال، اور اس کی عزّت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کتنے ہی پراگندہ بالوں والے، جنہیں دروازوں سے دھکّے دئے جاتے ہیں اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں تو وہ ضرور اسے پوری کرتا ہے۔
حضرت حارثہ بن وہبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ کیا جنت میں بسنے والوں کے متعلق میں تمہیں کچھ بتاؤں؟ ہر وہ کمزور جس کو لوگ کمزور سمجھتے ہیں مگر جب وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اسی کے نام کی قسم کھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا کر دیتا ہے اور جیسا وہ چاہتا ہے ایسا ہی کر دیتا ہے۔ پھر فرمایا کیا میں تم کو دوزخ میں رہنے والوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر سرکش خود پسند، شعلہ مزاج، متکبر دوزخ کا ایندھن بنے گا۔
حضرت ابو الدرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ کمزوروں میں مجھے تلاش کرو۔ یعنی میں ان کے ساتھ ہوں اور ان کی مدد کرکے تم میری رضا حاصل کر سکتے ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ کمزوروں اور غریبوں کی وجہ سے ہی تم خدا کی مدد پاتے ہو اور اس کے حضور سے رزق کے مستحق بنتے ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ رنگ کی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی یا ایک نوجوان۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے موجود نہ پا کر اس کے بارہ میں پوچھا۔ انہوں نے کہا اس کی تو وفات ہو گئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی۔ راوی کہتے ہیں گویا کہ انہوں نے اس کے معاملہ کو معمولی سمجھا۔ آپؐ نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ۔ انہوں نے قبر بتائی۔ آپؐ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ پھر فرمایا یہ قبریں ان میں رہنے والوں پر تاریکی سے بھری ہوتی ہیں اور یقینا اللہ عزوجل ان کے لئے اسے میری دعا سے، جو میں ان کے لیے کرتا ہوں، انہیں روشن کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تمام مخلوقات اللہ کی عیال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو اپنے مخلوقات میں سے وہ شخص بہت پسند ہے جو اس کے عیال (مخلوق) کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔