بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
حضرت عبداللہ بن جعفرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے مجھے (سواری پر) اپنے پیچھے بٹھایا اور مجھے ایک راز کی بات بتائی، میں لوگوں میں سے کسی کو نہ بتاؤں۔ اور رسول اللہ ﷺ کو قضائے حاجت کے لیے پردے کے لیے دو جگہیں بہت پسند تھیں کوئی اونچی جگہ یا درختوں کا جُھنڈ۔ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ تھا۔ اس نے جب نبی ﷺ کو دیکھا تو اس نے رونے کی آواز نکالی اور اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ نبی ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس کے کانوں کے پچھلے حصہ پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا۔ فرمایا اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ انصار میں سے ایک نوجوان آیا اس نے کہا یا رسول اللہ! یہ میرا ہے۔ فرمایا اس جانور کے متعلق اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے جس کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور مسلسل کام پر لگائے رکھتے ہو۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس نے (بلی) کو قید کر دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ اس وجہ سے وہ آگ میں داخل ہوئی۔ اس نے نہ اس کو جب اس نے اسے قید کیا کھانا ڈالا اور نہ پانی پلایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے سزا دی گئی جس نے اس کو دیر تک قید کر رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی اور اس وجہ سے وہ (عورت) دوزخ میں داخل ہوئی۔ نہ تو اس نے بلی کو کچھ کھلایا اور نہ ہی پانی پلایا۔ اس نے اس کو روک رکھا۔ نہ خود کھانا دیا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ سفر میں تھے آپؐ قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ ہم نے ایک چڑیا دیکھی اس کے پاس دو بچے تھے۔ ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا تو چڑیا اپنے پروں کو پھڑپھڑانے لگی اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔ آپؐ نے پوچھا اس کا بچہ پکڑ کر کس نے اس کو تکلیف دی؟ اس کا بچہ اس کو دیدو۔ اور آپؐ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جس کو ہم نے جلا دیا تھا آپؐ نے پوچھا کہ یہ کس نے جلایا؟ ہم نے کہا ہم نے جلایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کسی کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ آگ سے تکلیف پہنچائے سوائے آگ کے مالک کے۔